مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 6 از 13

انتقام و تباہی کی خواہش: فضل بن شاذان نے محمد بن علی کوفی سے اس نے وہب بن حفص سے روایت کی ہے کہ ابو عبداللہ یعنی امام جعفر صادق نے فرمایا کہ (القائم ) کے نام کیذ منادی کی جائیگی (یاد رہے القائم وہ بارہویں امام ہیں جو گیارہ سو سال سے پیشتر پیدا ہوئے اور ان پر موت نہیں آئی وہ زندہ ہیں) وہ قائم ہوں گے اور فیصلہ کریں گے وہ یوم عاشور میں کھڑے ہونگے اور تئیسویں کی رات کو امام القائم کے نام سے منادی کی جائے گی۔ میں ان کے ساتھ رکن اور حجراسود کے درمیاں کھڑا ہوں گا جبرئیل ان کی دائیں طرف ہونگے اور آواز لگا رہے ہونگے (البعیۃ اللہ) اللہ کے لئے بیعت کرو پس زمین کے کناروں سے شیعہ ان کی طرف چلیں گے اور زمین ان کے لئے سیکڑ دی جائے گی اور وہ تمام کے تمام بیعت کرینگے اور منقول ہے کہ وہ مکہ مکرمہ سے چل کر کوفہ آئیں گے اور ہمارے نجف میں آ کر سکونت پذیر ہونگے اور پھر یہاں سے ہر طرف شہروں میں لشکر روانہ کریں گے۔

اور روایت کیا حجال نے ثعلبہ سے اس نے ابوبکر حضرمی سے اس نے ابوجعفر علیہ السلام سے یعنی امام محمد باقر سے انہوں نے فرمایا کہ میں امام القائم کے ساتھ نجف میں ہونگا۔ اور مکہ مکرمہ سے پانچ ہزار فرشتے ان کے ساتھ آئیں گے۔ جبرئیل القائم کے دائیں ہونگے اور میکائیل بائیں اور مؤمنین ان کے سامنے ہونگے اور یہاں سے وہ شہروں میں لشکر روانہ فرمائیں گے۔ عبدالکریم جعفی روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق سے پوچھا کہ القائم علیہ السلام کی حکومت کتنا عرصہ رہے گی تو انہوں نے فرمایا سات سال اور دن طویل ہو جائیں گے۔ ایک سال تمھارے دس سالوں کے برابر ہو جائیگا۔ پس امام القائم کی حکومت تمھارے سالوں کی شمار سے ستر سال بنے گی۔ ابو بصیر نے دریافت کیا کہ میں آپ پر قربان ہو جاؤں اللہ تعالیٰ سالوں کو کیسے طویل کر دے گا؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسمان کو ٹھہر جانے کا حکم دے گا ​اور تھوڑی حرکت کی اجازت دے گا تو دن طویل ہو جائیں گے تو اسی نسبت سے سال بھی طویل ہو جائیں گے۔ جب اسکے آنے کا وقت قریب آئیگا تو پوری جمادی الثانی میں اور دس دن رجب کے بھی مسلسل بارشیں ہونگی۔ ایسی بارش مخلوق نے کبھی دیکھی نہیں ہوگی تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے بدنوں پر گوشت اگا دیں گے۔ گویا میں ان کے اٹھنے کو اور سروں سے مٹی جھاڑنے کو دیکھ رہا ہوں۔
عبداللہ بن مغیرہ نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ جب آل رسول علیہ السلام میں امام القائم کھڑے ہونگے تو وہ قریش کے پانچصد کو کھڑا (زندہ) کریں گے اور ان کی گردنیں اڑا دینگے۔ پھر اور پانسو کو یہاں تک کہ چھ مرتبہ ایسا کرینگے تو عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ کیا ان کی اتنی تعداد ہو جائیگی (یہ تعجب اس لئے تھا کہ خلفائے راشدین، بنی امیہ، بنی عباس اور تمام حکام مسلمین کی مجموعی تعداد امام جعفر تک اس عدد کے عشر عشیر بھی نہیں ہو سکتی) تو امام جعفر نے فرمایا کہ ہاں ان سے اور ان کے ساتھ دوستی رکھنے والوں سے یہ تعداد پوری کی جائیگی۔
ایک روایت میں فرمایا کہ ہماری حکومت آخری حکومت ہوگی۔ تمام دنیا کے حکام ہم سے پہلے حکومتیں کر چکے ہونگے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ جب ہماری حکومت آئیگی تو ہم اہل بیت کی حکومت کا نمونہ اختیار کرینگے۔
جعفر جعفی ابو عبداللہ امام جعفر صادق سے روایت کرتے ہیں کہ جب امام القائم آل محمد آئیں گے تو وہ خیمے لگوائیں گے اور قرآن پاک کو اتارا گیا ہے اس کی تعلیم دینگے پس بہت مشکل آۓ گی ان لوگوں پر جنہوں نے آج قرآن یاد کیا ہے (یعنی جس نے مصحف عثمانی کو یاد کیا ہوگا جو امام جعفر کے زمانہ میں تھا اس لئے کہ وہ قرآن جس کو امام القائم پڑھائیں گے وہ اس کے خلاف ہوگا)۔
اور عبداللہ بن عجلان نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ جب قائم آل محمد آئیں گے تو لوگوں پر داؤد علیہ السلام والی حکومت کرینگے اور مفصل ابن عمر نے ابو عبداللہ سے روایت کی ہے کہ امام القائم کے ساتھ کوفہ میں ستائیس مرد موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے ظاہر ہونگے اور سات اصحاب کہف کے اور یوشع بن نون و سلیمان ابودجانہ الانصاری مقداد اور مالک اشتر، پس یہ تمام لوگ امام القائم کے انصار اور انکے ماتحت حکام ہوں گے۔
یہ عبارتیں حرف بحرف پوری ایمانداری کے ساتھ شیعہ کے علماء میں سے ایک بڑے عالم کی کتاب سے نقل کی گئی ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ شیخ مفید کی روایات سندوں کے ساتھ جھوٹی اور بلاریب اہل بیت پر افتراء ہیں اہل بیت پر جو مصیبتیں آئی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ اس قسم کے شیعہ اہل بیت کے خواص میں سے ہیں۔ شیخ مفید کی یہ کتاب ایران میں چھپی ہے اور اس کا نسخہ محفوظ اور موجود ہے۔

رجعت کا عقیدہ: اور جبکہ عقیدہ رجعت اور حکام اہل اسلام کے خلاف محاکمہ شیعہ کے اساسی عقائد میں سے ہے اسی عقیدہ کی وجہ سے ان کے ایک عالم سید مرتضیٰ مؤلف کتاب " امالی المرتضیٰ " (یہ شریف رضا شاعر کا بھائی ہے اور نہج البلاغہ میں جھوٹے اضافے کرنے اور صحابہ پر حملہ کرنے میں شریک ہے)

اس سید مرتضیٰ مذکور نے اپنی کتاب "المسائل" میں لکھا ہے کہ ابوبکر و عمر اس محاکمہ کے دن امام مہدی کے دور میں ایک درخت پر لٹکا کر پھانسی دیے جائیں گے۔ درخت پہلے ہرا ہوگا اور ان کے مصلوب ہونے کے بعد سوکھ جائے گا۔

ان کے افکار میں کوئی تبدیلی نہیں: شیعہ علماء اور مشائخ ہر دور میں شیخینؓ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں اور وزیروں کے اور اسلام کی معروف شخصیتوں، خلفاء، حکام، مجاہدین کے بارے میں ان گھناؤنے اور رسواکن خیالات سے آگاہ ہیں۔ ہم نے ایک اتفاق و اتحاد کے عظیم داعی کو سنا ہے کہ شیعہ کی طرف سے دارالتقریب کی ذمدار شخصیت ہیں اور ادارے پر خرچ اٹھا رہے ہیں ہمارے ان احباب کو جن کے پاس ان کے مسائل کو پڑھنے کا وقت نہیں ہے انہیں باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ یہ عقائد ماضی کی باتیں تھیں۔ اب حالات بدل چکے ہیں اب ان عقائد سے شیعہ کو کوئی سروکار نہیں حالانکہ یہ خیال سراسر جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ اس لئے کہ جو کتابیں ان کی درس گاہوں میں پڑھائی جاتی ہیں اور ان کی تعلیم کو ضروریاتِ مذہب اعتبار کیا جاتا ہے۔

صفحہ 6 از 13