مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 4 از 13

رہے اہل سنت! تو ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اہل شیعہ نے امام باقر ابو جعفر کے اوپر جھوٹ باندھا ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ سیدنا علیؓ اپنی خلافت کے دوران صرف اسی قرآن پاک پر عمل کرتے تھے جو اس کو ان کے بھائی سیدنا عثمان غنیؓ نے جمع کیا اور ملکوں میں پھیلایا۔ ان کے زمانے سے لیکر آج تک وہ قرآن ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ کارنامہ اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے جو حضرت عثمانؓ کے حصہ میں آیا ہے اور اگر حضرت علیؓ کے پاس کوئی اور قرآن ہوتا تو اپنی خودمختار حکومت میں اس قرآن کو نافذ کرتے اور مسلمانوں کو حکم کرتے کہ دنیا میں اس قرآن کو پھیلاؤ اور اس کے مطابق عمل کرو اور اگر مصحف عثمانی کہ علاوہ کوئی قرآن حضرت علیؓ کے پاس تھا مگر انہوں نےاس کو چھپائے رکھا تو آپ نے اللہ اس کے رسول اور دین اسلامی کے ساتھ خیانت کی ہے کہ اصل قرآن سے انسانیت کو محروم کر دیا۔
جابر جعفی جو اس مجرمانہ بات کے سننے کا دعویدار ہے اگرچہ اہل شیعہ کے ہاں ثقہ اور معتبر آدمی ہیں مگر اہل سنت کے ہاں جھوٹا ہونے میں شہرت یافتہ ہے۔

ابو یحییٰ الحمانی امام اعظم ابو حنیفہؒ کا قول نقل کرتے ہیں:

کہ میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں حضرت عطا سے زیادہ بہتر آدمی نہیں دیکھا اور جعفی سے زیادہ جھوٹا کسی کو نہیں پایا۔
اسی سلسلہ میں مزید تفصیل کے لئے ملاخط ہو ہمارا مقالہ مجلۃ الازہر صفح 307 سنہ1372ھ

دوسری روایت: جعفی کی روایت سے بھی یہ دوسری روایت زیادہ جھوٹی ہے جسے امام باقرؒ کے فرزند امام جعفر صادقؒ پر ابو بصیر نے باندھا ہے۔ (کتاب الکافی: صفحہ 57 مطبوع ایران سنہ1278ھ )۔

ابو بصیر کہتا ہے کہ میں ابو عبداللہ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے یعنی ابوعبداللہ جعفرصادق نے فرمایا:
وان عندنا المصحف فاطمۃ علیھا السلام

کہ ہمارے پاس فاطمہ علیہا السلام کا قرآن ہے

قال قلت وما مصحف فاطمہ قال مصحف

​​میں نے عرض کیا کہ یہ فاطمہ کا قرآن کیا ہے
فیہ مثل قرآنکم ​ھذا ثلاث مرات واللہ ما فیہ​​تو

آپ نے فرمایا وہ قرآن تمہارے اس قرآن

من قرآنکم حرف واحد۔ ​​​​​کے تین گنا ہے (یہ قرآن 30 پارے ہے تو وہ قرآن 90 پارے ہوا)اور خدا کی قسم اس قرآن میں تمہارے اس قرآن کا ایک حرف بھی نہیں ہے
(کافی مطبوعہ ایران سنہ1381ھ کے صفحہ238 پر یہ روایت ہے۔)

آئمہ اہل بیت پر یہ شیعہ کی جھوٹی روایتیں پرانی ہیں۔

محمد بن یعقوب کلینی الرازی نے ایک ہزار برس پہلےان کو اپنے اسلاف سے جمع کیا ہے جو شیعہ مذہب کی عمارت کے مہندس نقشہ بنانے والے اور بنیاد رکھنے والے تھے۔ جن ایام میں اسپین پر عرب مسلمانوں کی حکومت تھی، تو امام ابو محمد بن حزم عیسائی پادریوں سے ان کی مذہبی کتابوں کے بارے میں مناظرے کرتے تھے اور دلائل و براہین ان کی تحریف و تبدیلی کو پیش کرتے تو عیسائی مناظر مقابلے میں دلیل پیش کرتے کہ شیعہ علماء نے قرآن کو بھی تو محرف ثابت کیا ہے۔ تو علامہ ابن حزم نے جواب دیا کہ شیعہ کا یہ دعویٰ نہ قرآن پر حجت ہے نہ اہل اسلام پر۔ اس لئے کہ جس شخص کا قرآن کی تحریف کا عقیدہ ہو وہ مسلمان نہیں کافر ہے۔ تو کافر کا قول قرآن پاک پر کیسے حجت ہو سکتا ہے۔ ملاخط کیجیے۔

(کتاب الفصل فی الملل والخل لابن حزم: جلد 2 صفہ 78 نیز جلد 4 صفہ 182 الطبقہ الاولیٰ قاہرۃ)۔

حاکموں کے بارے میں انکی رائے: سب سے خطرناک حقیقت جس کی طرف ہم اسلامی حکومتوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ مذہب شیعہ اثنا عشریہ کی بنیاد جس پر قائم ہے وہ یہ عقیدہ ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کے دنیا سے کوچ فرمانے کے بعد سوائے حضرت علیؓ کے دور کی تمام کی تمام شرعی حکومتیں ہیں اور کسی شیعہ کے لئے جائز نہیں کہ ان کو حکومتوں کی محبت سے تابعداری کرے اور صمیم القلب سے اسے انہیں تسلیم کرے بلکہ ملمع سازی کرتے ہوئے ان کو اندھیرے میں رکھے اور تقیہ سے کام لے۔ اس لئے جتنی حکومتیں گزر چکی ہیں یا اب ہیں یا آئندہ ہونگیں وہ تمام کی تمام غاصب حکومتیں ہیں۔ شیعہ مذہب میں شرعی حکام جنہیں صمیم قلب سے تسلیم کرنا چاہیے وہ صرف بارہ امام ہیں خواہ انہیں حکومت کا موقع ہاتھ آیا ہو یا نہ آیا ہو اور ان کے علاوہ وہ حضرات بھی مسلمانوں کے مصالح کہ ذمہ دار بنے ہیں۔ (سیدنا) ابوبکر و عمر سے لیکر آج تک ہیں یا آئندہ ہونگے کتنی ہی انہوں نے اسلام کی خدمت کی ہو اور کتنی اسلام کی دعوت کے پھیلانے اور کلمۂ حق زمین پر بلند کرنے کے لئے مشقتیں اٹھائی ہوں اور ان کی وجہ سے جس قدر زمین کے رقبے پر اسلام پہنچا ہو وہ سب کے سب فتنہ پردر اور غاصب ہیں۔

شیخیںؓ سے کینہ وعداوت: سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اور تمام ان لوگوں پر جو حضرت علیؓ کے علاوہ حاکم ہوئے ہیں ان پر شیعہ لعنت بھیجتے ہیں اور امام ابوالحسن علی بن محمد بن علی بن موسیٰ کے ذمہ جھوٹ لگاتے ہیں کہ انہوں نے شیعہ کہ ذمہ ضروری کیا کہ وہ (ابوبکر و عمر) کا نام الجبت و الطاغوت رکھیں۔

صفحہ 4 از 13