مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 9 از 13

جب ہلاکو خان اور مغل بت پرست خلافت اسلامیہ کے اسلامی ثقافت و علوم کے مرکز پر حملہ آور ہوئے تو شعیہ حکیم، عالم، شاعر نصیر طوسی جو عباسی خلیفہ معتصم کی مدح سرائی میں قصیدہ لکھا کرتا تھا۔ سن655ھ میں ہلاکو سفاکی ظالمانہ کاروائیوں میں پیش پیش تھا اور مسلمانوں کے مردوں، عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کے قتل عام سے مسرور تھا اور عالم اسلامی کی قیمتی متاع کتابوں کے دریائے دجلہ میں ڈبو دینے پر رضامندی کا اظہار کر رہا تھا جس سے کئی دنوں تک قلمی مخطوط کتابوں کی سیاہی سے دجلہ کا پانی سیاہ رہا۔ جس سے تاریخ و ادب لغت و شعر اور خاص طور پر اسلام کے پہلے قافلہ کی مصنفات و مؤلفات کا بیشتر حصہ ضائع ہو گیا۔ اس حادثہ سے علوم و معارف کا وہ نقصان ہوا جس کی کوئی نظیر نہیں مل سکتی۔

علقمی اور ابن حدید کی خیانت: شیخ الشیعہ نصیر طوسی کے ساتھ اس عظیم خیانت میں اس کے دو اور ساتھی تھے ایک شیعہ وزیر محمد بن احمد العلقمی اور دوسرا عبدالحمید بن ابی الحدید ہے جو علقمی کا دوستِ راست تھا۔ یہ معتزلی مؤلف جو شیعوں سے بھی زیادہ شیعہ تھا اس کی پوری زندگی اصحابِ رسولﷺ کی دشمنی میں گزری ہے اس نے نہج البلاغہ کی شرح لکھی ہے جس کو تاریخ اسلام کو مسخ کرنے والی جھوٹی روایات سے بھر دیا ہے۔ چنانچہ اس سے ہمارے سنیوں کے بہت سارے ذہین و فاضل لوگ بھی دھوکا کھا جاتے ہیں اور ہمارے بعض مؤلفین بھی ان سے دھوکا کھا جاتے ہیں اسلام کی ماضی کے حقائق کھلے ہوئے ہیں اور طوسی نے کہا میں نے تمام مذاہب کا مطالعہ کیا ہے ان کے حالات و فروعات سے واقفیت حاصل کی ہے تمام کو مسئلہ ایمان کے بارے میں مشترک پایا ہے۔ اگرچہ ان میں ثبوت و نفی کی کچھ چیزوں میں اختلاف پایا جاتا ہے مگر سوائے فرقہ امامیہ کے تمام فرقوں میں ایمان کے بارے میں ایک ہی عقیدہ ہے فرقہ امامیہ کے سوا کوئی نجات یافتہ ہو سکے تو تمام فرقے نجات پا جائیں مگر ظاہر ہے کہ نجات پانے والا فرقہ صرف امامیہ شیعہ ہے اور کوئی نہیں۔

نجات کا دارومدار اہل بیت کی ولایت پر ہے: خونساری نے کہا ہے کہ سید نعمت اللہ موسوی نے اس عبارت کے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ تمام فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ شہادتیں یعنی اشھد ان الاالٰہ الااللہ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہُ۔

ان دونوں کے اقرار و تصدیق پر نجات کا دارومدار ہے وہ حضور نبی علیہ السلام کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ من قال لاالہ الا اللہ (محمد رسول اللہ ) دخل الجنتہ یعنی جو شخص کلمہ کا اقرار کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ رہا فرقہ امامیہ تو ان کا اس پراجماع ہے کہ: ان النجاۃ لاتکون الا بولایۃ اھل البیت ال الامام الثانی عشرووالبراءۃمن اعداھم ( ای من ابی بکروعمرالی اٰخر من ینتمی ال السلام من غیر الشعیۃحکاما ومحکومیں فھی مباینۃ الجمیع الفرق فی ھذا الاعتقاد الذی تدور علیہ النجاۃ ۔

کہ نجات نہیں ہو سکتی سوائے اہل بیت کے ولایت کے بارہویں امام تک اور برأت و تبرے کے ان کے دشمنوں سے ( یعنی ابوبکر و عمر سے لیکر اس آخری شخص تک جو اسلام کی طرف منسوب ہوتا ہے سوائے شیعہ کے تمام حکام و محکوم میں اظہار برأت کرے پس یہ ہے وہ مباینت تمام فرقوں سے اس عقیدے کے بارے میں جس پر نجات کا دارومدار ہے۔

تاریخ میں دخل اندازی: ابن علقمی جس نے خباثت و غدر کا مظاہرہ کیا جبکہ خلیفہ مستعصم بااللہ نے درگزر کرتے ہوئے اور مہربانی فرماتے ہوئے اس کو اپنا وزیر بنایا تو اس نے اپنی فطرتی خباثت سے کام لیتے ہوئے احسان کا یہ بدلہ دیا۔

صفحہ 9 از 13