حدیث رسولﷺ ''لو كان بعدی نبی لكان عمر بن الخطاب میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا''
اسد الطحاوی الحنفی البریلویحدیث رسولﷺ ''لو كان بعدي نبي لكان عمر بن الخطاب میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا''
مذکورہ روایت پر امن پوری کے بھونڈے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ!
ازقلم:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
امن پوری کے اعتراضات مذکورہ روایت پر درج زیل ہیں :
۱۔ یہ حدیث منکر (ضعیف) ہے
سبب ضعف!
امام ابن حبان فرماتے ہیں :
مشرح بن هاعان كنيته أبو مصعب عداده في أهل مصر يروي عن عقبة بن عامر أحاديث مناكير لا يتابع عليها روى عنه بن لهيعة والليث وأهل مصر والصواب في أمره ترك ما انفرد من الروايات والاعتبار بما وافق الثقات
مشرح بن ھاعان عقبہ سے منکر روایات بیان کی ہیں جن میں اسکا کوئی متابع نہیں ہے ان سے ابن الھیہ و لیث اور اہل مصر کے لوگوں نے روایت کیا ہے اور راجح یہی ہے کہ اس کی منفرد روایات چھوڑ دی جائیں اور ثقات کے موافق روایات لی جائیں
[المجروحین ابن حبان ، برقم: 1068]
الجواب (اسد الطحاوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جرح متعدد اسباب کے سبب باطل اور قابل رد ہے جسکی تفصیل آپ آگے پڑھینگے!
پہلی بات یہ ہے کہ اس جرح میں امام ابن حبان منفرد ہیں کہ مشرح کی عقبہ سے روایات میں نکارت ہوتی ہیں اور متقدمین و علل کے ائمہ کسی سے ایسی جرح ثابت نہیں اور ابن حبان کا تفرد ائمہ کے نزدیک کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتا چاہے وہ کلام حدیث پر ہو یا راوی پر
جیسا کہ امام ذھبی امام ابن حبان کے بارے میزان میں ایک مقام پر فرماتے ہیں :
قلت: ابن حبان ربما قصب الثقة حتى كأنه لا يدري ما يخرج من رأسه،
میں (الذھبی ) کہتا ہوں : ابن حبا ن بعض اوقات کسی ثقہ راوی پر ایسی جرح کرتا ہے کویہ کہ اسکو یہ سمجھ ہی نہیں آرہی ہوتی کے اسکے سر (یعنہ منہ یا قلم) سے کیا نکل رہا ہے (راوی کے بارے )
[میزان الاعتدال ص 247]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری وجہ !
امام ابن حبان بغیر ثبوت کے بھی راوی پر نکارت حدیث کی جرح کر دیتے تھے جیسا کہ امام ذھبی امام ابن حبان پر ایک راوی پر نکارت کی جرح کا ر د کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
قلت: ولم يقدر ابن حبان أن يسوق له حديثا منكرا،
میں (ذھبی) کہتا ہوں کہ ابن حبان اس (راوی) کی منکر حدیث کو (بطور ثبوت) پیش کرنے سے قاصر ہے
[میزان الاعتدال برقم: 8057]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسری وجہ!!
امام ابن حبان خود تردد کا شکار تھے کیونکہ امام ابن حبان نے خود مشرح کی عقبہ سے بیان کردہ روایت اپنی صحیح میں لی ہے منفرد طور پر
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عُبَيْدٍ الْمَعَافِرِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ عَلَّقَ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ»
[صحیح ابن حبان برقم: 6086]
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امام ابن حبان خود تردد کا شکار تھے یا کنفیوز تھے اس کلام میں ۔ جب مشرح کی عقبہ سے بیان کردہ مروایات کلی طور پر امام ابن حبان کے نزدیک منکر ہوتی ہیں تو خوداپنی صحیح میں لا کر امام ابن حبان نے اپنی جرح کا رد خود ہی کر دیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوتھی وجہ!!
امام ابن حبان کے بر عکس امام ابن عدی جنکا استقراء ہی راویان کی مناکیر پر تھا خاص طور پر انہوں نے بھی مشرح کی عقبہ سے مذکورہ روایت کو وہ مشرح کی منکرات میں شامل نہیں کیا ہے
امام ابن عدی ثقات اور غیر ثقات کی منکرات کو بیان کرنے میں معروف ہیں اور اس خاص فن میں امام ابن حبان پر مقدم ہیں جیسا کہ انکے الکامل کے منہج کے بارے ائمہ نے تذکرہ کیا ہے :
امام ابن حجر عسقلانی امام ابن عدی کے الکامل کے منہج کے بارے فرماتے ہیں :
وَمن عَادَته فِيهِ أَن يخرج الْأَحَادِيث الَّتِي أنْكرت على الثِّقَة أَو على غير الثِّقَة
اور انکی (ابن عدی) کی عادت ہے کہ وہ (الکامل) میں ثقہ اور غیر ثقہ راویان کی مناکیر کی تخریج کرتے ہیں
[فتح الباری ، ج1، ص 459]
اور اسی طرح دیگر محدثین نے بھی امام ابن عدی کے بارے یہی لکھا ہے !!
امام ابن عدی اپنی الکامل میں مشرح بن ھاعان کی جن منکرات کا تذکرہ کیا ہے بطور ثبوت وہ درج ذیل ہیں :
لحض حدثنا جعفر الفريابي، حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة عن مشرح بن هاعان عن عقبة بن عامر الجهني، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لو كان القرآن في إهاب ما مسته النار.
مذکورہ روایت میں مشرح پر کوئی الزام وارد نہیں ہوتا کیونکہ اسکا شاگرد ابن الھیہ خود ضعیف ، اختلاط شدہ اور مدلس راوی ہے
امام ابن عدی کی پیش کردہ دوسری روایت :
حدثنا موسى بن الحسين الكوفي، حدثنا إبراهيم بن أبي الفياض البرقي، حدثنا أشهب يعني ابن عبد العزيز، عن ابن لهيعة عن مشرح عن عقبة بن عامر عن حذيفة بن اليمان، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يكون لأصحابي بعدي زلة فيغفرها الله لهم بصحبتي وسيتأسى بهم أقوام يكبهم الله في النار على مناخرهم
مذکورہ سند میں بھی مشرح سے بیان کرنے والا ضعیف و اختلاط شدہ مدلس راوی ابن الھیہ ہے
اسکے بعد امام ابن عدی نے تیسری روایت جو بطور منکر بیان کی ہے وہ یہ ہے :
حدثنا سعيد بن هاشم بن مرثد، حدثنا دحيم، حدثنا ابن وهب، حدثنا حيوة بن شرتوح عن خالد بن عبيد المعافري عن مشرح بن هاعان أبي مصعب عن عقبة بن عامر، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من علق تميمة فلا أتم الله له، ومن علق ودعة فلا أودع الله له.
اور یہ مذکورہ روایت وہی ہے جسکو خود امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں لیا ہے ۔ نیز اس روایت کی سند میں بھی ایک علت ہے کہ مشرح بن ھاعان سے روایت کرنے والا اسکا شاگرد خالد بن عبید مجہول ہے
اسکے بعد امام ابن عدی فرماتے ہیں :
قال الشيخ: ولمشرح عن عقبة غير ما ذكرت يروي عنه بن لهيعة وغيره من شيوخ مصر وأرجو أنه لا بأس به
اما م ابن عدی کہتے ہیں : مشرح کی عقبہ کے طریق سے مروایات جو میں نے ذکر کی ہیں اسکے علاوہ مروایات بھی ہیں جو ان سے ابن الھیہ اور مصر کے شیوخ روایت کرتے ہیں اور میرے نزدیک اسکی مروایا ت میں کوئی حرج نہیں ہے
[الکامل ابن عدی ، برقم: 1953]
یعنی امام ابن عدی کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جو مشرح کی مرویات کو لا باس بہ کہا ہے اور بطور تفرد جن مرویات کا تذکرہ کیا ہے ان میں ابن الھیہ کا ان سے روایت کرنے کو بیان کیا ہے ۔ اور بطور نمونہ بھی وہ ابن الھیہ کو ہی لائے ہیں
اور ابن الھیہ جمہور محدثین کے نزدیک مجروح راوی ہے اس لیے امام ابن عدی کے نزدیک مشرح کی مروایات میں کوئی حرج نہیں ہے اور نہ ہی وہ مذکورہ روایت کو بطور منکر لائے!!!
اور میرے نزدیک امام ابن عدی کو یہ مذکورہ روایات جو ابن الھیہ نے ان سے روایت کی ہیں انکو مشرح کے ترجمہ میں بطور مناکیر بیان کرنا ہی غلط ہے اصولی طور پر ۔ اور ایسا امام ابن ابن عدی کے متعدد ثقات کے بارے کیا ہے یہی وجہ ہے کہ
ایک مقام پر امام ذھبی امام ابن عدی کا اس پر سختی سے تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
قلت: ما أنصفه ابن عدي، فإنه ساق في ترجمته عدة أحاديث من رواية ابن لهيعة عنه، كان ينبغي أن تكون في ترجمة ابن لهيعة.
میں (ذھبی) کہتا ہوں کہ ابن عدی نے انصاف سے کام نہیں لیا، انہوں نے اس راوی کے حالات میں چند روایات نقل کی ہیں جو (اس راوی ) سے ابن الھیہ روایت کرتا ہے تو بہتر یہ تھا کہ ابن عدی کو ان (منکر)مرویات کو ابن الھیہ کے حالات میں درج کرتا
[میزان الاعتدال ، برقم: 2392]
نیز اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ابن عدی اسکی مذکورہ روایت پر مطلع نہ ہوں تو یہ بات بھی تحقیقا صحیح نہیں
امام ابن عدی اسی تصنیف میں رشدین بن سعد کے ترجمہ میں ایک روایت لاتے ہیں ؛
حدثنا محمد بن عبد الله بن سعيد الغزي، حدثنا ابن أبي السري، حدثنا رشدين، حدثنا ابن لهيعة، عن ابن هاعان عن عقبة بن عامر،
قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو لم أبعث فيكم نبيا لبعث عمر بن الخطاب نبيا
اور اس روایت جو کہ مشرح بن ماعان سے مروی ہے اسکو رشدین نے بیان کیا اور اسکے متن میں رشدین کا تفرد ہے جسکی وجہ سے امام ابن عدی نے یہ روایت رشدین کی مناکیر میں درج کرنے کے بعد فرمایا ؛
قال الشيخ: وهذا الحديث قلب رشدين متنه وإنما متن هذا لو كان بعدي نبي لكان عمر بن الخطاب.
امام ابن عدی کہتے ہیں کہ اس کے متن کو رشدین نے بدل دیا ہے اسکا متن (محفوظ)یوں ہے کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے
[الکامل ابن عدی]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو یہاں تک یہ ثابت ہوا کہ اس طریق پر جو جرح امام ابن حبان نے کی ہے کہ یہ طریق مطلق منکر ہے انہوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور جس روایت کو امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں لایا وہ روایت بھی مشرح کی عقبہ سے ہے منفرد
اور
امام ابن عدی جن مرویات کو مشرح کے ترجمہ میں بیان کی ہیں ان میں نقص ابن الھیہ کا تھا نہ کہ مشرح کا اور جس ایک روایت جو بغیر ابن الھیہ کے لائے ا س میں بھی مشرح کا شاگرد مجہول ہے
اور سب سے اہم بات مذکورہ روایت کہ جس کو ابن حبان کے مبھم کلام سے ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسکو امام ابن عدی الکامل میں نہیں لائے ہیں اور یہ نزدیک امام ابن عدی کے نزدیک بھی لاباس بہ تھی ۔ جیسا کہ دوسرے راوی کے ترجمہ میں محفوظ متن کی نشاندہی کی ہے ابن عدی نے !!!!
یہاں تک امام ابن حبان کے کلام کا جواب مکمل ہوا !!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امن پوری میاں اگلی جرح امام احمد سے بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے :
امام احمد مذکرہ روایت کے بارے فرماتے ہیں :
:ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ اﻟﺤﺎﺭﺙ: ﺇﻥ ﺃﺑﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺳﺌﻞ ﻋﻦ ﺣﺪﻳﺚ ﻋﻘﺒﺔ ﺑﻦ اﻟﺤﺎﺭﺙ: "ﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﺑﻌﺪﻱ ﻧﺒﻲ ﻟﻜﺎﻥ ﻋﻤﺮ"؟.
ﻓﻘﺎﻝ: اﺿﺮﺏ ﻋﻠﻴﻪ؛ ﻓﺈﻧﻪ ﻋﻨﺪﻱ ﻣﻨﻜﺮ.
ابراھیم بن حارث کہتے ہیں امام احمد سے سیدنا عقبہ کی اس روایت کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے کے متعلق سوال کیا گیا تو امام صاحب نے فرمایا:اس کو (کتاب سے) ختم کر دو یہ میرے نزدیک منکر ہے
[المنتخب من علل الخلال 191/1]
الجواب (اسد الطحاوی
امن پوری میاں نے تو اس جرح کو پیش کرکے اپنے اصول کا خود کیا ہے کیونکہ موصوف کے نزدیک اقوال جرح و تعدیل جب تک صحیح الاسناد ثابت نہ ہوں تو موصوف انکو قبول نہیں کرتے ہیں
جبکہ مذکورہ قول کو من و عن ہضم کر لیا امام احمد سے منسوب کرکے اور اسکے بعد پھر علل اور اسکی اہمیت پر لیکچر جھاڑ دیا کہ جیسے علل اور اسکی دقیق نظری پاکستان میں موصوف پر ہی نازل ہوئی ہو
خیر اسکا تفصیلی جواب درج ذیل ہے :
جبکہ یہ کتاب المنتخب من علل الخلال یہ امام ابن قدامہ الحنبلی کی ہے جو600ھ کے بعد فوت ہونے والے ہیں اور انہوں نے امام ابو بکر الخلال کی کتاب سے درج کیا ہے جو انکے پاس ہوگی جبکہ امام ابو بکر خلال کا سماع ہی نہیں اام ابراہیم بن حاٖرث سے جیسا کہ امام ابو بکر الخلال کی کتب میں دیکھا جائے تو وہ واسطے سے بیان کرتے ہیں امام ابراہیم بن حارث سے :
أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْقِرَاءَةِ، بِالْأَلْحَانِ؟
أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الخ۔۔
[الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر ، الخلال]
نیز دوسری تسنیف میں تو امام ابو بکر خلال دو راویان کے واسطے سے امام ابراہیم سے روایت کرتے ہیں :
أخبرني موسى بن سهل الشاوي، قال: ثنا أحمد بن محمد الأسدي، قال: ثنا إبراهيم بن الحارث، قال: قيل لأبي عبد الله الخ۔۔۔
[السنة ابو بکر الخلال]
الغرض مذکورہ جرح متصل الاسناد سے ثابت ہی نہیں امام احمد بن حنبل سے تو یہ موصوف کے منہج پر ہی باطل ہے ۔
جبکہ امام احمد کی اپنی کتب جو علل کی ہیں وہ درج ذیل ہیں :
1۔ الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
الكتاب: من كلام أحمد بن حنبل في علل الحديث ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
2۔ الكتاب: الجامع في العلل ومعرفة الرجال لأحمد بن حنبل
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
رواية: المروذي وغيره
3۔ الكتاب: سؤالات أبي داود للإمام أحمد بن حنبل في جرح الرواة وتعديلهم
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
4۔ الكتاب: من سؤالات أبي بكر أحمد بن محمد بن هانئ الأثرم أبا عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
ان درج ذیل کتب میں امام احمد کے کسی شاگرد اور بیٹے نے یہ جرح اس روایت کے تحت نقل نہیں کی ہے
اور ایک صحیح سند سے روایت کو ایک غیر ثابت قول پر ضعیف کہنا یہ محدثین اور محققین کے اصول کے خلاف ہے
تو امام احمد سے یہ جرح اصولا ثابت ہی نہیں ہے
یہی وجہ ہے کہ امام احمد کی جرح اور انکے عمل میں تضاد ثابت ہوتا ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیز جو امام احمد سے ثابت ہے مذکورہ جرح اسکے بھی بر عکس ہے جو کہ اس جرح کا امام احمد سے غیر ثابت ہونے کا ثبوت ہے
جیسا کہ امام ابن ابی حاتم امام احمد کے حوالے سے مشرح کا قول بیان کرتے ہیں :
نا عبد الرحمن أنا حرب بن إسماعيل فيما كتب إلى قال سمعت أحمد بن حنبل يقول: مشرح بن هاعان معروف، وذكر جماعة رووا عنه من المصريين
امام احمد کہتے ہیں کہ مشرح معروف ہے ( حدیث کے حوالے سے ) اور ان سے مصر کی ایک جماعت روایت کرتی ہے
[الجرح والتعدیل برقم: 1973]
تو امام احمد سے اس راوی پر کوئی جرح وارد ہی نہیں بلکہ انکے نزدیک یہ راوی معروف تھا حدیث کے حوالے سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیز امام احمد سے منسوب جرح میں دوسری بات یہ ہے کہ وہ اس روایت کتاب سے کاٹنے کا فتویٰ دیتے ہیں جبکہ امام احمد نے خود اس روایت کو اپنی کتب میں درج کیا ہے
حدثنا أبو عبد الرحمن، حدثنا حيوة، حدثنا بكر بن عمرو، أن مشرح بن هاعان، أخبره أنه سمع عقبة بن عامر، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " لو كان من بعدي نبي، لكان عمر بن الخطاب
__
(1) إسناده حسن
[مسند احمد بن حنبل برقم: 17405]
اور اسی طرح متعدد طریق سے فضائل صحابہ میں بھی موجود ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
متقدمین سے متاخرین تک جمہور نے اس روایت کی تصحیح و تحسین کی ہے اور اس سے احتجاج کیا ہے
جن میں
امام ترمذی
امام ابن شاھین
امام حاکم
امام ابن عدی
امام الاجری
امام ابو نعیم صفہانی
امام ذھبی
امام ابن حجر عسقلانی
امام ملا علی قاری
اور ایک لمبی فہرست ہے !!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلاصہ تحقیق:
امام ابن حبان نے بغیر ثبوت کے جرح کی جس میں وہ منفرد ہے اور اپنی جرح کے خلاف خود ہی مشرح کی عقبہ سے روایت کو احتجاج میں اپنی صحیح میں لائے
جس سے انکی جرح اور تخریج میں تضاد واقع ہے
اور
امام ابن عدی نے جن مروایات کی تخریج کی ہے ان میں ابن الھیہ ضعیف ، اختلاط شدہ مدلس راوی بیٹھا ہے
اور
امام احمد سے یہ جرح کسی بھی سند سے ثابت نہیں بلکہ اسکے برعکس انہوں نے خود اپنی کتب میں اسکی روایت کی تخریج بھی کی ہے اور اسکو معروف بھی قرار دیا ہے
تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی