مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1 - ردِ رافضیت | دفاع…

مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1

  توقیر احمد

صفحہ 2 از 6

۴۔۔۔جس شخصیت پرنزول وحی الہی ہو وہی شخص مفترضة الطاعة ہوتاہے اب جوشخص بھی رسول ﷺ کے بعد اپنے لیے یا کسی دوسرے شخص کےلیے مفترضة الطاعة ہونے کا دعوی کرے وہ ختم رسالت کا منکر ہے۔

شیعہ عقیدہ اوصاف رسالت :

اہل تشیع کا نظریہ ہے کہ

✅امام نبی سےافضل ہوتاہے۔

✅امام پروحی کانزول ہوتاہے۔

✅امام معصوم ہوتاہے۔

✅إمام مفترض الطاعةہوتاہے۔

✅امام منصوص من اللہ ہوتاہے۔

✅امام معجزات بطرز رسالت دیاجاتاہے۔

✅أمام ما فوق الفطرت قدرت رکھتاہے۔

ہم صرف آئمہ پر نزول وحی الہی کی تفصیل پیش کر رہیےہیں کیونکہ دوسرے اوصاف نزول وحی الہی کے ہی مرهون منت ہیں۔

(تفصیلات حقیقت ایمانیات اہل تشیع اصل چہارم امامت) اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت 

نزول وحی الہی؛

#مسلم_وشیعه_دین_تاریخ_کی_نظرمیں

شیعہ آئمہ پر نزول وحی الہی؛

فرمایا امام جعفر صادق نے کہ انبیاء و مرسلین کے چارطبقے ہیں

١۔۔۔روایت

محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن أبي يحيى الواسطي، عن هشام بن سالم، ودرست بن أبي منصور، عنه قال: قال أبو عبد الله عليه السلام: الأنبياء والمرسلون على أربع طبقات: فنبي منبأ في نفسه لا يعدو غيرها، ونبي يرى في النوم ويسمع الصوت ولا يعاينه في اليقظة، ولم يبعث إلى أحد وعليه إمام مثل ما كان إبراهيم على لوط عليهما السلام، ونبي يرى في منامه ويسمع الصوت ويعاين الملك، وقد ارسل إلى طائفة قلوا أو كثروا، كيونس قال الله ليونس: " وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون (١) " قال: يزيدون: ثلاثين ألفا وعليه إمام، والذي يرى في نومه ويسمع الصوت ويعاين في اليقظة وهو إمام مثل  اولي العزم وقد كان إبراهيم عليه السلام نبيا وليس بإمام حتى قال الله: " إني جاعلك للناس إماما قال: ومن ذريتي فقال الله: لا ينال عهدي الظالمين " من عبد صنما أو وثنا لا يكون إماما.

ترجمہ۔

ایک نبی وہ ہے جو خواب میں فرشتوں کو دیکھتا ہے اس کی آواز سنتا ہے اور جاگتے میں کسی کو نہیں دیکھتا اور وہ کسی کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا ہوتا بلکہ اس کا ایک امام ہوتا ہے

(الکافی کتاب الحجه باب نمبر 2 جلد 1 صفحه 175)

شیعہ مصنفین اپنی اماموں کو اس طرح کا نبی سمجھتے ہیں ان کے نزدیک نبی اور امام میں یہی فرق ہے جیسا کہ

٢۔۔۔روایت؛

میں ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا

ونبي يرى في منامه ويسمع الصوت ويعاين الملك قلت:الإمام ما منزلته؟ قال: يسمع الصوت ولا يرى ولا يعاين الملك

ترجمہ؛

نبی وہ ہے جو فرشتے کو خواب میں دیکھتا ہے اس کی آواز سنتا ہے لیکن ظاہر بظاہر حالت بیداری میں نہیں دیکھتا اور رسول وہ ہے جو آواز بھی سنتا ہے خواب میں بھی دیکھتا ہے اور ظاہر میں بھی  راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا امام کی منزل کیا ہے فرمایا وہ فرشتے کی آواز سنتا ہے مگر دیکھتا نہیں

(الکافی کتاب الحجۃ باب 3 جلد۔ 1 ص ،176)

٣۔۔۔روایت؛

علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن إسماعيل بن مرار قال: كتب الحسن بن العباس المعروفي إلى الرضا عليه السلام: جعلت فداك أخبرني ما الفرق بين الرسول والنبي و الامام؟ قال: فكتب أو قال: الفرق بين الرسول والنبي والإمام أن الرسول الذي ينزل عليه جبرئيل فيراه ويسمع كلامه وينزل عليه الوحي وربما رأى في منامه نحو رؤيا إبراهيم عليه السلام، والنبي ربما سمع الكلام وربما رأى الشخص ولم يسمع والإمام هو الذي يسمع الكلام ولا يرى الشخص.

ترجمہ؛

حسن بن عباس معروفی نے امام رضا کو لکھا کہ آپ پر فدا ہوں کیا فرق ہے رسول و نبی و امام میں ؟آپ نے جواب میں فرمایا رسول وہ ہے جس پر جبرائیل نازل ہو اور ان کا کلام سنے اور اس پر وحی نازل ہو اور کبھی خواب میں بھی دیکھے جیسے ابراہیم کا خواب اور نبی وہ ہے کہ کبھی کبھار کلام سنتا ہے اور کبھی فرشتے کے وجود کو دیکھتا ہے اور امام وہ ہے جو کلام سنتا ہے اور فرشتے کے وجود کو نہیں دیکھتا

(الکافی کتاب الحجۃ باب نمبر 3 جلد 1 صفحہ 177)

تبصرہ؛

شیعہ مصنفین اپنے بارہ ائمہ حضرات کو اس طرح کا نبی سمجھتے ہیں اور ملاباقر مجلسی نے جو حیاۃالقلوب میں لکھا ہے کہ نبی اور امام میں کوئی فرق نہیں ۔اور حق یہ ہے کہ تمام کمالات صفات اور شرائط میں نبی اور امام میں کوئی فرق نہیں ہے سوا اس فرق کے جو حدیثوں میں فرق آیا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ خاتم النبین ہیں اس لئے آپ کی تعظیم کی وجہ سے امام کو نبی کہنے سے منع ہے

(حیات القلوب فارسی جلد 3 صفحہ نمبر 3)

نوٹ؛

اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ محققین کے نزدیک امام اور نبی میں چولی دامن کا تعلق ہے ان کے نزدیک امام بھی نبی ہی ہے وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی وجہ سے اپنے اماموں کو نبی نہیں کہتے  ہیں باقی ان کو نبی سمجھتے ضرور ہیں اور نبی نہ کہنے کی وجہ بھی خود بتائیں کہ اگر اماموں کو نبی کہیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا لحاظ نہیں رہے گا ورنہ امام کو نبی ہی سمجھتے ہیں۔شیعوں کے خاتم المحدثین ملاباقرمجلسی نے ڈرتے ڈرتے بالآخر کہہ بھی دیا کہ امامت حقیقت میں نبوت ہے

ترک لفظ اطیوا یا رسول اولی الامر مستعر است بایں که مرتبه امامت نظیر مرتبه نبوت است۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ؛

لفظ اطیعوا کو رسول اور الامر کے درمیان سے ترک کرنا اطیعواللہ و اطیعوالرسول و اولی الامر منکم یه اس بات  کی خبر دیتا ہے کہ مرتبہ امامت مرتبہ نبوت کے برابر اس کے مثل ہے چنانچہ نبوت اللہ تعالی کی طرف سے فرشتے کی وساطت سے مقرر کی جاتی ہے امامت بھی نبوت کی ہی  حقیقت ہے جو خدا کی طرف سے نبی کی وساطت سے مقرر کی جاتی ہے

(حیات القلوب فارسی جلد 3 فصل نهم صفحه 81)

یہی سبب ہے یعنی شیعہ مذہب میں نبوت اور امامت ایک ہی چیز ہے اس لئے جس نے کسی امام کی امامت کا انکار کیا وہ شیعوں کے نزدیک کسی نبی کی نبوت کے انکار کرنے کی طرح کافر ہے جیسا کہ شیعوں کے ثقة الاسلام علامہ محمد بن یعقوب کلینی نے لکھا ہے

۴۔۔۔روایت؛

صفحہ 2 از 6