حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ''لو كان بعدی نبی لكان عمر بن…

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ''لو كان بعدی نبی لكان عمر بن الخطاب میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا''

  اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

صفحہ 2 از 3

یعنی امام ابن عدی کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جو مشرح کی مرویات کو لا باس بہ کہا ہے اور بطور تفرد جن مرویات کا تذکرہ کیا ہے، ان میں ابن الھیہ کا ان سے روایت کرنے کو بیان کیا ہے۔ اور بطور نمونہ بھی وہ ابن الھیہ کو ہی لائے ہیں۔

اور ابن الھیہ جمہور محدثین کے نزدیک مجروح راوی ہے اس لیے امام ابن عدی کے نزدیک مشرح کی مروایات میں کوئی حرج نہیں ہے اور نہ ہی وہ مذکورہ روایت کو بطور منکر لائے!!!

اور میرے نزدیک امام ابن عدی کو یہ مذکورہ روایات جو ابن الھیہ نے ان سے روایت کی ہیں انکو مشرح کے ترجمہ میں بطور مناکیر بیان کرنا ہی غلط ہے اصولی طور پر۔ اور ایسا امام ابن ابن عدی کے متعدد ثقات کے بارے کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ

ایک مقام پر امام ذھبی امام ابن عدی کا اس پر سختی سے تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

قلت: ما أنصفه ابن عدي، فإنه ساق في ترجمته عدة أحاديث من رواية ابن لهيعة عنه، كان ينبغي أن تكون في ترجمة ابن لهيعة.

میں (ذھبی) کہتا ہوں کہ ابن عدی نے انصاف سے کام نہیں لیا، انہوں نے اس راوی کے حالات میں چند روایات نقل کی ہیں جو (اس راوی) سے ابن الھیہ روایت کرتا ہے تو بہتر یہ تھا کہ ابن عدی کو ان (منکر)مرویات کو ابن الھیہ کے حالات میں درج کرتا۔

(میزان الاعتدال: برقم: 2392)

نیز اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ابن عدی اسکی مذکورہ روایت پر مطلع نہ ہوں تو یہ بات بھی تحقیقاً صحیح نہیں۔

امام ابن عدی اسی تصنیف میں رشدین بن سعد کے ترجمہ میں ایک روایت لاتے ہیں:

حدثنا محمد بن عبد الله بن سعيد الغزي، حدثنا ابن أبي السري، حدثنا رشدين، حدثنا ابن لهيعة، عن ابن هاعان عن عقبة بن عامر،

قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو لم أبعث فيكم نبيا لبعث عمر بن الخطاب نبيا

اور اس روایت جو کہ مشرح بن ماعان سے مروی ہے اس کو رشدین نے بیان کیا اور اس کے متن میں رشدین کا تفرد ہے جسکی وجہ سے امام ابن عدی نے یہ روایت رشدین کی مناکیر میں درج کرنے کے بعد فرمایا

قال الشيخ: وهذا الحديث قلب رشدين متنه وإنما متن هذا لو كان بعدي نبي لكان عمر بن الخطاب

امام ابن عدی کہتے ہیں کہ اس کے متن کو رشدین نے بدل دیا ہے اسکا متن (محفوظ)یوں ہے کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔

(الکامل ابن عدی)

تو یہاں تک یہ ثابت ہوا کہ اس طریق پر جو جرح امام ابن حبان نے کی ہے کہ یہ طریق مطلق منکر ہے انہوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور جس روایت کو امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں لایا وہ روایت بھی مشرح کی عقبہ سے ہے منفرد

اور امام ابن عدی جن مرویات کو مشرح کے ترجمہ میں بیان کی ہیں ان میں نقص ابن الھیہ کا تھا نہ کہ مشرح کا اور جس ایک روایت جو بغیر ابن الھیہ کے لائے اس میں بھی مشرح کا شاگرد مجہول ہے۔

اور سب سے اہم بات مذکورہ روایت کہ جس کو ابن حبان کے مبھم کلام سے ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسکو امام ابن عدی الکامل میں نہیں لائے ہیں اور یہ نزدیک امام ابن عدی کے نزدیک بھی لاباس بہ تھی۔ جیساکہ دوسرے راوی کے ترجمہ میں محفوظ متن کی نشاندہی کی ہے ابن عدی نے!

یہاں تک امام ابن حبان کے کلام کا جواب مکمل ہوا۔

امن پوری میاں اگلی جرح امام احمدؒ سے بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:

امام احمد مذکرہ روایت کے بارے فرماتے ہیں:

ﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ اﻟﺤﺎﺭﺙ: ﺇﻥ ﺃﺑﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺳﺌﻞ ﻋﻦ ﺣﺪﻳﺚ ﻋﻘﺒﺔ ﺑﻦ اﻟﺤﺎﺭﺙ: "ﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﺑﻌﺪﻱ ﻧﺒﻲ ﻟﻜﺎﻥ ﻋﻤﺮ"؟.ﻓﻘﺎﻝل: اﺿﺮﺏ ﻋﻠﻴﻪ؛ ﻓﺈﻧﻪ ﻋﻨﺪﻱ ﻣﻨﻜﺮ.

ابراھیم بن حارث کہتے ہیں امام احمدؒ سے سیدنا عقبہ کی اس روایت کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے کے متعلق سوال کیا گیا تو امام صاحب نے فرمایا! اس کو (کتاب سے) ختم کر دو یہ میرے نزدیک منکر ہے۔

(المنتخب من علل الخلال: جلد 1 صفحہ 191)

الجواب (اسد الطحاوی)

امن پوری میاں نے تو اس جرح کو پیش کرکے اپنے اصول کا خود کیا ہے کیونکہ موصوف کے نزدیک اقوال جرح و تعدیل جب تک صحیح الاسناد ثابت نہ ہوں تو موصوف انکو قبول نہیں کرتے ہیں۔

جبکہ مذکورہ قول کو من و عن ہضم کر لیا امام احمدؒ سے منسوب کرکے اور اسکے بعد پھر علل اور اسکی اہمیت پر لیکچر جھاڑ دیا کہ جیسے علل اور اسکی دقیق نظری پاکستان میں موصوف پر ہی نازل ہوئی ہو

خیر اس کا تفصیلی جواب درج ذیل ہے:

جبکہ یہ کتاب المنتخب من علل الخلال یہ امام ابن قدامہ الحنبلی کی ہے جو 600ھ کے بعد فوت ہونے والے ہیں اور انہوں نے امام ابو بکر الخلال کی کتاب سے درج کیا ہے جو انکے پاس ہوگی جبکہ امام ابوبکر خلال کا سماع ہی نہیں امام ابراہیم بن  حاٖرث سے جیسا کہ امام ابوبکر الخلال کی کتب میں دیکھا جائے تو وہ واسطے سے بیان کرتے ہیں امام ابراہیم بن حارث سے :

أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْقِرَاءَةِ، بِالْأَلْحَانِ؟

أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الخ۔

(الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر: الخلال)

نیز دوسری تصنیف میں تو امام ابوبکر خلال دو راویان کے واسطے سے امام ابراہیم سے روایت کرتے ہیں:

أخبرني موسى بن سهل الشاوي، قال: ثنا أحمد بن محمد الأسدي، قال: ثنا إبراهيم بن الحارث، قال: قيل لأبي عبد الله الخ

(السنۃ ابو بکر الخلال)

الغرض مذکورہ جرح متصل الاسناد سے ثابت ہی نہیں امام احمد بن حنبلؒ سے تو یہ موصوف کے منہج پر ہی باطل ہے۔

جبکہ امام احمدؒ کی اپنی کتب جو علل کی ہیں وہ درج ذیل ہیں:

الكتاب: العلل ومعرفة الرجال

المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيبانی (المتوفى: 241هـ)

الكتاب: من كلام أحمد بن حنبل في علل الحديث ومعرفة الرجال

المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيبانی (المتوفى: 241هـ)

الكتاب: الجامع في العلل ومعرفة الرجال لأحمد بن حنبل

المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيبانی (المتوفى: 241هـ)

رواية: المروذي وغيره

الكتاب: سؤالات أبي داود للإمام أحمد بن حنبل في جرح الرواة وتعديلهم

المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيبانی (المتوفى: 241هـ)

صفحہ 2 از 3