قاتلین حسین عوامی عدالت میں! - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قاتلین حسین عوامی عدالت میں!

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 5 از 7

شیعہ حضرات کبھی یہ بھی جواب دیتے ہیں کہ یہ روایت مناظرے کی کتابوں میں ہے حدیث کی کتابوں میں نہیں لہٰذا حجت نہیں"۔ بات درست  سہی مگر ان کے بڑوں کو کیوں نہ سوجھی؟ سید شریف مرتضیٰ نے شافی میں اور ابو جعفر طوسی نے تلخیص میں اس روایت کو کیوں جگہ دی؟ جب تحریفِ قرآن کا مسئلہ چلے تو طوسی کے دامن میں پناہ لیتے ہیں۔ یہاں طوسی کیوں ناقابل اعتماد قرار پایا؟

معلوم ہوا کہ حضرت حسینؓ کے دامن سے تقیہ کا داغ  دھویا نہیں جا سکتا اور سوال کا یہ حصہ بدستور قائم ہے کہ بتاؤ تمہارے اصول کے مطابق حضرت حسینؓ کی موت کس قسم کی تھی؟
آئمہ کی موت اپنے اختیار میں ہونے کا اصول تقاضہ کرتا ہے کہ
حضرت حسینؓ نے یہ موت اپنے اختیار سے پسند کی۔

محبانِ حسین بھی محبوب کی پسند کو محبوب رکھیں اور ان کی یاد میں اپنی جان دے دیں۔ رونا پیٹنا جواں مردی نہیں۔

اس موقع پر ایک دو باتیں مزید ضمناً بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
 1۔ شیعہ کہتے ہیں امام مع رفقاء پیاسے مرے مگر جلاءالعیون صفحہ 454:-
"جب پانی نہ ملا امام نے خیمے کے پیچھے بیلچہ مارا تو شیریں پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ امام نے خوب پیا اور رفقاء کو بھی پلایا۔''
 2۔ شیعہ کہتے ہیں کہ امام کی نعش کو گھوڑوں کے نیچے روندا گیا مگر اصول کافی اور جلاء العیون صفحہ 503 پر لکھا ہے:-
"امام کی نعش پر ایک شیر آ کے بیٹھ گیا اور اس نے کسی کو نعش کے قریب نہ آنے دیا۔''
ان متضاد باتوں میں سچائی کی تلاش کیجیے۔
 3۔ ملا باقر مجلسی کا بیان ہے کہ امام کا جسم ان کی موت کے بعد آسمان پر اٹھا لیا گیا اور فرشتے اس کا طواف کرتے رہتے ہیں۔
"جسم تو آسمان پر گیا زمین پر کس کو روندا گیا۔ کربلا میں روضہ کس کا بنایا گیا؟ روضے میں دفن کون ہے؟
کربلا میں جا کر زیارت کس کی ہوتی ہے؟ اگر میت کے بغیر کربلا میں روضہ بنایا جا سکتا ہے تو ہر جگہ روضہ بنا لینے میں کیا قباحت ہے؟
واقعی شیعوں کے بیانات سے تضاد رفع کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔
  اس سلسلے میں ایک اور سوال ضمناً غور طلب ہے۔ 
 شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت حسینؓ کو ہم نے قتل کیا۔ یزید کا اس میں ہاتھ نہیں۔ پھر حیرت ہوتی ہے کہ حضرت حسین جب شیعہ تھے تو شیعوں نے قتل کیوں کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ برعکس ہے۔ حضرت حسینؓ اہلسنت تھے۔ ان کا مذہب وہی تھا جو باقی عرب کا تھا۔ اسی وجہ سے کوفہ کے شیعوں نے دھوکہ دے کر حضرت حسینؓ کو بلایا اور قتل کیا۔ حضرت حسینؓ کو معلوم تھا کہ وہ شیعہ ہیں مگر ان کی اصلاح کی خاطر چلے گئے۔ ائمہ سے شیعوں کی پرانی دشمنی کا ذکر تفصیل سے ہو چکا ہے۔
ائمہ کے علم کی وسعت کا جو عقیدہ شیعہ کے ہاں مسلم ہے کہ ما کان وما یکون کا علم امام کو ہوتا ہے اس کے پیشِ نظریہ سوچنا پڑتا ہے کہ جب حضرت علیؓ کو علم تھا کہ امام حسن (رضی اللہ عنہ) نے معاویہؓ کے حق میں حکومت سے دستبردار ہونا ہے۔ امیر معاویہؓ نے یزید کو حکومت دینی ہے اور یزید کی فوج نے امام حسین (رضی اللہ عنہ) کو قتل کرنا ہے تو اصل مجرم کون ہوا؟ حضرت علیؓ یا حسن یا یزید؟
اس ممکنہ سوال کا جواب اصول کافی صفحہ نمبر 278 پر ملتا ہے امام تقی سے روایت ہے:-
فھم یحلون ما یشاؤون ویحرمون  ما یشاؤون۔
"ائمہ جس چیز کو چاہیں حلال کر لیں جسے چاہے حرام کرلیں"
یعنی حضرت حسینؓ نے اپنا اور اپنے ساتھیوں کا قتل حلال کر لیا حضرت حسنؓ نے اپنے بھائی کا قتل حلال کر لیا۔
نتیجہ یہ نکلا اس قتل کا مرتکب مجرم نہیں۔ کیونکہ فعل حلال کرنے والا ثواب کا مستحق ہے مجرم نہیں۔
اس سلسلے میں ایک اور بات کہی جاتی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کئی بار رسول اللہﷺ کو کفار کے نرغے میں چھوڑا اور بھاگ گئے پھر بھی اہل سنت  انہیں کامل الایمان سمجھتے ہیں۔ اگر شیعہ نے ایک بار حضرت حسینؓ سے یہ سلوک کیا تو کافر کیوں ہوگئے۔

صفحہ 5 از 7