مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1 - ردِ رافضیت | دفاع…

مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1

  توقیر احمد

صفحہ 6 از 6

معاصر علماء سے اس روایت کی صحت کے متعلق آگاہی  چاہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا عالم عبدالحسین مظفر کہتا ہے یہ صحیحح طرح موثق ہے

(الشافی شرح اصول الکافی جلد  صفحہ 227 )

یہ بحث تھی اس روایت کے صحیح ہونے پر اب اس روایت کے معنی کیا ہیں تو اس کی وضاحت کافی کا شارح محمد صالح بن احمد مازندانی یوں کرتا ہےقرآن کی آیات 6500 ہیں اور اس سے جو زائد حصہ ہے وہ تحریف کی وجہ سے ساقط ہو چکا ہے۔

(شرح جامع الکافی جلد11 صفحه76  )

مجلسی کہتا ہے یہ روایت اور بہت ساری دیگر صحیح روایات قرآن میں کمی اور تحریف کے حوالے سے صریح ہیں۔

 (مرآۃ العقول جلد 2 صفحہ 536)

(ابن بابویہ شروعات کے بارے میں الاعتقادات میں جو ان کے معاصر علماء کی تحقیق کے مطابق معتبر کتاب ہے۔

( الذریعہ جلد 13 صفحہ 101)

وہ کہتا ہے یقینا قرآن کے علاوہ اتنی وحی نازل ہوئی ہے کہ اگر اسے قرآن کے ساتھ جمع کرلیا جاتا تو وہ ١٧٠٠٠سترہ ہزار آیت کی مقدار کے برابر ہوتی یہ جبرائیل کے اس قول کی طرح ہے۔

(عش ماشئت فانك ميت واحبب ما شئت فإنك مفارقه واعمل ما شئت فإنك ملاقيه الاعتقادات صفحہ 102 )

اس کے بعد اس نے اس جیسی کئی مثالیں پیش کی ہیں۔

یہ حالت ہم نےتشیع کے ایک استادشاگرد کی بیان کی ہےجس سے الکافی میں سات ہزار سے زائد روایات نقل کی ہیں اور تشیع رجال خود تذبذب کا شکار ہے کہ اس کو ثقہ کہیں یا ضعیف کہیں اس کی روایات کی توثیق کریں یا تضعیف کریں۔

خلاصہ:

تو جناب آپ نے ملاحظہ فرمایاہے کہ ہم نے الکلینی کے ایک شیخ کی حالت بیان کی ہے جس کی خود کی تفسیر کو تشیع محققین نے رد کیا ہے اور شیخ علی ابن ابراهیم القمی پر تحریف القرآن کا الزام ثابت کیا ہے جبکہ الکلینی بھی القمی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریف القرآن کی روایات کو اپنی کتاب میں جگہ دیتے ہیں اور سب سے اہم بات تشیع ان روایات پر صحیح ہونے کا حکم لگاتے ہیں۔کلینی الکافی میں 7068 روایات علی بن ابراہیم القمی سے لیتاہے۔ یہ حالت ہے شیعہ کی اس کتاب کی جو زمانہ رسول ﷺ کے قریب ترین لکھی گئی جبکہ شیعہ محققین خود اقرار کرتے  ہیں کہ  زمانہ رسول ﷺ سے تین سو 300 ہجری کا علمی تراث ہمارے پاس موجود نہیں ہے اور جو ہے وہ غیر معتبر ہے

حیدر حب الله صاحب دورس فی تاریخ علم الرجال عند الامامیه صفحه 63 پر اقرار کرتے ہیں کہ پہلے دوسو سنه هجری تک امامیہ کے ہاں کوئی علم اسماء الرجال کا وجود نہیں تھا۔سنہ 400ہجری کے بعد کے مرحلے کے بارے حیدر حب اللہ صاحب لکھتے ہیں اس مرحلے میں شیعہ علم الرجال پر کتب لکھی جانے لگی یہ کتب فہارس تھیں مطلب مصنفین اور مصنفات کی تفصیل تھی بلکلیہ جرح و تعدیل پر باقاعدہ بحث نہیں تھی ضمنن بحث ہوتی تھی۔ (دروس فی علم الرجال عند الامامیہ صفحہ 90 ) مرے خیال میں ایک سلیم العقل انسان سمجھ سکتاہے۔ جس مزہب کے روایت کرنے والے ابتداء اسلام سے یعنی دور رسالت سے 400سنہ ہجری تک مجہول ہوں اس مذہب کی حالت کیا ہوگی    

نتیجہ:

جس مزہب کےمحققین کا دعوی ہو کہ یہ اصل رسول ﷺ اور آل رسول ﷺ کا مذہب ہے لیکن اس مذہب کے محققین اپنے لیے بطور حجت نزول وحی الهی (قرآن) نا رکھتے ہوں اور جب اس مذہب کے اصول الدین بطور دینِ اسلام تسلیم کرنےکےلیےوحی غیر متلو (فرمادات رسول ﷺ) لانے کا سوال کیا جائے تو وہ نالاسکیں تو ایسے مذہب کو کیسے منزل من اللہ کہا جاسکتاہے۔اور جس مذہب کے اور اس سے بڑی مصیبت اس مذہب کے لیے رسول ﷺ اور 

اہلبیت رسول ﷺ  سے  400 سالہ  سنہ ہجری کا انقطاع رجالی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شیعہ مزہب تاریخی مذہب ہے اللہ رسول ﷺ کا بیان کردہ نہیں ہے شیعہ مذہب شیعہ علماء ومحققین کا گھڑا ہوا مذہب ہے اہلبیت رسول ﷺ کا مذہب نہیں ہے۔

(مکمل تفصیلات رسالہ علم رجال میں تشیع کی حالت زار)

#جاری____ہے


صفحہ 6 از 6