کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی…

کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 7

  عالم اسلام کے تمام مؤرخین اور خصوصاً حاقدینِ بنی امیہ اپنی مؤلفات میں مرویاتِ محمد بن اسحاق اور مسند امام احمد کی ایک روایت کی بنیاد پر حضرت ہند بنتِ عتبہ  قرشیہ رضی اللہ عنھا کے متعلق بیان کیا ہے کہ اس نےجنگِ احد میں حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کرکے ان کا جگر چبا ڈالا تھا بلکہ اسے نگلنے کی کوشش بھی کی تھی اور سچی بات یہ ہے کہ ہم خود بھی ان لوگوں میں شامل رہے ہیں جو ممبر و محراب پر ہند بنت عتبہ کی سنگدلی کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں اور ہم آج تک اس قصے کو  متفق علیہ سمجھتے رہے تاآنکہ ہمیں فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی عمیر مدخلی سابق پروفیسر مدینہ یونیورسٹی کی کتاب مطاعن سید قطب علی اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کتاب میں علامہ محمود شاکر مصری کا مقالہ بھی شامل ہے جو انہوں نے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں لکھا تھا۔

♦️ اس مقالے میں انہوں نے ایمان قبول کرکے اسلام کی خاطر زندگیاں وقف کر دینے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تذکرے کے بعد ہند بنت عتبہ قرشیہ کے متعلق لکھا تھا کہ اگر ہند بنت عتبہ کے متعلق حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ  کے پیٹ  چاک کرنے اور ان کے جگر کو چبانے کا قصہ صحیح ثابت ہو جائے تو پھر بھی بہت  کماایسے مرد اور عورتیں نظر آئیں گی جن سے جاہلیت میں ایسے افعال سرزد نہ ہوۓ ہوں۔

        جب ہم نے یہ الفاظ پڑھے تو ہمیں حددرجہ حیرانی ہوئی اور پھر ٹھنڈے دل سے سوچا کہ اصل حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کے لئے اس موضوع پر لکھی گئی کتب کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ جتنا کسی کا گناہ یا قصور ہوں حکایتاً اسے اتنا ہی بیان کیا جاۓ اور مبالغہ آمیزی سے بچا جائے۔ ہم اسی فکر میں تھے کہ ہمیں کویت سے شائع ہونے والا مجلہ "امتی" مل گیا اس میں فضیلۃ الشیخ حای الحای کے مضمون پر نظر پڑی اور ہم نے اسے بالاستیعاب پڑھا۔ زیر نظر مضمون میں ہم اسے تمہید بنا کر اپنی گزارشات پیش کریں گے۔ اللہ کریم ہمیں افراط و تفریط سے بچائے اور حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

♦️ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب ہاشمی  رضی اللہ عنہ کے بعد از شہادت پیٹ چاک کرنے اور ان کے جگر  چبانے کے قصے کا دارومدار مسند احمد کی اس  مرسل اور منکر المتن روایت پر ہے جو بمع سند اسطرح ہے:-

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عفان نے حماد کےحوالے سے اور حماد نے ان کو عطاء بن سائب کے حوالے سے بیان کیا کہ شعبی کے ذریعے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے جنگ احد کے دن مسلمان عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں اور وہ مشرکین کے زخمیوں پر حملہ آور ہوکر ان کا کام تمام کردیتی تھیں اور اگر میں اس دن حلف اٹھا کر کہتا کہ ہم اسے کوئی بھی دولت، دنیا کا ارادہ نہیں رکھتا تھا تو میں پر امید تھا کہ سچا ثابت ہوں گا یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی:-

مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ"۔

( سورہ آل عمران 125)

   " جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آپ کے حکم کی خلاف ورزی کی  تو آپ صحابہ کے ساتھ ایک طرف ہو گئے ان میں سات انصاری تھے اور دو قریشی اور ان میں دسویں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تھے۔

جب کفار قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نرغے میں لے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"اللہ اس آدمی پر رحم فرمائے جو انہیں ہم سے دور ہٹا دے۔ "راوی کہتا ہے کہ انصار میں سے ایک صحابی آگے بڑھا اور گھڑی بھر لڑتا ہوا شہید ہو گیا  ۔جب انہوں نے پھر گھیرا تنگ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ اس آدمی پر رحم فرمائے جو انہیں ہم سے دور ہٹا دے۔ "

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ ساتوں انصاری یکے بعد دیگرے لڑتے شہید ہوگئے۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ "

چنانچہ ابوسفیان آیا اور کہنے لگا:اعل ھبل( ہبل کا اقبال بلند ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم کہو اللہ اعلی واجل اللہ تعالی اور بزرگ و برتر ہیں"۔ ابو سفیان نے عرض کیا:

"لنا عزی ولاعزی لکم"

( ہمارا عزی ہے تمہارا عزی کوئی نہیں)_

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تم جواب دو :

"اللہ مولیٰ ولامولیٰ لکم "

( ہمارا مولی اللہ ہے تمہارا مولی کوئی نہیں)۔

پھر ابو سفیان نے کہا :آج کا دن یوم بدر کےبدلے کا ہے۔ کوئی دن ہمارے لئے اور کوئی دن ہمارے بر خلاف۔ کسی دن ہم بے وقعت اور کسی دن ہم خوش بخت۔ حنظلہ کے بدلے حنظلہ ۔ فلاں کے بدلے فلاں ۔

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کسی طرح سے برابری نہیں ہمارے  مقتول تو زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں جب کہ تمہارے مقتول دوزخ میں عذاب دیے جارہے ہیں"۔

صفحہ 1 از 7