مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 7 از 13

اور وہ کتابیں ہیں جنہیں علماء نجف و ایران اور جبل عامل وغیرہ ہمارے اس دور میں شائع کر رہے ہیں ان قدیم کتابوں سے زیادہ شرانگیز اور مفاہمت اور اتفاق کی عمارت کو گرانے والی ہیں۔
ہم آپ کے سامنے ایک تازہ مثال ایسے شخص کی پیش کرتے ہیں جو اتحاد کی دعوت میں بہت پیش پیش ہے اور صبح و شام واحدت و توافق کا درد کرنے والا ہے۔ یہ شیخ محمد بن محمد مہدی الخالصی ہے۔ جس کے مصر اور دیگر شہروں میں بہت دوست ہیں جو اس ادارے میں شریک ہیں اور اس شخص کی طرف سے اہل سنت میں کام کر رہے ہیں۔ اس اتحاد کے داعی کا یہ حال ہے کہ شیخینؓ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو نعمت ایمان سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ اپنی تصنیف (احیاء الشرعیہ فی مذہب الشیعۃ) جزو اول صفحہ 23-24 میں لکھتا ہے:
اور اگر یہ کہیں کہ ابوبکرؓ و عمرؓ بیعتِ رضوان والوں میں سے ہیں جن سے اللہ کے راضی ہونے پر قرآنی نص موجود ہے۔ "لقد رضی اللہ عن المومنین اذ یبا یعونک تحت الشجرۃ" تو ہم جواب میں کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہوتا "لقد رضی اللہ عن الذین یبایعونک "(بےشک اللہ راضی ہوا ان لوگوں سے جنھوں نے آپ سے بعیت کی درخت کے نیچے یا ان لوگوں سے جنھوں نے آپ کی بعیت کی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا عن المومنین میں ایمان والوں سے راضی ہوا تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ صرف ان سے راضی ہے جن کا ایمان خالص ہے۔

تاریخ پر جھوٹ: تاریخ اسلامی پر اس سے زیادہ اور جھوٹ کیا ہو سکتا ہے اسکا مطلب یہ ہوا کہ شیخین (حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ) خالص ایمان والے نہیں تھے۔ اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے اعلان میں شامل نہیں ہوسکتے۔ یہ دونوں شیعہ عالم ہمارے ہمعصر ہیں اور اتفاق و اتحاد کے لمبے چوڑے دعوے کرنے والے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کی اصلاح اور باہمی ایکا اور وحدت کے لئے فکرمند ہیں ان کا یہ حال ہے کہ اپنے اس دور کی تالیفات اور مطبوعات میں حضرات شیخین کے بارے میں کس عقیدے کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ شیخین تاریخ اسلام اور اہل اسلام کے رسول اللہ علیہ السلام کے بعد خیرالمسلمین شمار ہوتے ہیں۔ پس ہم لوگ ان حالات میں مختلف مذاہب کے درمیان مفاہمت اور اتحاد کے لئے ان لوگوں سے کیا امید رکھ سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کے قلعہ میں(پانچویں ناقارہ) طابور خامس کا کام کر رہے ہیں جو دشمن کو باخبر کرنے کے لئے جاسوسی کے طور پر نقارہ بجایا جاتا ہے۔

اور جب یہ لوگ اصحابِ رسولﷺ اور تابعین محسنین اور تمام حکام مسلمین کو جو ان کے بعد ہوئے اس درجہ تک نیچا دکھانا چاہیں (ان کو بےایمان ثابت کریں) باوجود اس کے کہ یہی وہ حضرات ہیں جنہوں نے اسلام کے اس محل کو کھڑا کیا ہے اور آج ہم جسے عالم اسلامی کہتے ہیں اس کو وجود میں لائے ہیں۔

آئمہ پر الزاماماموں کے ذمہ ان امور کو یہ لوگ لگا رہے ہیں جن سے انہوں نے برأت کی۔ کلینی نے اپنی کتاب کافی میں بارہ اماموں کی نعت و توصیف کی ہے جس سے ان کو مقامِ بشریت سے اونچا لے جا کر یونانی معبودوں کے بت پرستی کے دور تک پہنچایا ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ کافی اور دیگر شیعہ مذہب کی معتبر کتابوں کے حوالے نقل کریں تو یہ ایک نہایت ضخیم کتاب بن جائے گی اس لئے ہم صرف ابواب کے عنوان عبارت ہی کو بحرف کافی نقل کرتے ہیں۔

ب1: الائمتہ یعلمون جمیع العلوم التی خرجت الی الملائکۃ والانبیاء والرسول۔(الکافی: صفحہ 255)

امام ان تمام علوم کو جانتے ہیں جو ملائکہ انبیاء علیہم السلام اور رسولوں کو دیے گئے ہیں۔

ب2: ان الائمۃ یعلمون متی یموتون وانماھم یموتون باختیارھم۔ (الکافی: صفحہ 258)
امام جانتے ہیں کہ کب مریں گے اور وہ اپنے اختیار سے مرتے ہیں۔
ب3: وان الائمۃ یعلمون علم ماکان وما یکون وانہ لایخفیٰ علیھم شیئ۔(الکافی: صفحہ 260)
اور امام جو ہو چکا ہےاور جو آئندہ ہونے والا ہے اس سب کو جانتے ہیں ان پر کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔
ب4: ان الائمۃ عندھم جمیع الکتب یعرفونھا علی اختلافِ السنتھا (الکافی: صفحہ 227)
اماموں کے پاس تمام کتابیں ہیں ان کے باوجود زبانوں کے مختلف ہونے کو وہ جانتے ہیں۔
ب5: وانہ لم یجمع القرآن الا الائمۃ وانھم یعلمون علمہ کلہ۔(الکافی: صفحہ228)
کسی نے جمع نہیں کیا اور وہی اس کے سارے علم کو جانتے ہیں۔
 ب6: ما عند الائمۃ من آیات الانبیاء۔ (الکافی: صفحہ 231)
اماموں کے پاس نبیوں والے معجزات ہیں۔
ب7: وان الائمۃ اذا ظھر امرھم حکوابحکم داؤد وآلِ داؤد ولایسئلون البنیۃ۔ (الکافی: 297)
امام جب غالب آئیں گے تو داؤد اور آل داؤد کے حکم پر فیصلہ کریں گے اور وہ کسی سے گواہ کا نہیں پوچھیں گے۔
ب8: انہ لیس شیئ من الحق فی ایدی الناس الاماخرج من عند الائمۃ۔(الکافی: 399)

اور یہ لوگوں کے پاس کوئی چیز حق کی سوائے اس کے نہیں ہے جو اماموں سے نکلی ہے۔

 ب9: وان کل شیئ لم یخرج من عندھم وھو باطل ان الارض کلھا المام۔ (الکافی: صفحہ 407)
اور جو چیز اماموں سے نہیں ظاہر ہوتی وہ باطل ہے۔ زمین ساری کی ساری امام کے لئے ہے۔

شروعات حاشیہ از مترجم: مولانا موصوف نے اختصار کی وجہ سے چند حوالے دیے ہیں ورنہ اماموں کے بارے میں شعیہ کے عقائد عجیب و غریب ہیں چند حوالے مزید ملاخطہ فرما دیں جن پر تبصرہ کی ضرورت نہیں۔

1: ابوجعفر کہتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت علی نے فرمایا کہ: میں ہی اللہ کا منہ ہوں اور میں ہی اللہ کا پہلو اور میں ہی اللہ کا دل ہوں اور میں ہی ظاہر ہوں اور میں ہی باطن ہوں اور میں ہی ساری دنیا کا وارث ہوں۔ میں ہی سبیل اللہ ہوں۔(بحارالانوار: جلد 9 صفحہ 506)۔

2: آدم علیہ السلام سے لیکر رسول اکرمﷺ تک سارے پیغمبر زندہ ہونگے اور سب کے سب امام صاحب کے دشمنوں سے جہاد کریں گے(حق الیقین مطبوعہ ایران صفحہ 387 مصنفہ ملا باقر مجلسی)
3: (حضور علیہ السلام اور سیدنا علی زندہ امام مہدی کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ (حق الیقین صفحہ 398)
ذرا اس ہستی کے چند کارنامے بہی سن لیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ جس کے ہاتھ پر حضور علیہ السلام بعیت کریں گے اور تمام انبیاء علیہ السلام اس کے سامنے لڑائی کریں گے۔ فتح کے بعد کیا فیصلے کریں گے اور کس طرح جشن فتح منائیں گے

صفحہ 7 از 13