شیعہ نظریات کے حامی امام کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص جو عالم، قاری اور حافظ کچھ بھی نہیں ہے اور درست قرآت کی بھی حسبِ ضرورت طاقت نہیں رکھتا نیز عموماً ایسے واقعات و مضامین بیان کرتا ہے جو قرآن و حدیث کے خلاف ہوتے ہیں، مثلاً: ایک جمعہ کے موقع پر اس نے کہا کہ سیدنا علیؓ مشکل کشا ہے اور جو لوگ ان کو مشکل کشا نہیں مانتے ان کے کانوں میں پیشاب کریں۔ اس تفصیل کے بعد تین باتوں کا جواب شرعاً مطلوب ہے:
ایسی استعداد و نظریات کا حامل شخص مسلمانوں کیلئے امامت جمعہ و عیدین کی اہلیت رکھتا ہے یا نہیں؟ جبکہ علماء کی کمی نہیں ہے۔ جو لوگ ایسے شخص کیلئے جمعہ و عیدین کیلئے مصر ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ اگر مذکورہ بالا اوصاف کا حامل شخص اپنے بیان کئے گئے مضامین سے برأت کا اعلان کرے اور تائب ہو کر آئندہ کیلئے احتیاط کلام کا وعدہ کرے تو پھر وہ مذکورہ بالا تفصیل سے شرعاً امامت جمعہ و عیدین کی اہلیت رکھتا ہے یا نہیں؟
جواب: ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں ہے بلکہ توبہ کے بعد بھی امامت کا اہل نہیں ہے، اس کو معزول کر کے کسی صحیح العقیدہ متبع سنت عالم کو امام و خطیب بنانا چاہئے ورنہ انتظامیہ گنہگار ہو گی۔ اسی طرح جن کو اچھا امام مل سکتا ہے اور اس کے باوجود اس کے پیچھے نمازیں پڑھیں گے تو وہ بھی گناہگار ہوں گے اور ان کی نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔
ويكره تقديم المبتدع ايضا لانه فاسق من حيث الاعتقاد وهو اشد من الفسق من حيث العمل والمراد بالمبتدع من يعتقد شيئا على خلاف ما يعتقده اهل السنة والجماعة وانما تجوز الاقتداء به مع الكراهة اذا لم يكن ما يعتقده يؤدى الى الكفر عند اهل السنة اما لو كان مؤديا الى الكفر فلا يجوز اصلا كالغلاة من الروافض الذين يدعون الالوهية لعلىؓ
(الحلبي كبيرى: صفحہ، 443)
(ارشاد المفتين: جلد، 3 صفحہ، 379)