مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 5 از 13

ان کے جرح و تعدیل میں سب سے بڑی اور مکمل کتاب (تنقیح المقال فی احوال الرجال) مؤلف شیخ الطائفہ جعفریہ علامہ آیت اللہ مامقانی کے جزو اول صفحہ 207 مطبوعہ ایران مطبع مرتضویہ نجف سنہ1352ھ میں تحریر ہے کہ محقق محمد بن ادریس نے کتاب السرائر کے آخر میں نقل کیا ہے کہ کتاب مسائل (مسائل الرجال ومکاتباتہم الیٰ مولانا ابی الحسن علی بن محمد بن موسیٰ علیہ السلام ) اس مجموعہ مسائل محمد بن علی بن عیسیٰ میں ہے کہ میں نے امام موصوف سے غاصب کے بارے پوچھا(جو اہل بیت سے عداوت رکھتا ہے) کیا اس کے امتحان کے لئے اس سے زیادہ کسی بات کی ضرورت ہے کہ وہ الجبت و الطاغوت یعنی ابوبکر و عمر کو (حضرت علی) سے مقدم سمجھتا ہے (جبکہ شیخیں حضورﷺ کے دوست اور وزیر تھے نیز قبر مبارک کے ساتھی ہیں) اور ان دونوں کی امامت کا اعتقاد رکھتا ہو؟ تو جواب آیا کہ جس کا عقیدہ یہ ہے وہ ناصبی ہے یعنی اہل بیت سے عداوت رکھنے والا ہے۔
اور جبت و طاغوت کے الفاظ کو شیعہ اپنی دعاؤں میں استمال کرتے ہیں اور نیز (صنمی قریشی) قریش کے دو بت اور اس سے مراد لیتے ہیں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو یہ دعا، ان کی کتاب مفتاح الجنان صفحہ 114 پر ہے یہ کتاب ان کے لئے ایسی ہے جیسے اہل سنت کے ہاں دلائل الخیرات ہے۔ اس کی عبارت حسب ذیل ہے۔ اللہم صلی علی محمد وعلیٰ آل محمد العن صنمی قریش وجیتیھما وطاغوتیھما واہنتیھما۔۔۔۔۔ الخ
جبت و طاغوت کہ کر وہ شیخین پر لعنت کرتے ہیں اور ابنتیہما سے ان دونو ں کی صاحبزادیاں ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ اور ام المؤمنین حفصہؓ کو قصد کرتے ہیں۔

قاتلِ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی تعظیم: ان کی شقاوت انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایران میں مجوسیت کی آگ کو بجھانے والے اور ایرانیوں کے اسلام میں داخل ہونے کے لئے جو شخصیت یعنی سیدنا فاروق اعظمؓ ذریعہ بنے ہیں ان کے قاتل ابو لولو مجوسی کو وہ بابا شجاع الدین کے نام سے پکارتے ہیں۔ علی بن مظاہر نے احمد بن اسحٰق القمی الاحوص شیخ شیعہ سے نقل کیا ہے کہ عمر کے قتل کا دن عید لاکبر بڑی عید اور فخر کا دن ہے جو خوشیاں منانے اور بڑی پاکیزگی برکت اور تسلی کا دن ہے۔

عجیب عدالت: سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے لیکر صلاح الدین ایوبیؒ تک اور ان کے علاوہ وہ تمام مجاہدین جنہوں نے اسلام کے لئے ممالک کی سرزمین کو فتح کیا اور لوگوں کو خدا کے مبارک دین میں داخل کیا اور جو آج تک اسلامی حکومتوں میں حاکم ہیں۔ یہ شیعہ عقائد میں غاصب، ظالم اور جہنمی ہیں اور شیعہ کی طرف سے دوستی محبت اور اطاعت کے مستحق نہیں۔ البتہ مالی تعاون اور عہدے حاصل کرنے کے لئے عقیدہ تقیہ (نفاق) سے کام لے سکتے ہیں وہ ان کے بنیادی عقائد میں سے ہے کہ جب امام مہدی بارہویں امام کا ظہور ہوگا (جو ان کے عقیدہ کے مطابق زندہ غار میں مخفی ہے) اس کے انتظار میں ہیں کہ ان کے ساتھ مل کر ہم انقلاب برپا کریں۔ جب (اس امام ) کا ذکر اپنی کتابوں میں کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ عجل اللہ فرجہ خدا اس کو جلد بھیجے جب وہ امام مہدی طویل نیند سے بیدار ہوگا جس کو گیارہ سو سال سے زیادہ وقت ہو چکا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اور اس کے باپ دادوں کے لئے تمام گزرے ہوئے مسلمان حاکموں کے ساتھ اس دور کے حاکموں تک سب کو زندہ کرے گا۔ ان سب کے آگے جبت و طاغوت (ابوبکر و عمر) ہوں گے تو امام ان سے اپنی اور گیارہ دیگر اماموں سے حکومت غصب کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ اس لئے کہ رسول اللہﷺ کی دنیا سے رحلت کے بعد قیامت تک حکومت کرنے کا حق صرف ان (آئمہ) کا ہے کسی اور کا نہیں۔ ان غاصبوں کے خلاف فیصلے کے بعد ان سے انتقام لیا جائے گا اور اکٹھے پانچ صد کو تختہ دار پر لٹکایا جائیگا۔ یہاں تک کہ مختلف دوروں میں حکومت کرنے والے حکام کے تین ہزار مردوں کی تعداد کو قتل کیا جائے گا اور یہ قیامت کے وقوع سے پہلے ہوگا۔ پھر ان کے قتل ہونے کے بعد محشر کی بڑی بعثت کا دن آئے گا پھر لوگ جنت یا جہنم کو جائیں گے۔ جنت اہل بیت کے لئے اور ان لوگوں کے لئے ہوگی جو یہ عقائد رکھتے ہیں اور شیعہ کے علاوہ بقیہ تمام کو جہنم میں ڈالا جائیگا۔ شیعہ مذہب والے اس احیاء زندہ کرنے اور کورٹ اور قصاص کا نام (رجعت) کھتے ہیں اور یہ ان کے بنیادی عقائد میں سے ہے جس کے بارے میں کسی شیعہ کو کوئی شبہ نہیں۔ بعض نیک دل سادہ لوح سنیوں کو دیکھا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اس زمانے کے شیعہ ان عقائد کو چھوڑ چکے ہیں۔ یہ ان کی صریح غلطی اور واقعہ کے بلکل خلاف ہے (مزید تفصیل بمعہ حوالہ آگے آرہی ہے)۔

شیعہ سے کمیونزم کی طرف: صفوی حکومت سے لے کر آج تک شیعہ ان عقائد پر قائم ہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ سخت ہیں ہاں وہ شیعہ جو جدید تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان خرافات سے مخفر ہو کر کمیونزم کی طرف جا رہے ہیں۔ چناچہ عراق میں کمیونسٹ پارٹی اور ایران کی تورہ پارٹی کا اقوام ابنائے شیعہ ہی سے بنا ہے۔ جب ان پر ان خرافات کی حقیقت کھلی تو وہ سرے سے خدا کی ہے منکر ہو کر کمیونسٹ ہو گئے اور ان میں کوئی بھی حد اعتدال پر قائم نہں رہا۔ البتہ اپنی مذہبی اغراض کے لئے یا سیاسی چالوں کے لئے یا پارٹی مفاد کے لئے دوستی کا مظاہرہ کریں اور تقیہ کے بنیاد پر بغض کو مخفی رکھیں تو اور بات ہے۔ یہ عقیدہ (رجعۃ) ان کی معتبر کتابوں میں ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کے سامنے شیخ الشیعہ ابو عبداللہ محمد بن نعمان المعروف الشیخ المفید کا قول پیش کرتا ہوں جسے انہوں نے اپنی کتاب (الرشاد فی حجج اللہ علی العباد ) کے 402 سے398 پر پیش کیا ہے۔ یہ کتاب ایران میں لیتھو پر چھپی ہے اس پر تاریخ طباعت درج نہیں ہے اس کی کتاب محمد علی محمد حسن الکلبا بکاتی نے کی ہے۔

صفحہ 5 از 13