مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 8 از 13

رجت ایام میں اہل بیت سے حقوق غصب کرنیوالوں کو درختوں پر لٹکا کر نیچے آگ جلا کر ان کو جلایا جائے گا اور انکی خاکستر دریا میں اڑائی جائیگی(حق الیقین: صفحہ 415)

اہل بیت پر ظلم کرنیوالوں کو رات دن میں ہزار مرتبہ قتل کیا جائے گا۔ (حق الیقین: صفحہ415)

اہم کارنامہ: فرعون ہامان یعنی ابوبکر و عمر اور ان کے لشکر کو زندہ کر کے سزادی جائیگی (حق الیقین: صفحہ 393)

سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو سزا: اسی کتاب حق الیقین کی سطررعہ 1 صفحہ 394 : چوں قائم ماظاہر شودعائشہ زندہ کنذتاکہ براوحد بیزنندوانتقام فاطمہ رابکشد"

ترجمہ امام مہدی ظاہر ہونگے۔ عائشہ کو زندہ کریں گے تاکہ ان پر حد جاری کریں اور فاطمہ کا انتقام لیں صفحہ 412 تا 415 بحوالہ اہل سنت پاکٹ بک مؤلف علامہ دوست محمد قریشی مرحوم) ان کارناموں کیلئے امام کا انتظار ہے۔ حاشیہ ختم از مترجم

اماموں کے غیب دان ہونے کا دعویٰ 

اور حضور علیہ السلام کی وحی کا انکار: اپنے بارہ اماموں کے بارے میں غیب دان اور فوق البشر ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں جبکہ ائمہ میں سے کوئی بھی اس کا مدعی نہ تھا اور جناب رسول اللہ علیہ السلام پر علوم غیبیہ میں سے جو وحی کیا گیا ہے اس تک کا انکار کرتے ہیں جیسے:

آسمانوں کو بنانا اور زمین بچھانا جنت اور جہنم کے حالات وغیرہ وغیرہ۔
ان کے ایک ماہنامہ میں جس نے دارالتقریب (یعنی شیعہ سنی مفاہمت کا ادارہ) مصر قاہرہ سے شائع کرتا ہے۔ سال چہارم کے چوتھے پرچہ کے صفحہ  386 پر رئیس محکمہ شرعیہ شیعہ لبنان (جسے علماء مصر کی اوچی شخصیت سمجھتے ہیں) نے ایک مقالہ لکھا ہے جس کا عنوان ہے:
من اجتھادات الشیعۃ الامامیہ
اس میں مذہب شیعہ کے ایک مجتہد شیخ محمد حسن الاشتیانی کی کتاب بحرالفوائد جلد 1 صفحہ 267 سے نقل کیا ہے۔
ان الرسول اذا اخبر عن الاحکام​ بےشک رسول جب خبر دے احکامِ شرعیہ​ الشرعیۃ ای مثل نواقض الوضوء​کے بارے میں مثل نواقص وضو اور حیض ونفاس واحکام الحیض و النفاس ​​کے مسائل کے تو اس کی تصدیق واجب یجب تصدیقہ والعمل بما ​​ہے۔ اور جب نبی خبر دے اخبریہ واذا خبرعن الامور​​مخفی امور کی جیسے آسمان و زمین کی پیدائش الغیبیۃ مثل خلق السمٰوت   ​​کے بارے میں اور جنت کی حوروں اور اس الارض والاحور والقصور ​​کے محلات کے بارے میں تو اس کا صحیح علم ہو

فلایجبٰ التدین بہِ بعد العلم بہِ  

​​جاننے کے باوجود اسکو ماننا اور تصدیق کرنا واجب نہیں ہے۔

کس قدر افسوسناک بات ہے ائمہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں کہ وہ غیب دان تھے اور اس سفید جھوٹ پر تو ایمان رکھتے ہیں حالانکہ یہ نسبت بھی قطعی الثبوت نہیں اور ان علوم غیبیہ کی وحی جو حضور علیہ السلام سے قطعی الدلالت کے طور پر ثابت ہو چکی جیسے وہ آیات اور احادیثِ صحیحہ جو آسمان اور زمین کی پیدائش اور جنت و جہنم، حور و قصور کے بارے میں صادر ہوئی ہیں ان پر ایمان شعیہ کے لئے کوئی ضروری نہیں حالانکہ جناب خاتم النبین علیہ السلام کی تو یہ شان ہے کہ کوئی بات بھی اپنی خواہش سے نہیں فرماتے ہیں وہ وحی ربانی ہوتی ہے وما ینطِقُ عَنِ الھوٰی اِن ھُوَ اِلاوَحیٌ یُوحیٰ ۔ جو شخص اس (بزرگی) کی نسبت کو نکالے جو وہ اپنے اماموں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور جو حضور علیہ السلام کے لئے قرآن وحدیث میں ثابت ہے تو وہ اس کی بہت تھوڑی سی مقدار کو بھی نہیں پہنچ سکتی اس کے باوجود وہ اپنے اماموں کے لئے علم غیب ثابت کرتے ہیں جبکہ وحی الہٰی کی آمد زمین سے منقطع ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ تمام وہ اشخاص جو ائمہ سے غیب کی خبروں کی روایت کرنے والے ہیں وہ ائمہ جرح و تعدیل اہل سنت کے ہاں وہ جھوٹ میں معروف ہیں لیکن ان کے متبعین شیعہ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ ان کی کذب بیانی اور اختراعی روایات کے باوجود ان کو سچا سمجھتے ہیں اور عین اسی دوران ان ماہنامہ رسالہ السلام جسے دارالتقریب شائع کر رہا ہے اس میں محکمہ قضا علیہ شرعیہ شیعہ کا قاضی اور مجتہد محمد حسن الا شتیانی تالیوں کی گونج میں علانیہ کر رہا ہے کہ امور غیبیہ کے بارے میں رسول اللہ علیہ السلام کی وحی کی تصدیق واجب نہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ رسول علیہ السلام کا مشن صرف اتنا ہو کہ وہ وضو اور حیض و نفاس کے مسائل بتلائیں۔

اماموں کا مقام رسول علیہ السلام سے بڑھ کر ہے: ائمہ کا مقام رسول علیہ السلام سے اونچا بتلا رہے ہیں کہ ان حضرت پر بھیجی ہوئی وحی وضو وغیرہ فقہی جزئیات کے علاوہ واجب التسلیم نہیں اور ائمہ نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہمارے اوپر وحی نازل ہوئی ہے اسکے باوجود انہیں رسول اللہ علیہ السلام سے زیادہ مقام دے رہے ہیں (جیسے پہلے ذکر ہو چکا ہے) اب ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اس کے بعد ہمارے اور ان کے درمیاں اتفاق و اتحاد کا کونسا ذریعہ باقی ہے۔

اسلامی حکومتوں کے ساتھ ان کا موقف: تاریخ کے تمام ادوار میں یہ بات ملتی ہے کہ جمہور شیعہ کے خواص و عام کا اسلامی حکومتوں کے ساتھ یہ موقف رہا ہے کہ اگر حکومت مستحکم اور طاقتور ہے تو عقیدہ تقیہ پر عمل کرتے ہوئے زبانی تملق و چاپلوسی سے کام لیتے تاکہ اس سے مالی فائدے حاصل کیے جا سکیں اور اپنے مراکز قائم کیے جا سکیں اور اگر حکومت کمزور پڑ گئی اور کس طرف سے اس پر دشمنوں کا حملہ ہوا تو یہ دشمنوں میں جا گھسے اور حکومت پر ٹوٹ پڑے۔ یہی پوزیشن تھی ان کی اموری حکومت کے آخری دور میں ان کے خلفاء پر انکے چچازاد بھائیوں بنی عباس نے انقلاب برپا کیا۔ بلکہ یہ انقلاب شعیہ کی سازشوں اور دسیسہ کاریوں سے وجود میں آیا اور پھر یہی ان کی مجرمانہ پالیسی عباسیوں کے ساتھ بھی رہی۔

صفحہ 8 از 13