مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1 - ردِ رافضیت | دفاع…

مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1

  توقیر احمد

صفحہ 1 از 6

 مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1 

مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں

بنام۔۔۔شیخ التفسیر و الحدیث حافظ حضرت مفتی عبدالعزیز العزیزی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ۔

بدعا۔۔۔مناظر اسلام  شیخ التفسیر و الحدیث  حضرت علامہ علی شیر رحمانی صاحب دامت برکاتهم العالیه

فہرست

١۔۔مقدمہ

٢۔۔غرض وغایت

٣۔۔حرف آغاذ

۴۔۔شیعت وحی الہی سے نہیں

۵۔۔رسولﷺہی خاتم الاوصاف رسالت

٦۔۔شیعہ عقیدہ اوصاف رسالت

٧۔۔نتیجہ

٨۔۔نوٹ

٩۔۔تقابل علم رجال شیعہ و مسلم

مقدمہ:

نحمد الله ونصلی ونسلم علی محمد رسول اللہﷺ۔۔۔۔۔۔

تاریخ اقوام کو ماضی حال مستقبل کے آپس میں معاشی معاشرتی تمدنی تهذیبی قانونی سیاسی اور دینی طورپر جوڑے رکھنے کاعلم ہے۔ ہمارا یہ دور جس میں تہذیبوں اور ملتوں کے فرق تیزی کے ساتھ مٹ رہے ہیں اور ایک یک رنگی انسانیت " پراسیس “ میں ہے۔ اس مخصوص ”گلوبلائزیشن “ کی دہلیز پرقدم دھرتے ہر مسلم ذہن کی علمِ تاریخ  ضرورت ہے۔لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارا دین اسلام بطور تاریخ نہیں ہے بلکہ بطور وحی الہی ہے۔یہ موضوع  مناظراسلام حضرت علامہ علی شیر رحمانی صاحب کے حکم اور خواہش پر شروع کیا ہے اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے مرشد کی سوچ فکر اور خواہش پر پورا اترنے کی توفیق اور ہمت دے آمین ۔۔۔۔۔والسلام

غرض وغایت:

تقابلِ تاریخِ اسلام و شیعه اس رسالے کا لکھنےکامقصد یہ ہے کہ ہم اسلام کو سمجھیں اور شیعت کے پروپیگنڈوں کو سمجھیں۔ تاریخ کی اہمیت مسلم ہےلیکن بطور ایمانیات عقائد نظریات فرائض واجبات حلت وحرمت حجت نہیں ہے۔ لیکن آج کل ہو یہ رہاہے کہ وحی (متلو وغیرمتلو) کو چھوڑ کر تاریخ سے ایمانیات نظریات عقائد فرائض واجبات حلت و حرمت کو ثابت کیا جانے لگاہے۔ مقدس شخصیات اصحاب رسول ﷺ واہلبیت رسول ﷺ کی شخصیات کو تاریخی روایات سے مجروح کیا جاتاہے۔ اور ایسے ایسے الزامات و توہمتیں صرف تاریخی روایات سے لگائی جاتی ہیں جن کے لیے وحی الہی نے گواہ اور ثبوتوں کی شرائط رکھی ہیں۔ جبکہ  یہ روایات اکثر کسی بھی تنقیص کی صورت میں شرائط پر پوری نہیں اترتی ہیں۔ توہم تاریخی روایات سے کسی کی تنقیص ناکرتےہیں اور ناہی قبول کرتے ہیں۔ اورکوئی بھی سلیم عقل اور پڑھےلکھے ہونے کا دعوی کرنے والاشخص آج کے دور میں کسی بھی حادثے اور واقعے کو دس الگ الگ اخبارات میں پڑھے اورمیڈیا پر دیکھے کتنے تضادات سامنے آئیں گے۔اب یہ دیکھیں گے کہ دین اسلام کیاہے۔ جو دین تاریخ سے لیا گیاہے وہ کیاہے اور جو دین نزول وحی الہی (وحی متلو و  غیر متلو) سے لیاگیاہے وہ کیاہے۔

حرف آغاز:

کسی بھی دین یا مذهب کے کچھ بنیادی اصول ہوتےہیں جن پر اس مذہب کی مکمل عمارت تعمیرہوتی ہے۔

مسلمانوں کے ایمانیات جن کو عرف عام میں  اصول الدین بھی کہاجاتاہے۔

١۔۔۔اللہ پر ایمان لانا   

٢۔۔۔فرشتوں پر ایمان لانا

٣۔۔۔نازل شده کتابوں پر ایمان لانا

۴۔۔۔رسولوں پر ایمان لانا

۵۔۔۔تقدیر پر ایمان لانا

٦۔۔۔قیامت پرایمان لانا

شیعہ ایمانیات یااصول الدین

١۔۔۔توحید

٢۔۔۔عدل

٣۔۔۔نبوت

۴۔۔۔امامت(خلافت۔وصیت۔عصمت)

۵۔۔۔معاد(رجعت)

دونوں ایمانیات کا تقابل تناسب وتباین آپ کے سامنے ہے۔

پہلے(امت مسلمہ) ایمانیات بذریعہ وحی الہی (وحی متلو غیر متلو) ثابت شدہ ہیں۔

جبکہ دوسرے ایمانیات (شیعہ) بذریعه تاریخ گھڑے گئے ہیں۔

بذریعہ وحی الہی (وحی متلو و غیر متلو) نہیں لیے گئے۔

ہم شیعت سےسوال کرتےہیں۔

1۔۔۔وحی متلو:

شیعہ مزہب میں دین لینے کا اصول کیاہے؟!؟

١۔۔۔تاویل حدیث تفسیر کس سے لیتےہیں؟!؟

جوابا کہاجاتاہے اہلبیت رسول ﷺ سےلیے جاتے ہیں

٢۔۔۔قرآن کے الفاظ اہلتشیع نے کس سے لیے ہیں ؟!!

کوئی جواب نہیں ہے سواے فحش تاویلات کے بوجہ یہ کہ قرآن کو اصحاب رسول ﷺ نے جمع کیاہے اور کل اصحاب رسولﷺشیعہ کے نزدیک کافر مرتد اور غیر معتبر ہیں۔

٣۔۔۔قرآن اہل تشیع کے نزدیک تابع ہے یا متبوع؟!؟

جوابا کہاجاتاہے کہ قرآن امام کے تابع ہے فی نفسه حجت نہیں ہے۔

۴۔۔۔ایمانیات میں آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں کہ شیعت نے ایمانیات سے قرآن پر ایمان لانے کو نکال دیاہے۔

2۔۔۔غیر متلو:

١۔۔۔شیعه مذهب میں داخل ہونے کے لیے کن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے ؟!؟

جوابا

توحید عدل نبوت امامت وصیت عصمت خلافت معاد رجعت ہم دوسرا سوال کرتے.  ہیں ۔

٢۔۔۔شیعہ اصول الحدیث کے مطابق کوئی ایک صحیح متصل غیر معارض فرمان رسول ﷺ پیش فرمادیں جس میں توحید عدل نبوت امامت وصیت عصمت خلافت معاد رجعت  بطور ایمانیات بیان فرمایا ہو تصریح فرمائی ہو یا کسی شخص کو سکھایا ہو؟!؟

شیعہ منابع میں بذریعہ وحی الہی (متلو و غیر متلو)کوئی جواب نہیں ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں مختصرا شیعه و مسلم اسماء الرجال کی حالت۔تاکہ جن شخصیات کے ذریعے دین اسلام پہنچاہے یا مسلم وشیعہ نے جن سے دین کوقبول کیا ہے وہ معتبر بھی ہیں یا کہ غیرمعتبر ہیں۔تواتر بھی موجود ہے یا نہیں ہے۔ رسول ﷺکو خاتم وحی الہی منصوص من اللہ مفترض الطاعة اور خاتم المعصومین ماناجاتاہے یانہیں مانا جاتا۔

رسول ﷺ ہی خاتم الاوصاف نبوت:

امت مسلمہ کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ رسولﷺ خاتم الاوصاف نبوت ہیں اور نزول وحی الہی رسول ﷺ پر قیامت تک کےلیے ختم ہے جیساکہ آیت

وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْ ءٌ»

ان الفاظ میں رسول ﷺ کے بعد وحی کی ہر قسم کی نفی ہے الہام اوهام القا نفخ اور خواب جن کی نسبت رسولوں کی طرف بطورنزول وحی الهی هوتی تھی اب جو شخص بھی اپنے لیے یاکسی دوسرے شخص کے لیے وحی کی ان اقسام میں سے کسی قسم کے نزول کا دعوی کرے گا وہ شخص ختم رسالت کامنکرہے۔

١۔۔۔جس شخصیت پر نزول وحی الهی ہو وہ منصوص من اللہ کہلاتاہےاب رسول ﷺ کےبعد جو شخص اپنےلیے یا کسی دوسرے کے لیےمنصوص من اللہ ہونےکادعوی کرےوہ شخص ختم رسالت کامنکر ہے۔

٢۔۔۔جس شخصیت پرنزول وحی الہی ہو اس کو معجزات بطرز رسالت بطور تائیدِ حجت دیے جاتے ہیں۔ اب جو رسول ﷺ کے بعد اپنے لیےیاکسی دوسرے شخص کے لیے معجزات بطرز رسالت کا دعوی کرے وہ ختم رسالت کامنکر ہے۔

٣۔۔۔جس شخصیت پر نزول وحی الہی ہو وہ شخصیت معصوم عن الخطاء فی الدین ہوتی ہے۔اب رسول ﷺ کے بعد جو شخص بھی معصوم عن الخطاء فی الدین ہونےکادعوی اپنے لیے یا کسی دوسرے شخص کے لیے کرے وہ ختم رسالت کا منکر ہے۔

صفحہ 1 از 6