قاتلین حسین عوامی عدالت میں! - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قاتلین حسین عوامی عدالت میں!

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 4 از 7

"اے مسلمانوں تمہارے 20 صابر  آدمی میں کفار کے 200 پر غالب آ سکتے ہیں"۔
ممکن ہے حضرت علیؓ نے بھی تقابل میں اسی کی رعایت ملحوظ رکھی ہو۔
حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو امیر معاویہؓ پر اعتماد تھا اور انہوں نے ان دونوں کی حفاظت بھی کی۔ دونوں حضرات نے حضرت امیر معاویہؓ کی بیعت بھی کر لی اور ان سے وظیفہ بھی لیتے رہے۔ اس کے برعکس شیعہ نے ایک بھائی کو قتل کرنا چاہا دوسرے کو قتل کر دیا۔
 اب مدعا علیہ کے جوابِ دعویٰ کو دیکھنا ہے۔ اگر اس میں اقرارِ جرم موجود ہے تو شہادت کی ضرورت نہیں۔ اگر انکار کرے تو گواہ ضروری ہیں۔
 بیان مدعا علیہ:
مجالس المؤمنین میں قاضی نور اللہ شوستری بیان فرماتے ہیں:۔ صفحہ 441
"اب ہم اپنی بد اعمالیوں پر نادم ہیں چاہتے ہیں توبہ کریں شاید اللہ تعالیٰ ہم پر رحمت فرما کر ہماری توبہ قبول کر لے اور جماعت سے جتنے لوگ( ابن زیاد کی فوج میں امام کو قتل کرنے) کربلا میں گئے تھے صبح عذر کرنے لگے۔ سلیمان بن صرد نے کہا اس کے سوا چارہ نہیں کہ ہم اپنے آپ کو تیغ بدست میدان میں لائیں جیسے بنی اسرائیل نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا الخ یہ کہہ کر تمام شیعہ استغفار کے لیے زانو کے بل گر پڑے"
 نوٹ: سلیمان بن صرد وہی شخص ہے جس کے مکان میں جمع ہو کر شیعہ نے امام کو کوفہ آنے کا دعوت نامہ تیار کیا تھا۔ مدعا علیہ نے اقرارِ جرم کر لیا اور توبہ بھی کر لی مگر فائدہ؟
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
مدعا علیہ نے اقرار جرم کر لیا اور ثابت ہو گیا کہ حضرت حسینؓ کے قاتل کوفی شیعہ ہیں۔ جنہوں نے امام کو گھر بلا کر بےدردی سے قتل کیا۔ مگر احتیاطاً مزید چھان بین کر لینی چاہیے۔ ممکن ہے کہ کسی اور کا ہاتھ بھی ہو۔
(خلاصۃ المصائب: صفحہ 201)
لیس فیھم شامی ولا حجازی بل جمیعھم من اھل الکوفۃ
" امام حسین کے قاتلوں میں کوئی ایک بھی شامی یا حجازی نہیں تھا بلکہ سب کے سب کوفی تھے"
 ظاہر ہے وہ اہل کوفہ وہی تو تھے جو شیعہ تھے اور امام کو کوفہ آنے کی دعوت دی تھی۔ مگر حیرت ہے کہ اماموں کو قتل کرنے والوں کے متعلق شیعہ کے ہاں ایک عجیب فتویٰ ہے۔
جلاء العیون صفحہ 413:
" احادیث کثیرہ میں ائمہ اطہار علیہم السلام سے منقول ہے کہ پیغمبروں اور ان کے اوصیاء کو اور ان کی ضروریات کو قتل نہیں کرتا مگر ولد الزنا، اور ان کے قتل کا ارادہ نہیں کرتا مگر فرزندزنا فامنۃ اللہ علیہم اجمعین الی یوم الدین۔
"مدعیان نے ان کوفی شیعوں کو جہنم کی بشارت تو دے دی تھی اب آئمہ اطہار کے اس فتویٰ سے ان کی دنیوی حیثیت بھی متعین ہو گئ۔ ممکن ہے کوفہ کے شیعوں کو یہ فتویٰ نہ پہنچا ہو مگر علم نہ ہونے سے حکومت تو نہیں بدل جاتا۔ آخر یہ آئمہ اطہار کا فتویٰ ہے کسی عام آدمی کا نہیں۔
ایک امر غور طلب باقی رہ گیا ہے کہ چلو امام کےقاتل اہل کوفہ شیعہ ثابت ہو گئے، مگر یزید کا حصہ اس میں ضرور ہوگا کیونکہ وہ حاکم وقت تھا۔ مدعا علیہ سے ہی اس کے متعلق پوچھتے ہیں شاید وہ اسے بھی اپنے ساتھ شامل کریں۔
1۔ احتجاج طبری صفحہ 162 امام زین العابدین نے یزید سے سوال کیا میں نے سنا ہے تم میرے والد کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ یزید نے جواب دیا:
"قال یزید لعن اللہ ابن مرجانۃفواللہ ما امرتہ بقتل ابیک ولو کنت متولیا لقتالہ ما قلتہ"
"یزید نے کہا اللہ ابن زیاد پر لعنت کرے بخدا میں نے اسے تیرے والد کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ اگر میں خود معرکہ کربلا میں ہوتا تو انہیں ہرگز قتل نہ کرتا"
مدعا علیہ نے یزید کی صفائی پیش کر دی مگر اس کا بیان کافی نہیں حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔
 1۔ خلاصۃ المصائب صفحہ 304 جب شمر نے امام کا سر یزید کے سامنے پیش کیا اور انعام کا مطالبہ کیا تھا تو
فغضب یزید ونظر الیہ نظرا شدید او قال ملاء اللہ رکابک نارا ویل لک افا علعت انہ خیر الخلق فھم قتلتہ اخرج من بین یدی لا جائزۃ لک عندی۔
"پس یزید نے غضب ناک ہو کر  شمر کی طرف دیکھا اور کہا اللہ تیری رکاب کو آگ سے بھر دے۔ تیرے لیے ہلاکت ہو۔ جب تجھے یہ علم تھا کہ یہ ساری مخلوق سے افضل ہیں تو نے انہیں کیوں قتل کیا۔ دور ہو جا میری آنکھوں سے تیرے لیے کوئی انعام نہیں"
 2۔ جلاء العیون صفحہ 529 پر ہے کے نام کے طالب کو قتل کردیا۔
اگر یزید نے قتل کا حکم دیا تھا تو شمر کہہ دیتا کہ آپ نے حکم دیا تھا میں نے تعمیل کی اور یہ بات روایت میں مذکور ہوتی مگر ان میں سے کوئی صورت بھی موجود نہیں۔
 4۔ نہج الاحزان طبع ایران صفحہ 321
کسے وارد شد خبر دو گفت دیدۂ تو
روشن کہ سر حسین وارد شدآں نظر غضبناک
کردو گفت دیدہ ات روشن مباد
" کسی نے یزید کو اطلاع دی تیری آنکھیں روشن ہوں حسین کا سر آ گیا۔ یزید نے  نگاہِ غضب سے دیکھا اور کہا تیری آنکھیں بے نور ہوں"
ان روایات سے ظاہر ہے کہ مجرموں نے یزید کو بری قرار دیا ہے۔ غالباً اسی بنا پر امام زین العابدین کو تسلی ہو گئی اور یقین آ گیا۔ امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے  قتل میں یزید کا ہاتھ نہیں۔ اس لیے انہوں نے یزید کی بیعت کر لی بلکہ یہاں تک کہہ دیا
انا عبد مکرہ اشئت فاسک وان شئت فبع۔
"اے یزید میں تمہارا غلام ہوں۔ چاہے مجھے رکھ لے چاہے فروخت کر دے"
( روضہ کافی: جلاء العیون)
یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ قاتلینِ حسین کوفی شیعہ تھے جیسا کہ مدعیان کا دعویٰ ہے اور مدعا علیہ نے اقرارِ جرم کر لیا۔ البتہ ایک مسئلہ حل طلب ہے۔
اصول کافی طبع نو لکشور صفحہ 158 پر ایک اصول بیان ہوا ہے:-
ان الائمۃ یعلمون متی یموتون وانھم لا یعرتون الا باختیارھم
"تحقیق ائمہ کرام کو اپنی موت کے وقت علم ہوتا ہے اور وہ اپنے اختیار سے مرتے ہیں"
اصول کے پیش نظر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں:
  1: حضرت حسینؓ کو علم تھا کہ اہلِ کوفہ غدار ہیں۔ مجھے بلا کر قتل کریں گے کیونکہ امام کو ماکان‏ وما یکون کا علم ہوتا ہے اور امام کے پاس رجسٹر بھی ہوتا ہے پھر آپ کو فہ کیوں گئے؟ اگر یہ کہا جائے کہ ان کی اصلاح کے لئے گئے تھے تو خود جاتے۔ اپنے اہل بیت کو کیوں ساتھ لے گئے؟ اپنی شہادت اور اہل بیت کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا علم ہونے کے باوجود یہ اقدام کیوں کیا؟
 2۔ امام جب اپنے اختیار سے موت قبول کی اسے پسند کیا تو سالہا سال سے ان کی موت پر رونا پیٹنا کس وجہ سے ہے؟ اگر محبت سے ہے محبت کا تقاضا یہ ہے کے اپنی پسند محبوب کی پسند کے تحت ہو۔ اگر امام کی پسند کے خلاف احتجاج ہے تو یہ بھی غیر معقول۔ البتہ  اپنے فعل پر ندامت ہے کہ امام کو قتل کیوں کیا تو یہ بات معقول نظر آتی ہے۔
3۔ بقول شیعہ حضرت علیؓ نے تقیہ کیا اصحاب ثلاثہ کی بیعت کر کے تقیہ کرنے کا ثواب بھی حاصل کیا بلکہ نو حصے دین بچا لیا اور اپنی بھی جان بچائی۔ امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے تقیہ کیوں نہ کیا۔ اپنے والد کی سنت کی پیروی بھی ہو جاتی۔ تقیہ کا ثواب بھی ملتا۔ جان بھی بچ جاتی اور اہل بیت بھی مصائب سے بچ جاتے۔
تقیہ کے فضائل کی بحث طویل ہے۔ البتہ چند ایک باتیں بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
اصول کافی باب التقیہ صفحہ 482 امام جعفر فرماتے ہیں:-
یا ابا عمران تسعتہ اعشار الذین فی التقیتہ لا دین لمن لا تقیتہ لہ۔
"اے ابو عمر 9/10 حصہ دین کا تقیہ کرنے میں ہے جو تقیہ نہیں کرتا وہ بےدین ہے"
(تفسیر حسن عسکری: طبع ایران 129)
قال رسول اللہ مثل المومن لا تقیتہ لہ کمثل جسد لا راس لہ۔
"رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تارکِ تقیہ مومن کی مثال ایسی ہے جیسے بدن بغیر سر کے۔"
 ظاہر ہے کہ جس طرح سر کے بغیر بدن بےکار ہے اسی طرح تقیہ کے بغیر ایمان کسی کام کا نہیں۔
3۔ ایضاً
"امام زین العابدین نے فرمایا اللہ تعالیٰ مومن کے تمام گناہ بخش دے گا اور دنیا سے پاک کرکے نکالے گا مگر وہ گناہ نہیں بخشے گا اول تقیہ کا ترک کرنا دوم بھائیوں کے حقوق ضائع کرنا"
 من کل ذنب سے ظاہر ہے کہ شرک اور آئمہ کو قتل کرنا بھی قابل معافی گناہ ہیں۔ ہاں تارکِ تقیہ کے لئے نجات نہیں۔ گویا اہلِ کوفہ امام کو قتل کر کے بھی گناہوں سے پاک ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے۔ اور امام نے جان دے کر بھی کچھ نہ پایا۔ کیونکہ ترکِ تقیہ ناقابل معافی گناہ ان کی گردن پر رہا۔ ہاۓ امام مظلوم کی دوہری مظلومیت لطف یہ کہ بات امام مظلوم کے بیٹے کی زبان سے کہلوائی گئی ہے۔
اسی وجہ سے عبدالجبار معتزلی نے اپنی کتاب مغنی میں شیعہ سے ایک سوال کیا کہ شیعہ کا عقیدہ ہے تقیہ ضرورت کے وقت جائز ہے اور خوفِ جان ہو تو تقیہ فرض ہے۔ ایسی حالت میں جو تقیہ نہ کرنے کی وجہ سے مارا گیا وہ ملعون موت  مرا، اس نے خدا کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ مگر کربلا میں امام حسین نے اپنی جان ہی نہیں دی اہل بیت کو شہید کرایا۔ ان پر مصائب آئے تو اس کی اصل وجہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا تقیہ نہ کرنا ہے۔ اگر وہ تقیہ کرکے یزید کی بیعت کر لیتے تو خدا کی نافرمانی بھی نہ ہوتی اور جان بھی بچ جاتی۔ حالانکہ امام حسن (رضی اللہ عنہ) نے تقیہ کر کے امیر معاویہؓ کی بیعت کر لی۔ حضرت علیؓ نے تقیہ کر کے خلفائے ثلاثہ کی بیعت کر لی۔ اس لیے آپ حضرات شیعہ کیا کہتے ہیں کہ امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی موت کس قسم کی تھی؟
ابوجعفر طوسی نے تلخیص شافی صفحہ 471 پر اس سوال کو یوں نقل کیا ہے:-
" جب ابن زیاد نے امام حسین (رضی اللہ عنہ) کو اس شرط پر ایمان دی کہ یزید کی بیعت کر لیں امام نے اسے قبول نہ کیا۔ اپنی جان اور اپنے متعلقین کی جان بچا لیتے۔ انہوں نے ترکِ تقیہ کر کے ان جانوں کو ہلاکت میں کیوں ڈالا حالانکہ ان کے بھائی امام حسن (رضی اللہ عنہ) نے بلا خوفِ جان حکومت امیر معاویہ کی سپرد کر دی تھی۔ دونوں بھائیوں کے فعل کو کیسے جمع کر سکتے ہو"
شریف مرتضی اور ابو جعفر طوسی کی طرف سے جواب یہ دیا گیا:-
جب حضرت حسینؓ نے دیکھا کہ مدینہ کو لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں نہ کوفہ میں داخل ہونے کی کوئی صورت ہے تو شام کو روانہ ہوۓ کہ یزید کے پاس جائیں شاید اس مصیبت سے نجات ملے جو ابن زیاد اور اسکے ساتھیوں سے ہو رہی تھی۔ آپ روانہ ہوۓ تو عمرو سعد لشکر عظیم لیکر سامنے آگیا جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا ہے اس لیے یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ امام نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان ہلاکت میں ڈالی۔ حالانکہ یہ روایت موجود ہے کہ امام نے ابن سعد سے فرمایا تین میں سے ایک صورت اختیار کر لو یا تو مجھے واپس مدینہ جانے دو یا یزید کے پاس جانے دو کہ میں اسکے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا۔ وہ میرے  چچا کا بیٹا ہے۔ وہ میرے حق میں جو راۓ کرے سو کرے یا اسلامی سرحدوں کی طرف جانے دو۔ میں مسمانوں میں مل کر جہاد کروں گا۔ انکے ساتھ نفع نقصان میں شریک ہوں گا۔
اس بیان سے معلوم ہوا کہ حضرت حسینؓ یزید سے بیعت کرنے پر راضی تھے مگر فوج نے اس پیش کش کو ٹھکرادیا۔ معلوم ہوتا ہے ابن زیاد وغیرہ ذمہ دار لوگ امام کو گرفتار کر کے لے جانا چاہتے تھے تاکہ انعام کے حقدار ہو سکیں۔
دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ شیعیان کوفہ کی فوج بھی تقیہ کر کے امام کے خلاف لڑ رہی تھی۔ گویا دو تقیوں میں تصادم ہوگیا۔ فرق اتنا ہے کہ امام تقیہ کرنے پر آمادہ ہو گئے اور فوج عملاً تقیہ کر رہی تھی۔
تلخیص شافی صفحہ 471 پر اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے:-
"واجتمع کل من کان فی قلبہ نصرتہ وظاھرہ مع اعدائہ" ۔
"امام کے مقابل جو  فوج جمع ہوئی ان کے دلوں میں امام کی محبت اور اس کی نصرت کی آرزو تھی۔ ظاہراً وہ دشمن کے ساتھ تھے۔"
شریف مرتضی اور  طوسی نے عبدالجبار معتزلی کا جواب تو دے دیا مگر ایک اور پیچ پڑ گیا۔
مختصر بصائر الدرجات صفحہ 7:-
قال ابو عبداللہ ای الامام لا یعلم ما بصیبہ ولا الی ما یصیر امر فلیس بحجۃ اللہ علی خلقہ۔
"جو امام آنے والی مصیبت قائل نہیں رکھتا اور یہ نہیں جانتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا وہ امام ہی نہیں نہ مخلوق پر خدا کی حجت ہے"۔
 یعنی امام کو آنے والے مصائب کا  علم تھا۔ انہوں نے اپنے اختیار اور پسند سے موت  قبول کی۔ جب اس کا علم تھا تو کربلا گئے کیوں؟ عبدالجبار کا اعتراض"کہ انہوں نے اپنے آپ کو ہلاکت میں کیوں ڈالا؟" بدستور قائم ہے کیونکہ تقیہ کا فائدہ تو جب ہوتا کہ کربلا روانہ ہونے سے پہلے کرتے۔ اس موقع پر تقیہ کے ارادے کا اظہار بےموقع ہے اور بناوٹ معلوم ہوتی ہے۔

صفحہ 4 از 7