مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1 - ردِ رافضیت | دفاع…

مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1

  توقیر احمد

صفحہ 5 از 6

(حوالہ : مذھب امامیہ میں منابع احادیث لشیخ محمد حسین جلالی صفحہ ١٦)

نوٹ::

الکافی کے ایک روای پر بحث کر دیتےہیں

علی بن ابراہیم قمی سے 7068 الکافی میں مرویات ہیں  ان کی ایک تفسیر ہے تفسیر القمی جس میں کثرت سے تحریف القرآن کی روایات اور مثالیں نقل ہوئی ہیں جبکہ تحریف القرآن کی کثیر روایات بلکہ ابواب الکافی میں بھی مذکور ہیں الکافی میں اس بارے میں بہت سی روایات مروی ہیں جس کا اگر آپ مطالعہ کریں جیسےباب فیه نکت و نتف من التنزیل فی الولایة اس باب میں قرآن مجید سے ولایت کے متعلق نکات اور معارف کا بیان اسباب میں ننانویں 99 روایات جمع  کردی ہیں آپ اسی باب میں طرح طرح کی معنوی تحریفات ملاحظه فرما سکتے ہیں

(الکافی جلد 1 صفحه 412 )

اس کے علاوہ اور بہت سارے ابواب مذکور ہیں

(باب ان القرآن یرفع کما انزل جلد 2 صفحہ 619 )

مجلسی نے مراۃ العقول کافی کے بعض روایت پر ضعف کا حکم  لگایا ہے لیکن تحریف قرآن کی روایات پر صحت کا حکم لگایا ہے

(مرآۃ العقول جلد2 /536 )

اصول کافی کی شرح الشافی میں بھی صحت کا حکم لگایا گیا ہے تحریف قرآن کی روایات پر

(الشافی جلد 7 صفحہ 227)

تحریف قرآن کے افسانے کو عملی جامہ پہنانے والے قمی اور کلینی ہیں انہوں  نے ہر اس آیت کےبعد جس میں انزل اللہ علیک   یا انزلنا الیک کے الفاظ تھےان کے بعد فی علی کے لفظ کو داخل کردیا اور لفظ ظلموا کے بعد آل محمد حقهم کو ٹھونس دیا لفظ اشرکواکے بعد فی ولایة علی کا اضافہ کر دیا اور قرآن میں جہاں جہاں امة کا لفظ آتا ہے اس کو آئمہ میں بدل دیا

بئسما اشتروا به انفسهم ان يكفروا بما أنزل الله (في علي بغيا )

(الکافی جلد 1 صفحه 417)

وان کنتم فی ریب مما نزلنا (فی علی) فاتو١ بسورۃ من مثلہ

(الکافی جلد 1 صفحه 417 )

يا ايها الذين اوتوا الكتاب آمنوا بما نزلنا (في علی) نورا مبينا

(الکافی جلد 1 صفحه 417)

قمی لکھتا ہے جو تحریف شدہ آیات ہیں ان میں یہ فرمان باری تعالی بھی ہے

لکن الله يشهد بما انزل اليك (في علي) انزله بعلمه والملائكة يشهدون

یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک (فی علی) وا لم تفعل فما بلغت رسالتہ إن الذين كفروا وظلموا( آل محمد حقهم) لم يكن اللہ لیغفرلھم وسيعلم الذين ظلموا( آل محمد حقهم )في غمرات الموت

(تفسیر القمی جلد 1 صفحه 160)

(تفسیر القمی جلد 1 صفحه 48 100 110 122  126 ) قمی کہتا ہے کہ اس کی بہت زیادہ مثالیں ہیں قرآن مجید میں

(تفسیر القمی جلد 1۔صفحه  10 11) 

كنتم خير امة اخرجت للناس

اس آیت کے بارے میں لکھتاہے کہ یہ اس طرح نازل ہوئی تھی

كنتم خير أئمة أخرجت للناس

(تفسیر القمی جلد 1 صفحه 110 ) کلینی رضا سے اس آیت کبرعلی المشرکین کے بارے میں روایت کرتا ہے کہ وہ اس کے بعد

ولایة علی

کا اضافہ کرتے ہیں اور

ماتدعوھم الیہ

کے بعد

یامحمد من ولایة علی

کا اضافہ کرتے ہیں کتاب اللہ میں ایسا ہی لکھا ہے(الکافی جلد 1 صفحه 418)

آیت۔ فستعلمون من هو في ضلال مبين

میں یہ

يا معاشر المكذبين حيث رسالة ابي في ولاية علي عليه السلام والائمه من بعده من هو في ضلال مبين

جھٹلانے والوں کا اضافہ کرتے ہیں پھر وہ اس بات کے ساتھ اس کفر اور تحریف کی توثیق و تاکید کرتے ہیں کہ یہ ایسے ہی نازل ہوئی تھی (الکافی جلد 1 صفحه 421)

اللہ تعالی کے اس فرمان

فلنذیقن الذين كفروا میں بترکہم ولایت امیرالمومنین علیہ السلام عذابا شدیدا فی الدنیا ولنجزینھم اسوء والدین کانوا یعملون۔

کا اضافہ کرتے ہیں

(الکافی جلد 1 صفحہ 321)

ان القرآن الذی جاء بہ جبریل علیہ السلام الی محمد سبعۃ عشر الف ایۃ،

وہ قرآن جو جبرائیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے اس کی 17000 آیات تھیں۔

( اصول الکافی کتاب فضل القرآن باب نوادر جلد 2 صفحہ 134)۔

جب کہ قرآنی آیات جس طرح مشہور ہے کہ چھے ہزار سے کچھ زائد ہیں اس روایت کا تقاضا یہ ہے کہ تقریبا دو تہائی حصہ ساقط ہے اور یہ کتنا بڑا افترا ہے۔یہ روایت الکافی میں ہے جو ان کی سب سے صحیح کتاب ہےلیکن کچھ شیعہ کا کہنا ہے کہ الکافی میں ساری روایت صحیح نہیں ہے۔

کتاب (دعوۃ التقریب صفحه 383 شیعہ بین الحقائق والاوهام صفحہ 419 اور ۔420) ۔

اگر ہم اس جیسے قول کو حقیقت پر محمول کریں تقیہ پر نہیں جو ان کے ہاں حسن اور صحیح اور ضعیف کے اصول و ضوابط پر تحفظات اور اس سلسلے میں ان کے اختلافات اور اضطراب اگر ہم اس سے بھی تجاوز کریں کیونکہ ان کے نزدیک ضعیف کا حکم کبھی صرف سند پر ہو سکتا ہے ان کا کہنا ہے الکافی کی اکثر احادیث کی اسناد صحیح نہیں لیکن وہ متون کے لحاظ 

سے اور عقائد حقہ کی معرفت کے اعتبار سے معتبر ہیں ان جیسی روایت میں سند کو نہیں دیکھا جاتا۔

(مقدمہ شرح جامع الشعرانی)

اگر ہم ان تمام باتوں سے صرف نظر کریں اور ان کے علماء سے اس روایت کی صحت کے بارے میں جواب چاہیں تاکہ ہم اپنے اس عمل میں انکی کتب الرجال کی روشنی میں اسناد پر غور کرکے زیادہ سے زیادہ غیر جانبدار رہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ مجلسی سابقہ روایت کے متعلق کہتا ہے

فالخبر صحیح ولا یخفی ان ھذا الخبر و کثیرا من الاخبار الصحیحۃ  صریحۃ فی نقص القرآن و تغیرہ و عندی ان الاخبار فی ھذا الباب متواترۃ معنی و طرح جمیعھا یوجب رفع الاعتماد عن الاخبار راسا بل ظنی ان الاخبار فی ھذا الباب لا یقصر عن اخبار الامامۃ فکیف یثبتونھا بالخبر،

لهذا یہ خبر صحیح ہے مخفی نہ رہے کہ یہ خبر اور دیگر بہت ساری صحیح روایات صراحتاً قرآن پاک میں کمی اور تبدیلی پر دلالت کرتی ہیں اور میرے نزدیک تحریف قرآن کے مسئلہ میں روایات ماننامتواتر ہیں اور ان سب روایات کو ترک کرنا تمام ذخیرہ حدیث سے اعتماد کو اٹھانا ہے، بلکہ میرا خیال ہے کہ تحریف قرآن کی روایات مسئلہ امامت کی روایات سے کم نہیں، اگر ان روایات کا اعتبار نہ ہوا تو مسئلہ امامت روایات سے کیسے ثابت کریں گے؟

(مرآۃ العقول جلد 2 صفہ 536)

مجلسی کی یہ گواہی ان کے نزدیک انتہائی زیادہ قابل اعتبار ہے کیونکہ وہ الکافی کا محقق شارح ہے جس نے اس میں صحیح اور ضعیف کو بیان کیا ہے

مرآۃ العقول

اور محمدجوادمغنیه کی کتاب

العمل بالحدیث وشروطه عند الامامیه ضمن کتاب دعوۃ التقریب صفحہ 383

صفحہ 5 از 6