افضل کی موجودگی میں مفضول کی ولایت کا جواز
علی محمد الصلابیافضل کی موجودگی میں مفضول کی ولایت کا جواز
شوریٰ کے اس واقعہ کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ افضل کی موجودگی میں مفضول کی ولایت جائز ہے، کیوں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے لیے چھ رکنی کمیٹی مقرر فرمائی، حالاں کہ آپؓ بخوبی جانتے تھے کہ ان میں سے بعض بعض سے افضل ہیں، اور اسی طرح مختلف علاقوں اور شہروں پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو امراء اور والیان مقرر فرمائے اس سے بھی اس کا جواز ملتا ہے، آپؓ صرف دینی فضیلت کا خیال نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کے ساتھ سیاسی بصیرت و معرفت کا بھی آپؓ خیال رکھتے، چنانچہ آپؓ نے سیدنا امیرِ معاویہ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کو امیر و والی مقرر فرمایا۔ جب کہ دین و علم میں ان سے افضل لوگ موجود تھے، جیسے شام میں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ، اور کوفہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ۔
(المدینۃ النبویۃ فجر الاسلام و العصر الراشدی: جلد، 2 صفحہ، 97)