رافضیوں کا تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

رافضیوں کا تعارف

  علامہ ڈاکٹر عبد اللہ الجمیلی

صفحہ 2 از 2

نیز فرماتے ہیں : ’’ زید کے خروج کے زمانہ میں شیعہ رافضہ اور زیدیہ میں تقسیم ہوگئے؛ اس لیے کہ جب آپ سے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے ان کے لیے رحم کی دعا کی تو لوگ ان کا ساتھ چھوڑ گئے، آپ نے فرمایا : ’’ رفضتمونی‘‘…’’تم نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔‘‘ ان کے حضرت زید بن علی کا ساتھ چھوڑ دینے کی وجہ سے ان کا نام رافضی پڑگیا۔ اور جن لوگوں نے آپ کا ساتھ نہیں چھوڑا انہیں زیدیہ کہا جانے لگا۔‘‘

[منہاج السنۃ ۱/ ۸۔]

اس نام پر رافضیوں کا موقف :

رافضی اس نام کی وجہ سے دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ ’’رافضہ ‘‘ مذموم صفت ہے اور ان کا یہ نام ان کے مخالفین اور دشمنوں نے رکھا ہے۔

سماعۃ بن مہران کہتے ہیں : صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے:’’ لوگوں میں سب سے برے کون ہیں ؟ میں نے کہا : ہم ہیں، اس لیے کہ لوگ ہمیں کفار اور رافضی کہتے ہیں۔ تو انہوں نے میری جانب دیکھا، اور فرمایا: ’’ اس وقت کیا عالم ہوگا جب تم لوگوں کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا، اور انہیں جہنم کی طرف ؛ وہ تم لوگوں کو دیکھیں گے اور کہیں گے :

{وَقَالُوْامَالَنَا لَانَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّ ھُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِ } (ص: ۶۲)

’’ اور کہیں گے کیا سبب ہے کہ (یہاں ) ہم ان شخصوں کو نہیں دیکھتے جن کو بُروں میں شمار کرتے تھے۔‘‘

[علی بن یونس العاملی النباطی : الصراط المستقیم إلی مستحقی التقدیم ۳/ ۷۶۔]

محسن امین کہتا ہے : ’’ رافضہ ایک لقب ہے، جو ان لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت میں مقدم رکھتے ہیں۔ اکثر یہ لفظ بطور انتقام تشفی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اور جب عصبیت کی ہوا اٹھی تو اس نام کا اطلاق شیعہ تک ہی نہیں رہا ؛ بلکہ انتقام کی آگ نے انہیں اس بات پر مجبور کیا کہ:’’ اس بارے میں محبین اہل بیت اور ان سے موالات رکھنے والے جن کے متعلق وصیت ہے، اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقلین میں سے ایک قرار دیا ہے؛اورجن کے ساتھ تمسک رکھنے والا گمراہ نہیں ہوگا۔‘‘کہ [ان کی زبانی] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات گھڑی جائیں۔

جملہ مؤلفات میں یہ بات منتشر ہے کہ یہ لقب (رافضہ) زید بن علی بن حسین علیہ السلام کے زمانے میں پڑا ؛ جب کوفہ میں ان سے شیخین کے بارے میں پوچھا گیا ؛ تو انہوں نے کہا: ’’ وہ دونوں میرے دادا کے ساتھی ہیں، اورقبر میں ان کے ساتھ لیٹے ہوئے ہیں، اوراس سے مشابہ کچھ باتیں کیں۔ تو لوگوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ؛ تو اس وجہ سے ان کا یہی نام (رافضہ) پڑگیا۔ اور یہ بات کوئی بعید نہیں ہے کہ یہ بھی گھڑی ہوئی بات ہو۔‘‘

[أعیان الشیعۃ ۱/ ۲۰-۲۱۔]

جب کہ دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ ان کا نام رافضہ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ نباطی کی کتاب ’’الصراط المستقیم إلی مستحقی التقدیم ‘‘ میں ہے:

’’ ابو بصیر نے صادق علیہ السلام [ابو عبداللہ جعفر الصادق بن محمد بن علی زین العابدین بن الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم۔ امامیہ کے نزدیک بارہ اماموں میں سے ایک ہیں۔ اور سادات ِ اہل بیت میں سے تھے۔اپنی گفتگو میں کھرے پن کی وجہ سے صادق کا لقب ملا۔ آپ کے فضائل تذکرہ کرنے سے زیادہ ہیں۔ ۸۰ہجری میں پیدا ہوئے، اور شوال ۱۴۸ ہجری میں وفات پائی۔ ابن خلکان : وفیات الأعیان ۱/۳۲۷۔] سے کہا : لوگ ہمیں رافضہ کا نام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا : نہیں اللہ کی قسم ! لوگ تمہیں یہ نام نہیں دیتے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا یہ نام رکھا ہے۔ بے شک بنی اسرائیل کے ستر بہترین انسان حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی پر ایمان لائے ؛ تو ان کا نام رافضہ رکھا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی، یہ نام تورات میں ان کے لیے لکھ دے، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ذخیرہ کر رکھا یہاں تک کہ تم لوگ اس راہ پر چلو۔‘‘

[علی بن یونس العاملی النباطی : الصراط المستقیم إلی مستحقی التقدیم ۳/ ۷۶۔]

جو بات ان کے اس نام پر فخر کرنے کو ظاہر کرتی ہے وہ نباطی کا ذکر کردہ قصہ ہے۔ وہ کہتا ہے:

’’ عمار الدہنی [عمار بن معاویہ الدہنی ؛ ابو معاویہ البلخی ؛ ابن حجر نے کہا ہے : ’’ سچا ہے، شیعیت کی باتیں کہتا ہے۔ تقریب ص ۴۰۸۔] نے ابن ابی لیلیٰ [محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اور ابی لیلیٰ کا نام یسار تھا۔ جو احیحہ بن جلاح کی اولاد میں سے ہے۔ بنی امیہ کے قاضی رہے، اور بنی عباس کے بھی۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے پہلے اپنی رائے سے فتویٰ دیا کرتے تھے۔ ۱۴۸ ہجری میں انتقال ہوا۔ ابو جعفر منصور کے ہاں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ہوئے۔ ابن الندیم الفہرست ص ۲۸۶۔] کے ہاں گواہی دی۔

انہوں نے کہا : ’’ہم آپ کی گواہی قبول نہیں کریں گے، اس لیے کہ آپ رافضی ہیں، تو (عمار) روپڑے۔ انہوں ( ابن ابی لیلیٰ) نے کہا : کیا تم روتے ہو؟، رافضیت سے براء ت کا اظہار کرتے ہوکہ ہمارے بھائیوں میں سے ہو جاؤ؟۔‘‘ (عمار) نے کہا :’’ نہیں ؛ بلکہ میں اس بات پر روتا ہوں کہ آپ نے مجھے ایک ایسے عالی مقام کی طرف منسوب کیا ہے جس کا اہل میں نہیں ہوں، اور میں تمہارے اس اتنے بڑے جھوٹ کی وجہ سے رورہا ہوں کہ تم نے میرے نام سے ہٹ کر مجھے دوسرا نام دیا ہے۔ ‘‘

ایک اور رافضی کا کہنا ہے : ’’ عقیدہ امامت ایمان میں شامل ہے۔ اور رافضیت ایسا پکا دین ہے جس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں ہے۔ علی کے دشمنوں سے دشمنی رکھنے میں نہ ہی کوئی گناہ ہے اور نہ ہی کوئی حرج۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے شرف سے سرفراز کیا کہ میں ان کے بندوں میں سے ہوں، او ر ان کی محبت میرے خون اور گوشت میں ملی ہوئی ہے۔ ولاء اور براء کے دین کے علاوہ کوئی چیز اس کے بدلہ میں نہیں چاہیے۔ اور نہ ہی اس سے ہٹ کر کسی اور راہ پر زندگی بھر چلوں گا۔

انتخاب: تحفہ شیعیت
مصنف: علامہ ڈاکٹر عبد اللہ الجمیلی
مترجم: آغا سید دلدار حشر کاشمیری


صفحہ 2 از 2