Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قصۂ قرطاس کی حقیقت کیا ہے ؟

  حافظ ثناء اللہ مدنی

قصۂ قرطاس کی حقیقت کیا ہے ؟

سوال۔ اہل تشیع بخاری کی اس حدیث کو عموماً اپنے حق میں پیش کرتے ہیں کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران یہ فرمانا کہ میرے پاس قلم دوات لے آؤ کہ میں آپ کو لکھ دوں مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں قرآن کافی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہذیان میں ایسا کہہ رہے ہیں۔ا س سے اہل تشیع درج ذیل مسائل ثابت کرتے ہیں۔

(1) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا کہنا نہ مان کر گستاخی کی۔

(2) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہذیان میں مبتلا کہہ کر گستاخی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہذیان میں ہونا شان کے خلاف ہے۔

(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد خلافت کے بارے میں لکھنا چاہتے تھے۔

(4) آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو امّی تھے آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ لاؤ میں لکھ دوں؟ لہٰذا حدیث عقل و نقل کے خلاف ہے۔


جواب۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بطورِ شفقت صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کے غلبہ کی وجہ سے روکا تھا۔ لہٰذا یہ گستاخی نہیں۔ علی سبیل التنزل اگر اس کو گستاخی تسلیم کر لیا جائے تو اس میں عمر رضی اللہ عنہ منفرد نہیں تھے بلکہ وہاں کئی ایک صحابہ و اہل بیت موجود تھے۔ وہ سب اس میں شریک ہوں گے۔ نیز تنہا عمر رضی اللہ عنہ پر الزام لگانا بے انصافی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیوں نہ تحریر کروایا۔ جب کہ ان کو قربِ دامادی حاصل تھا۔ فتح الباری وغیرہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے۔ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ کوئی کاغذ لاؤ جو لکھا جائے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے روکنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رُک جانا منصب ِ رسالت کے منافی ہے۔ جب کہ آپ پر تبلیغ فرض ہے۔

اس واقعہ کے بعد چند روز تک آپ زندہ رہے اگر کوئی ضروری تحریر ہوتی تو ضرور لکھوا دیتے۔

2۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقولہ نہیں۔ حدیث کی کسی کتاب میں اس امر کی تصریح موجود نہیں۔ دوسرا ہجر بمعنی ہذیان لینا غیرمتبادر ہے۔ یہ لفظ جدائی کے معنی میں کثیر الاستعمال ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے:

(وَاھْجُرْہُمْ ہَجْرًا جَمِیْلًا) (المزمل:10)

دوسری آیت میں ہے:

(وَاھْجُرُوْہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ) (النساء:34)

تیسری بات یہ ہے ہجر کے بعد استفھموہ کا لفظ موجود ہے جس کے معنی یہ ہیں۔ آپ سے پوچھو تو سہی کیا ارشاد فرماتے ہیں اگر ہجر کے معنی ہذیان کے لیے جائیں تو اس سے استفھموہ کا لفظ  بے ربط اور بے کار ہو جاتا ہے جس کو ہذیان ہو گیا ۔ اس سے پوچھنا خلافِ عقل ہے۔ ثابت ہوا

ہَجَریَھْجُرُ

کے معنی جدائی کے ہیں نہ کہ ہذیان ( فیصلہ حدیث قرطاس،ص:69)

3۔قصۂ قرطاس جمعرات کو پیش آیا۔ بروز سوموار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا۔ اس اثناء میں اگر خلافت کے بارے میں کوئی ضروری تحریر ہوتی تو آپ لکھوا سکتے تھے۔ یا فاتح خیبر حضرت علی رضی اللہ عنہ جراء ت مندانہ اقدام کرکے لکھوا لیتے۔ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت حسن رضی اللہ عنہ امت کی مصلحت کے پیش نظر رضاکارانہ طور پر امورِ خلافت سے مستعفی ہو گئے تھے۔ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ استحقاقِ خلافت اہل بیت کے لیے متعین نہیں۔

4۔ کتابت کی نسبت آپ کی طرف بلحاظ آمر کے تھی۔ قصۂ صلح حدیبیہ میں بھی ایسے الفاظ موجود ہیں۔ وہ نسبت بھی حکم کے اعتبار سے ہے جب کہ فی الواقع کاتب حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔اسی طرح معاملہ یہاں بھی سمجھ لینا چاہیے۔ اس میں ایسی کوئی شے نہیں جو عقل و نقل کے منافی ہو۔

قصۂ قرطاس میں لفظ اھجر کا صحیح مفہوم و مطلب کیا ہے ؟

سوال۔ وفات سے چار دن پہلے نبی کریم پر بیماری کی شدت کی وجہ سے بحرانی کیفیت طاری ہو گئی تھی جس کے زیر اثر انھوں نے فرمایا کہ کاغذ قلم لاؤمیں میں ایسا لکھ دوں کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اَھْجَرَ(اعراب اسی فرقے کے بانی ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی نے لگائے ہیں)


جواب۔ یہ لفظ صحیح اَہَجَرَ فعل ماضی ہے صورت سوال میں اعراب لگایا ہوا لفظ غلط ہے۔

کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ لفظ ہَجَرَ یا یَھْجُرُ حضرت عمر فاروق کا قول ہو اور جن لوگوں نے اس کی نسبت ان کی طرف کی ہے وہ غلط ہے۔

بفرض محال اس کو ہم مان بھی لیں تو ہَجَرَبمعنی ہذیان نہیں بلکہ بمعنی جدائی ہے۔ جو خاص محبت کا کلمہ ہے نہ کہ گستاخی کا ، اور بالفرض ہَجر بہ معنی ہذیان ہو تو ہمزہ استفہام کے ساتھ ہے اور یہ استفہام انکاری ہے، ترجمہ یہ ہے کہ نبی کو اختلاط تو نہیں ہوتا، دریافت کرو کیا فرماتے ہیں کیوں کہ نبی معصوم کا ارشاد بے مطلب نہ ہوگا۔

ممکن ہے کہ یہ قول اس جماعت کا ہو جو تحریر لکھوانے کی موید تھی اکثر روایات میں ہمزہ استفہام موجود ہے جن میں نہیں وہاں محذوف مانا جائے گا۔ ملاحظہ ہو ، فتح الباری۔

امام نووی’’شرح مسلم‘‘ میں فرماتے ہیں، صحیح بات یہ ہے کہ ہمزہ استفہام سب روایتوں میں ہے۔ اور جس روایت میں ہمزہ نہیں وہ ناقل کی غلطی ہے بغیر تحقیق کے اس نے ایسا کہہ دیا۔

کتاب کا نام: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3

مصنف: حافظ ثناء اللہ مدنی

ناشر: کلیۃ القرآن الکریم والعربیۃ الاسلامیہ

اشاعت کا سال: نومبر 2017

مترجم: صلاح الدین یوسف

جلد: جلد 3

صفحات کی تعداد: 621