مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1 - ردِ رافضیت | دفاع…

مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1

  توقیر احمد

صفحہ 3 از 6

علي بن إبراهيم، عن صالح بن السندي، عن جعفر بن بشير، عن أبي سلمةعن أبي عبد الله عليه السلام قال: سمعته يقول: نحن الذين فرض الله طاعتنا، لا يسع الناس إلا معرفتنا ولا يعذر الناس بجهالتنا، من عرفنا كان مؤمنا، ومن أنكرنا كان كافرا،ومن لم يعرفنا ولم ينكرنا كان ضالا حتى يرجع إلى الهدى الذي افترض الله عليه من طاعتنا الواجبة فإن يمت على ضلالته يفعل الله به ما يشاء.

ترجمہ؛

ہم وہ ہیں جو اللہ نے ہماری اطاعت فرض کی ہے لوگوں کو ہماری معرفت کے سوا کوئی چارہ نہیں اور ہم سے جاھل رہے گا کوئی تو عذر قابل قبول نہیں ہو گا جس نے ہم کو پہچانا وہ مومن ہے اور جس نے انکار کیا وہ کافر ہے اور جس نے نہ پہچانا نہ انکار کیا وہ گمراہ ہے جب تک وہ اس ہدایت کی طرف نہ لوٹے جسے اللہ نے ہماری اطاعتکی صورت میں فرض کیا ہےپس اگر وہ اسی گمراہی کی حالت میں مرگیا تو اللہ جو چاہے گا وہ دے گا

۵۔۔۔روایت؛

  راوی کہتا ہے میں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے کہا کہ میں اپنا عقیدہ آپ کے سامنے پیش کرو فرمایا بیان کرو میں نے کہا

اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰــہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَــــــــ لَہٗ وَاَشْھَــــــــدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وحدہٗ لاشریک ہے وہ اور محمد اس کے عبد اور رسول ہیں اور میں اقرار کرتا ہوں ان تمام باتوں کا جو وہ خدا کی طرف سے لے کر آئے اور یہ کہ علی امام ہیں اللہ نے ان کی اطاعت فرض کی ہے ان کے بعد حضرت حسین اور ان کے بعد علی بن حسین اور ان کے بعد آپ امام ہیں اور ان سب کی اطاعت اللہ نے فرض کی ہے حضرت نے فرمایا یہی اللہ اور اس کے ملائکہ کا دین ہے

(الکافی کتاب الحجۃ باب 8 صفحه جلد 1 صفحه 200)

نتیجہ:

اہل تشیع کی یہ مختصر روایات واقوال ہیں جن میں نزول وحی الہی کا دعوی آئمہ کے لیے کیاگیاہے۔ جیسا کہ مصحف فاطمہ رضی اللہ عنہ کا دعوی کہ جبرائیل ؑ وحی لاتے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ لکھ لیتے تھے۔ اسی طرح مصحف علی رضی اللہ کا دعوی اسی طرح دوسرے آئمہ کے مصحف موجود ہونے کا دعوی

(باب أن الأئمة عليهم السلام محدثون مفهمون)

(الکافی جلد 1/270)

بحار الانوار جلد 100-102 ذائرین آئمہ کے لیے جابجا روایات موجود ہیں کہ ان کے کانوں میں فرشتے سرگوشیاں کرتےہیں۔

مطلب یہ کہ شیعہ کا آئمہ کے لیے نزول وحی الہی کا دعوی عام ہے جبکہ شیعت بڑے زورو شور سے رسول ﷺ کی ختم نبوت کا دعوی کرتی ہے۔ہم نے یہاں صرف دعوی آئمہ پر نزول وحی الہی کے دلائل پیش کیے ہیں۔ کیوں کہ باقی تمام اوصاف رسالت نزول وحی الہی ہی سے متصف  ہیں جیسے منصوص من اللہ ہونا مفترض الطاعة ہونا معصوم ہونا معجزات رسالت دیے جانا وغیرہ۔تو ثابت یہ ہوا کہ شیعت اپنے آئمہ کے لیے نزول وحی الہی کا دعوی تو کرتی ہے لیکن ناتو وہ الفاظ جو رسول ﷺ پر بطور وحی الہی متلو نازل ہوئے آئمہ نے امت کو دیے اور نا ہی آئمہ نے اپنا کوئی قرآن شیعت کو دیا ہے۔

نوٹ:

یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ شیعت نے اپنا دین وحی الہی (وحی متلو غیر متلو)سے نہیں لیاہے۔ماقبل ہم یہ بھی بتاچکے ہیں۔کہ شیعت کے اصول الدین (وحی غیر متلو) مطلب کوئی ایک روایت شیعہ منابع میں موجود نہیں ہے جس میں تصریح ہوکہ  رسول ﷺ نے توحید عدل نبوت امامت وصیت عصمت خلافت معاد و رجعت کو اصول الدین فرمایا هو۔اب ہم تواتر و اتصال دین  پر مختصرا بحث کرتےہیں۔ کہ شیعت کے دین اسلام ہونے کے لیے جو تواتر اور اتصال زمان مطلوب ہے وہ موجود ہے یا نہیں ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ علم رجال شیعہ اور مسلم کا تقابل تناسب و تباین پیش کیا جائے۔

تقابل علم رجال مسلم و شیعہ:

ماقبل ہم بیان کر چکے ہیں کہ شیعہ مذہب کے اصول الدین نزول وحی الہی (متلو و غیر متلو) کے بیان کردہ نہیں ہیں۔

اب ہم شیعہ کے علم الرجال کی طرف چلتےہیں اوردیکھتے ہیں کہ شیعہ نےعلم رجال میں کیاگل کھلائے ہیں۔

تدوین علم الرجال تشیع:

ہم مابعد اس کی وضاحت کریں گے کہ مسلمانوں کو علوم حدیث میں اولیت و سبقت حاصل ہے، اسی سبب شیعه امامیہ کی تعریفات  حدیث: مدرج، متصل، مرفوع، موقوف، مقطوع، مضمر، مرسل، معضل، معلق، معل، مدلس، معنعن، مزید، مفرد، شاذ، محفوظ، منکر، معروف، مدرج، مصحف، مسلسل، مضطرب، مقلوب اور موضوع، مسلمانوں کی تعریفات سے جا بجا عموما متاثر نظر آتی ہیں، اس وجہ سے ہم اس پر تفصیلی گفتگو نہیں کر رہیےبلکہ یہاں ہم تدوین فن اسماءالرجال جرح وتعديل کی طرف اپنا رخ کرتے ہیں کہ شیعہ کے پاس قرون ثلاثہ کا کچھ علمی تراث بھی موجود ہے یانہیں ہے۔

1…قرون ثلاثہ:

١۔۔۔حیدر حب الله صاحب دورس فی تاریخ علم الرجال عند الامامیه' میں علم رجال کے مراحل میں سے پہلے دومراحل  زمانہ نبوت سے لے کر تیسری صدی ہجری کے اختتام تک کے بارے میں لکھتے ہیں:

"إن الارث الرجالى لھذا المرحلۃ لم يصلنا مع الاسف الشدید کی نصور من خلالہ المشهد بطریقۃ دقیقۃ، فلم تتوفر بین ایدینا تقریبا سوی المحاولۃ التی ترکھا البرقی فی الطبقات"

یعنی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رھا ہے کہ اس مرحلے کا(نبوت سے تین سو ہجری تک) رجالی تراث ہم تک نہیں پہنچا ورنہ ہم اس کی موجودگی میں اس دور کے تراث کا باریک تجزیه کر سکتے  اس وقت ہمارے پاس کچھ بھی موجود نہیں ہے، سوائے اس کوشش کے، جو برقی طبقات کی صورت میں ہمارے پاس چھوڑگئے ہیں۔

(دروس فی تاریخ علم الرجال صفحه 83)

رجال البرقی:

رجال البرقی چندصفحات کا رسالہ ہے جس میں چودہ سو اکاون ١۴۵١ کے قریب اصحاب  ائمہ کےصرف نام ہیں سنہ تاریخ پیدائش ووفات اساتذہ تلامذہ کاکوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اس رسالےکےبارے چار۴اقوال ہیں۔

"و علی النظریتین الثالثۃ و الرابعۃ لا یعتمد علی الکتاب لعدم توثیق عبد اللہ و ابنہ احمد عند علماء الجرح والتعديل

یعنی آخری دو اقوال کے مطابق کتاب پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ عبد اللہ اوراس کابیٹا احمد علمائے جرح و تعدیل کےہاں قابل اعتمادنہیں ہے، یوں یہ کتاب بعض شیعہ علماء کے نزدیک معتمد ہی نہیں ہے۔

(دروس فی تاریخ علم الرجال صفحه 81)

خلاصہ:

صفحہ 3 از 6