قاتلین حسین عوامی عدالت میں! - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قاتلین حسین عوامی عدالت میں!

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 1 از 7

قاتلین حسین عوامی عدالت میں! (مولانا اللہ یار خان)

 امام مظلوم

حضرت حسینؓ نے وطن سے دُور جس بےنوائی کی حالت میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی اور جس عظیم قربانی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے کنبے کو شہید کروایا اس کی مثال تاریخِ انسانی میں ڈھونڈے نہیں ملے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسلام کے اس عظیم فرزند پر مصائب کس جانب سے آئے، کون سے ہاتھ ان کے لیے آگے بڑھے اور کیوں؟
اس واقعہ کے عینی شاہد یا تو قاتل ہیں یا مقتولین کے گروہ میں سے جو بچ گئے۔ اس لیے سادہ طریق تحقیق تو یہ ہے کہ بچے کھچے  مظلومین سے پوچھا جائے کہ تمہارا قاتل کون ہے اور قاتل گروہ سے پوچھا جائے کہ تمہارا جواب دعویٰ کیا ہے۔ اگر مدعی کے بیان کے بعد ملزم اپنے جرم کا اقرار کر لے تو کسی شہادت کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اقرارِ جرم کے بعد ملزم، ملزم نہیں رہتا بلکہ مجرم قرار پاتا۔
موضوع:
قاتلین حسین کون تھے؟ شیعہ یا غیر شیعہ؟
جواب کے لیے مقدمات:
 1۔ مدعی کون تھے؟
 2۔ مدعا علیہ کون ہے یعنی مدعی کا دعویٰ کس کے خلاف ہے؟
 3۔ گواہ کون ہیں؟
 4۔ کیا وہ عینی شاید ہیں یا ان کی شہادت سماعی ہے؟
 5۔ اگر یہ شہادت مدعی کے بیان کے موافق ہے تو دعویٰ ثابت اگر خلاف ہے تو مردود
ان امور کی روشنی میں واقعہ کا جائزہ لینا چاہیے۔
 مقدمہ اول:
مدعی حضرت حسینؓ، آپؓ کے اہلبیت اور آپؓ کے ہمراہی ہیں۔ جن پر ظلم ہوا۔ یہ خیال رہے کہ شیعہ کے نزدیک امام معصوم ہوتا ہے  یعنی گناہ صغیرہ اور کبیرہ سے پاک ہوتا ہے اور مفترض الطاعتہ ہے۔
 مقدمہ دوم:
مدعا علیہ وہ تمام لوگ ہیں جنہوں نے حضرت حسینؓ کو بلایا اور ظلم سے قتل کیا۔
 مقدمہ سوم:
قاعدہ کی رو سے گواہ مدعی اور مدعا علیہ سے جدا کوئی اور ہونا چاہیے۔
 مقدمہ چہارم:
کوئی عینی شاہد نہیں جو چشم دید واقعہ بیان کر سکے کیونکہ کربلا چٹیل میدان تھا، اس کے گرد کوئی آبادی نہ تھی اس لیے جو گواہ پیش ہو گا اس کی شہادت سماعی ہوگی۔
 مقدمہ پنجم:
چونکہ شہادت سماعی ہے اس لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ گواہ نے یہ واقعہ قاتلین کی زبانی سنا یا مقتولین کی زبان سے، جو صورت بھی ہو یہ دیکھنا ہو گا کہ شہادت مدعی کے دعویٰ کے مطابق ہے تو  قبول ورنہ مردود۔ اگر شہادت مدعی کے بیان کے خلاف ہے تو لازم آئے گا کہ گواہ نے مدعی کو جھوٹا قرار دیا اور امام معصوم کو جھوٹا قرار دینے والے کی شہادت کیونکر قبول ہو سکتی ہے۔ لہٰذا کوئی ایسی روایت یا خبر کسی راوی اور  خواہ کسی کتاب سے لی گئی ہو لازماً مردود ہوگی۔
یاد رہے اس تحقیق کے بعد جو مجرم ثابت ہو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اسے مجرم سمجھے ورنہ اس آیت کا مصداق ہو گا
وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا (پارہ 5 آیت 112)
 دعویٰ کی تفصیل۔ بیانات مدعیان
بیان مدعی نمبر 1:
حضرت حسینؓ نے میدانِ کربلا میں دشمن کی فوج کو مخاطب کرکے فرمایا:-
"اے اہل کوفہ! حیف ہے تم پر، کیا تم اپنے  خطوط اور وعدوں کو بھول گئے جو تم نے خدا تعالیٰ کو اپنے اور ہمارے درمیان دے کر لکھے تھے کہ اہل بیت آئیں ہم ان کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں گے۔ حیف ہے تم پر۔ تمہارے بلاوے پر ہم آئے اور تم نے ہمیں ابن زیاد کے حوالے کر دیا اور ہمارے لئے فرات کا پانی بند کر دیا واقعی تم لوگ رسولﷺ کے بڑے خلاف ہو کہ حضور کی اولاد کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔ اللہ تمہیں قیامت کے دن سیراب نہ کرے۔"
( ذبح عظیم حوالہ ناسخ التواریخ: صفحہ 335)
امام کے بیان سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔
1۔ اہل کوفہ نے امام کو خطوط لکھ کر کوفہ بلایا اور عہد دیا کہ امام کی مدد کے لئے مرنے مارنے پر تیار ہوں گے۔
2۔ جنہوں نے خطوط لکھ کر کوفہ بلایا انہوں نے امام پر پانی بند کردیا اور امام کو قتل لیے ابن زیاد کے حوالے کر دیا۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ بلانے والے شیعہ تھے یا کوئی اور گروہ تھا۔
اہل تشیع مجتہد قاضی نور اللہ شوستری نے مجالس المؤمنین صفحہ 25 مجلس اول میں تصریح کر دی۔
"تشیع اہل کوفہ حاجت با قامت دلیل نداردوسنی بودن کوفی الاصل خلاف اصل ومحتاج دلیل است اگرچہ ابو حنیفہ کوفی است"
" اہل کوفہ کے شیعہ ہونے کے لیے کسی دلیل کی حاجت نہیں۔  کوفیوں کا سنّی ہونا خلافِ اصل ہے جو محتاجِ دلیل ہے اگرچہ ابو حنیفہ کوفی تھے"
شیعہ عالم شوستری کی شہادت کے مطابق اہل کوفہ کا شیعہ ہونا اظہر من الشمس ہے۔
پھر بھی مزید دو شہادتیں پیش کی جاتی ہیں۔

صفحہ 1 از 7