حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ''لو كان بعدی نبی لكان عمر بن…

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ''لو كان بعدی نبی لكان عمر بن الخطاب میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا''

  اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

صفحہ 3 از 3

4۔ الكتاب: من سؤالات أبي بكر أحمد بن محمد بن هانئ الأثرم أبا عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل

المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)

ان درج ذیل کتب میں امام احمدؒ کے کسی شاگرد اور بیٹے نے یہ جرح اس روایت کے تحت نقل نہیں کی ہے۔

اور ایک صحیح سند سے روایت کو ایک غیر ثابت قول پر ضعیف کہنا یہ محدثین اور محققین کے اصول کے خلاف ہے۔

تو امام احمدؒ سے یہ جرح اصولاً ثابت ہی نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امام احمدؒ کی جرح اور انکے عمل میں تضاد  ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ آگے آرہا ہے

نیز جو امام احمدؒ سے ثابت ہے مذکورہ جرح اسکے بھی برعکس ہے جو کہ اس جرح کا امام احمدؒ سے غیر ثابت ہونے کا ثبوت ہے۔

جیسا کہ امام ابن ابی حاتم امام احمدؒ کے حوالے سے مشرح کا قول بیان کرتے ہیں:

نا عبد الرحمن أنا حرب بن إسماعيل فيما كتب إلى قال سمعت أحمد بن حنبل يقول: مشرح بن هاعان معروف، وذكر جماعة رووا عنه من المصريين

امام احمدؒ کہتے ہیں کہ مشرح معروف ہے (حدیث کے حوالے سے) اور ان سے مصر کی ایک جماعت روایت کرتی ہے:

(الجرح والتعدیل برقم: 1973)

تو امام احمدؒ سے اس راوی پر کوئی جرح وارد ہی نہیں بلکہ انکے نزدیک یہ راوی معروف تھا۔ حدیث کے حوالے سے۔

نیز امام احمدؒ سے منسوب جرح میں دوسری بات یہ ہے کہ وہ اس روایت کتاب سے کاٹنے کا فتویٰ دیتے ہیں جبکہ امام احمدؒ نے خود اس روایت کو اپنی کتب میں درج کیا ہے:

حدثنا أبو عبد الرحمن، حدثنا حيوة، حدثنا بكر بن عمرو، أن مشرح بن هاعان، أخبره أنه سمع عقبة بن عامر، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " لو كان من بعدي نبي، لكان عمر بن الخطاب

1: إسناده حسن

(مسند احمد بن حنبل برقم: 17405)

اور اسی طرح متعدد طریق سے فضائلِ صحابہؓ میں بھی موجود ہے۔

متقدمین سے متاخرین تک جمہور نے اس روایت کی تصحیح و تحسین کی ہے اور اس سے احتجاج کیا ہے۔

جن میں

امام ترمذیؒ

امام ابن شاھینؒ

امام حاکمؒ

امام ابن عدیؒ

امام الاجریؒ

امام ابو نعیم صفہانیؒ

امام ذھبیؒ

امام ابن حجر عسقلانیؒ

امام ملا علی قاریؒ

اور ایک لمبی فہرست ہے۔

خلاصہ تحقیق:

امام ابن حبان نے بغیر ثبوت کے جرح کی جس میں وہ منفرد ہے اور اپنی جرح کے خلاف خود ہی مشرح کی عقبہ سے روایت کو احتجاج میں اپنی صحیح میں لائے، جس سے انکی جرح اور تخریج میں تضاد واقع ہے

اور امام ابن عدی نے جن مروایات کی تخریج کی ہے ان میں ابن الھیہ ضعیف، اختلاط شدہ مدلس راوی بیٹھا ہے۔

اور امام احمدؒ سے یہ جرح کسی بھی سند سے ثابت نہیں بلکہ اسکے برعکس انہوں نے خود اپنی کتب میں اسکی روایت کی تخریج بھی کی ہے اور اسکو معروف بھی قرار دیا ہے۔

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی



صفحہ 3 از 3