قاتلین حسین عوامی عدالت میں! - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قاتلین حسین عوامی عدالت میں!

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 7

 ا۔ جب مقام زیالہ پر امام حسین (رضی اللہ عنہ) کو امام مسلم کی شہادت کی خبر ملی
تو امام نے فرمایا "خذلنا شیعتنا یعنی ہمارے شیعہ نے ہمیں ذلیل کیا ہے"
(خلاصہ المصائب: صفحہ 49)
 ب۔ جلال العیون اردو۔ حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) نے معرکہ کربلا میں شیعہ کو مخاطب کرکے فرمایا:
"تم پر اور تمہارے ارادے پر لعنت ہو اے بے وفایان جفاکار! تم نے ہنگامہ اضطراب واضطرار میں ہمیں اپنی مدد کے لیے بلایا جب میں نے تمہارا کہنا مانا اور تمہاری نصرت اور ہدایت کرنے کو آیا اس وقت تم نے شمشیر کینہ مجھ پر کھینچی اپنے دشمنوں کی تم نے یاوری اور مددگاری کی اور اپنے دوستوں سے دستبردار ہوئے۔"
 ان بیانات سے ثابت ہو گیا کہ امام کو شیعوں نے بلایا۔ انہوں نے پانی بند کیا اور انہوں نے ہی قتل کے لیے ابن زیاد کے حوالے کیا۔
جلاء العیون میں امام کے بیان کے دوران شمشیر کینہ کا لفظ قابل توجہ ہے یعنی کوفی شیعوں کے دلوں میں کوئی پرانا  بغض تھا اس لیے انتقام لینے کی  غرض سے یہ ناٹک کھیلا۔ تاریخی اعتبار سے اس دیرینہ عداوت کی وجہ اس کے بغیر کیا ہو سکتی ہے کہ اسلام کے شیدائیوں اور نبی کریمﷺ کے پروانوں نے اہل کوفہ سے اپنا آبائی مذہب  چھڑا کر اسلام کی دولت عطا کی اور صدیوں کی پرانی سلطنت عرب مسلمانوں کے زیرنگیں آ گئی۔ آخر قومی اور مذہبی تعصب بروئے کار آ کے رہا۔
 نتیجہ مدعی نمبر 1 کے بیان کے مطابق امام کے قاتل اہل کوفہ شیعہ تھے کوئی اور نہیں تھا۔
 بیان مدعی نمبر۔2
حضرت امام زین العابدین:
( احتجاج طبری: طبع ایران: صفحہ 159)
"اے لوگو! میں تمہیں خدا کی قسم دلاتا ہوں کیا تمہیں علم نہیں کہ تم نے میرے والد کو خطوط لکھے اور انہیں دھوکہ دیا۔ تم نے پختہ ارادہ اور  بیعت کا عہد لیا اور تم نے انہیں قتل کیا ذلیل کیا۔ خرابی ہو تمہارے لئے جو کچھ تم نے اپنے لیے آگے بھیجا ہے اور خرابی ہو تمہاری بری رائے کی۔ تم کس آنکھ سے رسول کریمﷺ کو دیکھو گے جب وہ فرمائیں گے تم نے میری اولاد کو  قتل کیا میری بےحرمتی کی۔ تم میری امت سے نہیں ہو۔ پس رونے کی آواز بلند ہوئی اور ایک دوسرے کو بددعا دینے لگے کہ تم ہلاک ہو گئے جس کا تمہیں علم ہے۔"
 اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ بلانے والوں سے مخاطب ہیں اور وہی قاتل ہیں۔ ردِعمل میں ان کا یہ اعتراف بھی موجود ہے۔
 بیان دیگر:-
(احتجاج طبری: صفحہ 108)
"جب زین العابدین مرض کی حالت میں عورتوں کے ساتھ کربلا سے آرہے تھے اہل کوفہ کی عورتیں گریبان چاک کیے بین کرنے لگیں اور مرد بھی رو رہے تھے پس زین العابدین نے پست آواز میں فرمایا کیونکہ بیماری کی وجہ سے کمزور ہو چکے تھے  کوفہ والے روئے ہیں مگر یہ تو بتاؤ ہمیں قتل کس نے کیا؟"
ملا باقر مجلسی نے جلاالعیون صفحہ 503 پر امام کا بیان انہی الفاظ میں نقل کیا ہے۔
"امام زین العابدین نے باآوازِ ضعیف فرمایا کہ تم ہم پر گریہ اور نوحہ کرتے ہو لیکن یہ تو بتاؤ ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟
امام کے سوال اور اس لہجے کے اندر اس کا جواب پوشیدہ ہے۔
 مدعی نمبر 2 کے بیان سے یہ نتیجہ نکلا کہ:
 1۔ اہلِ کوفہ نے خط لکھے۔
 2۔ اہلِ کوفہ نے حضرت حسینؓ کو دھوکا دیا۔
 3۔ اہلِ کوفہ نے حضرت حسینؓ کو قتل کیا۔
 4۔ اہلِ کوفہ شیعہ تھے۔
 5۔ قاتلینِ حسین کوفی شیعہ امت رسولﷺ سے خارج ہیں۔
 6۔ قاتلینِ حسین رضی اللہ عنہ روئے اور ان کی  عورتوں نے گریبان چاک کئے اور بین کیے بلکہ مستقل سنت قائم کر گئے
یہ خیال رہے کہ دونوں مدعی معصوم ہیں اس لئے اپنے دعویٰ میں  صادق ہیں۔
 بیان مدعی نمبر 3: زینب بنتِ علی رضی اللہ عنہا ہمشیرہ حسین رضی اللہ عنہ۔
 جب اسیرانِ کربلا، کربلا سے  آئے کوفہ میں داخل ہوئے تو کوفہ کے مردوں اور عورتوں نے رونا پیٹنا شروع کردیا تو حضرت زینب نے فرمایا:
"حمد و صلاۃ کے بعد فرمایا اے اہل کوفہ! اے ظالموں!اےغدارو! اےرسوا کرنے والو! بہت بُرا ہے جو تم نے اپنے آگے بھیجا ہے یہ کہ اللہ تم پر ناراض ہو اور تم ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہو، تم روتے رہو ہاں روتے رہو۔ کیونکہ تمہیں رونا ہی زیب دیتا ہے۔خوب روؤ اور  کم ہنسو! کل نبی کریمﷺ کو کیا جواب دو گے جب آپ پوچھیں گے تم آخری امت ہو تم نے میرے بعد میرے اہلِ بیت اور میری اولاد سے کیا سلوک کیا ان میں سے بعض کو قیدی بنایا اور بعض کو خاک و خون میں لوٹایا"
اس خطبے کا ترجمہ باقر مجلسی میں جلاءالعیون صفحہ نمبر 503 پر یہ دیا ہے:
"اما بعد! اے اہلِ کوفہ!اے اہلِ غدور مکروحیلہ! تم ہم پر گریہ و نالہ کرتے ہو اور خود تم نے ہمیں قتل کیا ہے۔ ابھی تمہارے ظلم سے ہمارا رونا بند نہیں ہوا اور تمہارے ستم سے ہماری فریاد ونالہ ساکن نہیں ہوا۔ تم نے اپنے لئے آخرت میں توشہ و ذخیرہ بہت خراب بھیجا ہے اور اپنے آپ کو ابدالآباد جہنم کا سزا وار بنایا ہے تم ہم پر گریہ ونالہ کرتے ہو حالانکہ تم نے خود ہی ہم کو قتل کیا ہے۔ تمہارے یہ ہاتھ قطع کیے جائیں۔ اے اہلِ کوفہ! تم پر وائے ہو تم نے جگر گوشۂ رسول کو قتل کیا اور پردہ دار اہلِ بیت کو بے پردہ کیا۔ کس قدر فرزندانِ رسولﷺ کی تم نے خونریزی کی اور حرمت کو ضائع کیا"۔
 نتیجہ:
1۔  اہلِ کوفہ نے  مکروحیلہ سے امام کو بلایا۔
2۔ امام سے غداری کی اور اہلِ بیت کو قتل کیا۔
3۔ یہ سب کچھ کر لینے کے بعد رونا پیٹنا شروع کر دیا۔
4۔ ان کو ابدی جہنم کی خوشخبری سنائی گئی۔
5۔ باطل وہی تھے جو بلانے والے تھے۔ شیعہ تھے تو اس جرم کے مرتکب اور ابدی جہنم کے مستحق وہی شیعہ ٹھہرے۔
 بیان مدعی نمبر 4:
حضرت فاطمہ بنت حسین
"اما بعد اے اہل کوفہ!  اے اہلِ مکروفریب! تم نے ہمیں جھٹلایا اور ہمیں کافر سمجھا۔ ہمارے قتل کو حلال اور ہمارے مال کو غنیمت جانا جیساکہ ہم ترکوں یا کابل کی نسل سے تھے۔ جیساکہ تم نے کل ہمارے جد(علی) کو قتل کیا تھا تمہاری تلواروں سے ہمارا خون ٹپک رہا ہے۔ سابقہ کینہ کی وجہ سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں دل خوش ہوۓ تم نے خدا کے مقابلے میں جرأت کی اور مکر کیا اور اللہ اس مکر کی خوب سزا دینے والا ہے۔"
 بیٹی امام مظلوم کے بیان کا نتیجہ 
 1۔ کوفہ کے شیعوں نے اہل بیت کو کافر سمجھا اور ان کا خون حلال سمجھا۔
 2۔ شیعوں کو اہل بیت سے کوئی پرانی دشمنی تھی۔
 3۔ حضرت علیؓ کے قاتل شیعہ ہیں۔
 4۔ اہل بیت کو قتل کر کے یہ لوگ  خوش ہوئے۔
وہ رونا پیٹنا محض ایکٹنگ تھی۔
 بیان مدعی نمبر 5:
ام کلثوم ہمشیرہ حضرت حسین رضی اللہ عنہما
جب کوفی عورتوں نے اہلبیت کے بچوں کو صدقے کی کھجوریں میں نے شروع کیں تو مائی صاحبہ نے فرمایا؛ صدقہ ہم پر حرام ہے۔ یہ سن کر  کوفی عورتیں رونے پیٹنے لگیں اس پر مائی صاحبہ نے فرمایا!
" یہ اہلِ کوفہ ہم پر تصدق حرام ہے۔ اے زنان کوفہ! تمہارے مردوں نے ہمارے مردوں کو قتل کیا ہم اہلبیت کو اسیر کیا ہے پھر تم کیوں روتی ہو؟"
( جلاءالعیون: صفحہ 507)
 نتیجہ ظاہر ہے۔ ان پانچ مدعیان کے بیانوں میں قدر مشترک یہ ہے:
 1۔ اہلِ کوفہ نے امام حسین کو دعوت دی، خطوط خود لکھے۔
 2۔ دعوت دینے والے شیعہ تھے۔
 3۔ ان بلانے والے شیعہ نے امام کو قتل کیا، اہل بیت کو اسیر کیا، ان کا مال لوٹا۔
 4۔ قاتلینِ حسینؓ کی عورتوں نے گریبان چاک کیے، بین کیے۔
 5۔ قاتلینِ حسینؓ شیعہ امت رسولﷺ سے خارج ہیں۔
ایک اور ہستی کا بیان ملاحظہ ہو جسے مدعی بھی کہہ سکتے ہیں اور گواہ بھی وہ ہیں امام باقر انہوں نے یہ واقعات لازماً اپنے والد امام زین العابدینؒ سے سنے ہوں گے اور وہ خود بھی بقول شیعہ امام معصوم ہیں۔
جلاء العیون: صفحہ 326
"جب امیرالمؤمنین سے بیعت کی پھر ان سے بیعت شکستہ کی اور ان پر شمشیر کھینچی اور امیرالمؤمنین ہمیشہ ان سے بمقام مجادلہ اور محاربہ تھے اور ان سے آزاد مشقت پاتے تھے۔  یہاں تک کہ ان کو شہید کیا اور ان کے فرزند امام حسن سے بیعت کی اور بعد  بیعت کرنے کے ان سے غدر اور مکر کیا اور چاہا کہ ان کو دشمن کو دے دیں۔ اہل عراق سامنے آئے اور خنجر ان کے پہلو پر لگایا اور خیمہ ان کا لوٹ لیا یہاں تک کہ ان کی کنیز کے پاؤں سے خلخال اتار لئے اور ان کو  مضطرب اور پریشان کیا حتیٰ کہ انہوں نے معاویہ سے صلح کرلی اور اپنے اہل بیت کے خون کی حفاظت کی اور ان کے اہلبیت کم تھے۔ پس ہزار مرد عراقی نے حضرت حسینؓ کی بیعت کی اور جنہوں نے بیعت کی تھی خود انہوں نے شمشیر امام حسین پر چلائی اور ہنوز بیعت امام حسین ان کی گردنوں میں تھی کہ امام کو شہید کیا"۔
اس بیان سے بات بالکل واضح ہو گئی۔
"سابقہ کینہ کے شواہد"
فاطمہ دختر امام حسین کے بیان میں سابقہ کینہ کے الفاظ ہیں ان کی تاریخی تعبیر یہ ہے:
1۔ جلاالعیون صفحہ 230 پر بیان ہے کہ عبدالرحمٰن ابن ملجم نے حضرت علیؓ کی بیعت کی اور بیعت کر کے جناب امیر (حضرت علیؓ) کو شہید کیا۔
کہا جاتا ہے کہ یہ خارجی تھا مگر تاریخ سے اس بات کا نشان تک نہیں ملتا کہ خارجیوں نے کبھی حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی ہو۔ وہ تو کھلم کھلا مخالفت کرتے تھے اور تقیہ بھی نہیں کرتے تھے۔ جب ابن ملجم نے جناب امیر کی بیعت کی تو شیعان علی میں شامل ہو گیا۔ یعنی حضرت علیؓ کا قاتل بھی شیعہ تھا۔
احتجاج طبری طبع ایران صفحہ 150 امام حسن کا بیان:
"خدا کی قسم میں معاویہ کو ان شیعوں سے اچھا سمجھتا ہوں۔ وہ میرے شیعہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور انہوں نے مجھے قتل کرنا چاہا اور میرا مال لوٹ لیا۔"
ان اقتباسات سے ظاہر ہے شیعوں نے حضرت علیؓ کو قتل کیا، حضرت حسنؓ کو قتل کرنا چاہا، اور حضرت حسینؓ کو قتل کرکے دم لیا۔ غالباً اسی بنا پر حضرت علیؓ نے دس شیعہ دے کر حضرت امیر معاویہؓ سے ایک آدمی لے لینے کی آرزو کی تھی۔
نہج البلاغہ جلد اول صفحہ 189 حضرت علیؓ فرماتے ہیں:-
"فاخذ منی عشرۃ واعطانی رجلا منھم"
گویا امیر معاویہؓ کے ساتھی ایمان اور وفاداری میں اتنے قابلِ اعتماد تھے کہ حضرت علیؓ ان کا ایک آدمی لے کر اس کے بدلے دس شیعہ دینے کو تیار تھے۔ قرآن مجید میں ایک اور دس کی نسبت کا ذکر ہے۔

صفحہ 2 از 7