قاتلین حسین عوامی عدالت میں! - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قاتلین حسین عوامی عدالت میں!

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 6 از 7

بات بڑی اونچی ہے مگر اس میں کئ سقم ہیں
1۔ تاریخ سے کوئی ایک واقعہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ کرامؓ نے حضور علیہ السلام کو کفار کے نرغے میں چھوڑ کر بھاگ جانے کی غلطی کی ہو۔ اس لیے یہ دعویٰ بھی جھوٹا ہے۔
2۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کامل الایمان تو خود خدا کہتا ہے۔ اس لیے جو خدا اور رسول کو قابل اعتماد نہ سمجھے وہ آزاد ہے جو چاہے کہتا  پھرے۔
3۔ اہل سنت کو کوئی حق نہیں کہ کسی کو کافر کہیں۔ بلکہ وہ تو  روٹھنے والوں کو منانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس کا کیا علاج کہ
ا۔ حضرت حسینؓ فرما گئے ہیں قد خذلنا شیعتنا
ب۔ امام زین العابدین کہہ گئے ہیں: نتبالکم ما قدمتم لانفسکم  نعتم من امتی۔
ج۔ زینب بنت علی کہتی ہیں: وفی العذاب انتم خالدون۔
د۔ امام  باقر کہہ گئے کہ جنہوں نے بیعت کی تھی خود انہوں نے شمسیر حضرت حسینؓ پر کھینچی اور ہنوز بیعت حضرت حسینؓ ان کی گردنوں میں تھی کہ حضرت حسینؓ کو شہید کیا۔
ر۔ نور اللہ شوستری شیعوں کی طرف سے کہے گئے: بیچ چارہ نمید انیم جزانیکہ خودرادر عرصۂ تیغ آوریم۔
اہل علم و دانش خود ہی فیصلہ کریں کہ جو عوام کو دھوکہ دے جو حضور کی امت سے خارج ہو جس کے لیے ابدی جہنم ہو۔ جو واجب القتل سمجھا جائے اسے کامل الایمان ہی کہیں گے؟
4۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پر بہتان ہے کہ حضور علیہ السلام کو کفار کے نرغے میں چھوڑ کر بھاگ جایا کرتے تھے مگر یہاں تو بات دور تک پہنچتی ہے۔ حضرت حسینؓ کو دھوکہ دیا گھر بلایا ۔حضرت حسینؓ کے ساتھ ہو کر یزید کے خلاف لڑنے کا حلفیہ عہد دیا۔ حضرت حسینؓ آئے تو آنکھیں بدل لیں۔ یزید کی فوج میں شامل ہوگئے۔ پانی بند کیا۔ امام کو نہایت بےدردی سے شہید کیا۔ اہل بیت کو رسوا کیا۔ ان کا مال لوٹا۔ اس لئے کہاں وہ بہتان اور کہاں یہ تلخ حقائق۔ اور لطف یہ کہ اتنا کچھ کر چکنے کے بعد محبان اہل بیت بن کر سینہ کوبی کرنا اور جلوس نکالنا۔ حالانکہ جلاالعیون صفحہ 519 اور صفحہ 527 پر موجود ہے کہ رونا پیٹنا یزید اور اس کے گھر سے شروع ہوا۔ اس لئے اگر یزید کی سنت سمجھ کر کیا جاتا ہے تو درست ہے ورنہ ظاہر ہے کہ جو غم مرنے والے کے پسماندگان کو ہوتا ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں ہو سکتا اور اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اہل بیت پسماندگان نے تعزیہ دلدل، علم، پنجہ غیرہ کے جلوس نکال کر اور اجتماعی طور پر سینا کوبی کر کے اظہارِ غم کیا ہو۔ اور اگر یہ عبادت ہے تو ظاہر ہے کہ ائمہ اور اہل بیت سے بڑھ کر عبادت گزار یہ ماتمی تو نہیں ہو سکتے۔ ان سے یہ عبادت کیوں چھوٹ گئی؟
ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ:
1۔ قتلِ حضرت حسینؓ میں مدعی ائمہ معصومین اور اہلِ بیت ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ ہمیں شیعوں نے قتل کیا۔
2۔ قاتلین کوفی شیعہ اقرارِ جرم کرتے ہیں۔
3۔ گواہ امام باقر ہیں۔
اگر اس کے خلاف کوئی شخص دعویٰ کرے تو
 آئمہ اوراہل بیت کا دعویٰ پیش کرے مدعا علیہ کا اقرارِ جرم پیش کرے۔
امام جعفر یا امام باقر کی شہادت پیش کرے، اس کے بغیر بےتکی بات کوئی وزن نہیں رکھتی۔
 ماتمِ حسین رضی اللہ عنہ
شیعہ حضرات کے ہاں اس عبادت( ماتم حسین) کا سراغ حضرت حسینؓ کی شہادت کے بعد ہی ملتا ہے اس لیے ہم شیعہ کتب سے اس شہادت کے متعلق چند حقائق پیش کرتے ہیں۔
الطراز المذھب مظفری طبع جدید  طہران۔ اسی کتاب کے 1: 281 پر حضرت زینب کے طولانی خطبے میں اس کی کچھ اور وضاحت ہوئی ہے۔
"اے دھوکے باز مکار اہل کوفہ کیا تم روتے ہو۔۔۔۔۔ تم نے اپنے لئے بہت برا توشہ آخرت بھیجا ہے۔ لعنت اور پھٹکار ہو تم پر"۔
حضرت زینب کے اس خطاب سے ایک بات مزید معلوم ہوئی کہ اہل  کوفہ نے  مکر و غداری سے قتل بھی کیا اور پھر رونا پیٹنا شروع کر دیا مگر اس کے باوجود لعنت اور پھٹکار کے  مستحق ہی  ٹھہرے۔
(ناسخ التواریخ: 301)
حضرت امِ کلثوم دخترِ علی اور زوجۂ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہم کا خطبہ:-
" امِ کلثوم نے فرمایا اے اہل کوفہ! تمہارا برا ہو، تمہیں کیا ہوا تم نے حسینؓ سے دھوکہ کیا اسے قتل کیا اس کا مال لوٹا اس کی خواتین کو قیدی بنایا اب روتے ہو۔ تم برباد ہو جاؤ۔ کیا تم جانتے ہو تم نے کونسا خون بہایا۔ گناہ کا کتنا بوجھ  اپنی پیٹھوں پر لادا اور کس کا مال لوٹا۔ تم نے نبی کریمﷺ کے بہترین افراد کو قتل کیا۔ تمہارے دلوں سے رحم جاتا رہا۔ خوب سن لو اللہ والے ہی کامیاب ہیں اور شیطان کا ٹولہ گھاٹے میں ہے"۔
"می فرمایدا مردم کوفہ بدبر حال شماچہ افتاد وشماراکہ حسین راخوارسا ختیدو و مخذول و بے یارو نے یار گز اشتیدو امولش را بغارت بردیدو چوں میراث خویش قسمت ساختید"۔
حضرت ام کلثومؓ کے بیان سے اہل کوفہ کے مکروفریب اور ظلم و جور کے علاوہ اہل کوفہ سے شکایت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے قتل حسین کے بعد اہل بیت کا مال بھی لوٹا اور میراث سمجھ کر آپس میں تقسیم کیا۔
ان اقتباسات سے یہ امر واضح ہو گیا کہ اہل کوفہ شیعوں نے حضرت حسینؓ کو خطوط لکھ کر بلایا۔ جب آئے تو مکروفریب سے ساتھ چھوڑ دیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ دشمن کے ساتھ مل کر حضرت حسینؓ کو قتل کیا۔ اسی پر بس نہیں پھر اہل بیت کے اموال لوٹے اور میراث سمجھ کر آپس میں تقسیم کیے۔
ایضاً صفحہ 308 میں امِ کلثوم کا ایک اور بیان:-
"وبالجملہ زنان کوفیاں برایشاں زار ز ارمی گریستند جناب ام کلثوم وسلام اللہ علیھا سراز محمل بیروں کردو بآں جماعت فرمود۔"
"یا اھل الکوفۃ تقتلنا رجالکم وتبکینا نسائکم فالحاکم بیننا وبینکم اللہ یوم فصل القضاء" ۔
"اے اہل کوفہ تمہارے مردوں نے ہمیں قتل کیا اور تمہاری عورتیں ہم پر روتی ہیں۔ اچھا اللہ تعالیٰ ہی ہمارے اور تمہارے  درمیان فیصلے کے دن فیصلہ کرے گا"
اسی کتاب کے صفحہ 311 پر
" کوفہ کی عورتوں کو گریبان چاک کیے  ہوئے روتے  پیٹتے ہوئے دیکھ کر ابو جدیلہ اسدی کو تعجب ہوا کہ یہ عورتیں کیوں یہ منظر پیش کر رہی ہیں۔ اس کے وجہ پوچھنے پر بتایا گیا کہ انہیں حضرت حسینؓ کا سر مبارک دیکھ کر رونا آیا۔"
مگر سوال یہ ہے کہ جب ان مردوں کو حضرت حسینؓ کا سر تن سے جدا کرتے ہوئے ترس نہ آیا  تو ان عورتوں کے دلوں میں غم کے جذبات کیسے ابھر آئے۔

صفحہ 6 از 7