مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1 - ردِ رافضیت | دفاع…

مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1

  توقیر احمد

صفحہ 4 از 6

بنیادی فرق یہ ہے کہ رسول ﷺ سے لے کر 300سنہ ہجری تک تشیع فن رجال مصطلح حدیث اورفن حدیث میں لاوارث رہیے ہیں اب اس بحث سے ایک عام شخص بھی سمجھ سکتاہے کہ یہ انقطاع کیا گل کھلائے گا اور مزے کی بات یہی ہے کہ اس تین سو 300 ساله انقطاع نے تشیع کے اصول الدین توکیا مکمل مذہب کی بنیادوں  تک کو ختم کر دیا ہے یعنی پہلی تین سو 300سالہ سنہ ہجری میں رجال پر جو کتاب موجودتھی وہ بھی مختلف فیہ ہو گئی اور ناقابل اعتبار ہے۔یہی وہ وجہ ہے کہ جب ہم شیعہ سے شیعہ اصول الحدیث کے مطابق اصول الدین پر روایت طلب کرتےہیں تو جواب ندارد جب ہم اہلبیت کے دیے گئے قرآن کے الفاظ کا سوال کرتے.  ہیں یا اہلبیت سے حاصل شدہ قرآن کا سوال کرتےہیں۔ تو جواب ندارد۔ شیعت کی حدیث کی سب سے صحیح کتاب کی حالت ملاحظه فرمائیں۔

اصول الکافی: کی حالت زار

الکافی کے مولف أبو جعفر محمد بن يعقوب بن اسحق الكليني الرازي البغدادی المعروف کلینی (متوفّىٰ سنہ 329 ھ) ہیں۔

زیادہ تر روایات ان آٹھ حضرات سےلی ہیں۔

١۔۔۔علی بن ابراہیم قمی سے 7068 حدیثیں۔

٢۔۔۔محمد بن یحیی عطار اشعری قمی سے 5033 حدیثیں۔

٣۔۔۔ابوعلی اشعری قمی سے 875 حدیثیں۔

۴۔۔۔ابن‌ عامر حسین بن محمد اشعری قمی سے 830 حدیثیں۔

۵۔۔۔محمد بن اسماعیل نیشابوری سے 758  حدیثیں۔

٦۔۔۔حمید بن زیاد کوفی سے 450 حدیثیں۔

٧۔۔۔احمد بن ادریس اشعری قمی سے 154  حدیثیں۔

٨۔۔۔علی بن محمد سے 76 حدیثیں۔

جنابِ کلینی کے شیوخ کے نام:

1- علي بن إبراهيم القمي - ثقة

2- محمد بن يحيى العطار القمي - ثقة

3- حميد بن زياد الكوفي - ثقة

4- أحمد بن إدريس الأشعري القمي - ثقة

5- الحسين بن محمد الأشعري القمي – ثقة

6- محمد بن إسماعيل النيسابوري – مجهول

7- محمد بن جعفر الرزاز الكوفي – مجهول

8- أحمد بن محمد بن أحمد الكوفي - مجهول

9- علي بن محمد بن بندار البرقي - ثقة

10- أحمد بن مهران – مجهول

11- محمد بن أحمد بن الصلت القمي- ثقة

12- الحسن بن علي الهاشمي – مجهول

13- الحسين بن علي العلوي– مجهول

14- الحسين بن علي الحسيني– مجهول

15- الحسين بن الحسن العلوي– مجهول

16- الحسن بن خفيف– مجهول

17- أبو داود– مجهول

18- محمد بن عبد الله بن جعفر الحميري - ثقة

19- أحمد بن عبد الله – مجهول

20- أبو عبد الله الأشعري– مجهول

21- علي بن موسى الكمنداني– مجهول

22- محمد بن علي بن معمر– مجهول

23- علي بن محمد بن علي بن عباس – مجهول

24- علي بن الحسين المؤدب– مجهول

25- القاسم بن العلاء الأذربيجاني - ثقة

26- محمد بن عقيل – مجهول

27- محمد بن الحسن– مجهول

28- أحمد بن محمد بن سعيد ابن عقدة الكوفي - ثقة

خلاصہ:

ملاحظه فرمائیں شیخ کلینی کے کتنےشیوخ مجہول الحال ہے اس کے باوجود تشیع اس کتاب کی اور شیخ الکلینی کی تعریفات کے پل باندھ دیتے ہیں۔جب کہ نصف سے زائد شیوخ مجهول الحال ہیں۔

جنابِ کلینی کے شیوخ کی تحقیق دروس تمهيدية في القواعد الرجالية لمحمد باقر الايرواني سے مدد لی گئی ہے۔

کتاب کانام ::

کلینی کتاب طہارت کے خطبے میں کہتے  ہیں: یہ کتاب علم دین کے تمام فنون کے لئے کافی ہے۔

(الکافی، جلد 1، صفحہ 14۔مقدمہ)

یہ نام اس کلام سے ماخوذ ہے جس کی نسبت امام زمانہ (عج) کو دی گئی ہے؛  مروی ہے کہ امام زمانہ (عج) نے فرمایا: الکافی كافٍ لشيعتنایعنی الکافی ہمارے پیروکاروں کے لئے کافی ہے۔ یہ جملہ اس وقت ناحیۂ مقدسہ سے صادر ہوا جب الکافی کو امام زمانہ(عج) کی خدمت میں پیش کیا گیا اور آپ(عج) اس کی تحسین و تعریف فرمائی۔

(غفاری، عبدالرسول الکلینی و الکافی، صفحه 392)

کتاب الکلینی و الکافی کے مولف، شيخ عبد الرسول غفاري میرزا عبدالله افندی کی کتاب ریاض العلماء

(افندی، رياض العلماء، جلد2، صفحہ 265-266)

میں ملا خلیل قزوینی کے حالات زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت صاحب (عج) نے پوری کتاب الکافی کا مشاہدہ فرمایا ہے اور اس کی تعریف کی ہے اور جہاں بھی کلینی نے کوئی روایت  نقل کی ہے جس کا آغاز وَ رُوِیَ سے ہوا ہے وہ روایت انھوں نے براہ راست اور بغیر کسی واسطے سے امام زمانہ (عج) سے نقل کی ہے۔

(غفاری، عبدالرسول، الکلینی و الکافی، صفحه 394)

شیخ مفید کہتے ہیں: یہ کتاب برترترین و بہترین شیعہ کتب میں سے ایک ہے جو کثیر فوائد کی حامل ہے۔

(لاعتقادات الامامیہ، صفحہ70)

شہید اول کہتے ہیں: الکافی ایسی کتابِ حدیث ہے جس کی مانند کوئی کتاب اصحاب (امامیہ) نہیں لا سکے ہیں۔

(الکافی، جلد 1، صفحه 27)

محمد تقی مجلسی لکھتے ہیں: اصول کی تمام کتب سے زیادہ مضبوط و مستحکم اور سب سے زیادہ جامع ہے اور فرقۂ ناجیہ ‌(امامیہ) کی عظيم ترین تالیف ہے۔

(مرآة العقول، جلد 1، صفحہ3)

آقا بزرگ تہرانی کا کہنا ہے: الکافی ایسی کتاب ہے کہ حدیث اہل بیت (ع) نقل کرنے کے حوالے سے اس جیسی کتاب اب تک مکتوب نہیں ہوئی ہے۔

(الذریعه، جلد 17، صفحه 245)

استر آبادی علماء اور اپنے اساتذہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: اسلام میں الکافی کے برابر یا اس کے  پائے کے قریب تر کوئی کتاب تالیف نہيں ہوئی ہے۔

( الفوائد المدنیہ، صفحہ520)

آیت الله خوئی اپنے استاد نائینی کا قول  نقل کرتے ہوئے  کہتے ہیں الکافی میں مندرجہ احادیث کی اسناد میں نزاع کرنا، عاجز اور بے بس افراد کا پیشہ اور ہتکھنڈہ ہے۔

(معجم رجال الحدیث جلد 1 صفحه 99)

یوسف بحرانی نے اپنی کتاب لؤلؤۃ البحرین میں  لکھا ہے کہ الکافی میں مندرجہ احادیث کی تعداد 16199 ہے؛ ڈاکٹر حسین علی محفوظ نے الکافی پر  اپنے مقدمے میں اس کتاب میں مندرجہ احادیث کی تعداد 15176 ہے؛ علامہ مجلسی کے مطابق الکافی میں مندرجہ احادیث کی تعداد 16121 ہے جبکہ شیخ عبدالرسول الغفاری نے اپنی کتاب الکلینی و الکافی میں مندرجہ احادیث کی تعداد 15503 ہے۔

خلاصہ::

تشیع محققین نے مطلقا الکافی اور شیخ الکافی کی ثقاہت بیان کی ہے تو جناب ماقبل ہم الکلینی کے شیوخ کا حال بیان کرچکےہیں۔

آیت الله سید محمد حسین جلالی الکافی کےبارےمیں شیخ یوسف بحرانی کا قول نقل کرتے ہوئے یوں تحریر فرماتے ہے :

شیخ یوسف بحرانی نے لؤلؤۃالبحرین صفحہ ٣٩٥ میں کافی مین درج شدہ احادیث کی تعداد کو اس طرح بیان کیا ہے :

صحیح : 5077

حسن : 144

موثق :1118

قوی :302

ضعیف : 9480

صفحہ 4 از 6