کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی…

کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 7

ابو سفیان نے کہا: "قوم میں کچھ افراد کے ناک کان کاٹے گئے ہیں اور یہ ہمارے سرکردہ جنگجوؤں کا کام نہیں ہے نہ میں نے اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا نہ اس طرح کرنے سے روکا۔ اور نہ ہی برا سمجھا اور نہ ہی یہ منظر مجھے برا لگا اور نہ ہی اچھا۔ راوی کہتا ہے کہ جب انہوں نے دیکھا تو حضرت حمزہ کا پیٹ پھاڑا گیا تھا اور  ہند نے ان کا جگر چبایا لیکن اسےنگل نہ سکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" کیا اس نے اس سے کچھ کھایا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالی ایسا نہیں کہ وہ حمزہ کے بدن کے کسی جزو کو آگ میں داخل کرے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ کو سامنے رکھ کر ان کی نماز جنازہ پڑھی اسی دوران ایک انصاری شہید لایا گیا اور اسے سیدنا حمزہ کے پہلو میں رکھ دیا گیا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی کی نماز جنازہ پڑھی پھر نصاری کو اٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا گیا پھر دوسرے شہید انصاری کو لایا گیا اور اسے حمزہ رضی اللہ عنہ ان کے پہلو میں رکھ دیا گیا اور ان پر نماز جنازہ پڑھی گئی پھر اسے اٹھایا گیا اور حمزہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ اس روز سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پر ستر مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی"۔

♦️ یہ طویل حدیث ہے جسے محدث عصر علامہ احمد شاکر نے سہواًصحیح قرار دیا ہے یہ دو اعتبار سے ضعیف بھی ہے اور شاذ بھی اور منکر بھی ہے۔ ضعیف تو اس اعتبار سے ہے کہ اس روایت کے راوی امام شعبی کا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے جیسا کہ امام ابو محمد عبدالرحمن بن حاتم رازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ ابو حاتم رازی سے سنا وہ فرماتے تھے کہ شعبی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا اور شعبی رحمۃ اللہ علیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے جو کچھ بھی نہیں کریں گے وہ مرسلاً ہی ہوگا۔ البتہ حضرت مسروق رحمۃ اللہ علیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا کرتے تھے۔

اس بنا پر یہ روایت منقطع ثابت ہوئی۔

مزید برآں اس حدیث میں عطاءبن سائب کی وجہ سے بھی ضعف ہے۔ چنانچہ امام ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ اپنی تاریخ میں اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:-

"تفرد بہ احمد وھذااسناد فیہ ضعیف ایضا من جھۃ عطاء بن سائب۔"

   " اس روایت کو بیان کرنے میں امام احمد منفرد ہیں اور اس میں عطاء بن سائب کی وجہ سے ضعف بھی ہے"۔

امام ہیثمی رحمہ اللہ نے مجمعالزوائد میں اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:-

"وفیہ عطاء بن سائب وقد اختلاط"

اگرچہ علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ روایت اختلاط سے قبل کی ہے لیکن ان کا اختلاط روایت مذکورہ میں اظہر من الشمس ہے اور وہ اس طرح کہ صحیح بخاری اور دیگر کتب صحاح میں مسلمان عورتوں کے مشرکین اور زخمیوں  پر حملہ آور ہونے کا ذکر نہیں ہے جبکہ یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ مسلمان عورتیں زخمی مشرکوں پر حملہ آور ہو رہی تھیں۔

صحیح احادیث میں یوم لنا ویوم علینا ویوم نسائ ویوم نسر، حنظلہ بحنظلہ، فلان بفلان کا ذکر بھی نہیں ہے جبکہ اس روایت میں 

"لاسوائ اما قتلانافاحیاء یرزقون وقتلاکم فی النار یعذبون" 

جبکہ صحیح حدیث میں منقول ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس مفہوم کا جواب دیا تھا۔

♦️ اس روایت میں اس بات کا ذکر ہے کہ ابو سفیان نے پہلے "اعل ہبل" کا نعرہ لگایا تھا جبکہ صحیح احادیث میں ہے کہ اس نے دامن احد میں کھڑے ہوکر پوچھا تھا کہ تم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے؟ کیا تم میں ابن ابی قحافہ ہے؟ کیا تم میں عمر بن خطاب ہے؟ پھر اس کے بعد اس نے "اعل ھبل" کہا تھا۔

♦️  اس روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کی فرداً فرداً نماز جنازہ پڑھی اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی 70 مرتبہ نماز جنازہ پڑھی جبکہ صحیح احادیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کو نہ تو غسل دیا اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی تھی بلکہ انہیں خود شہادت سمیت دفن کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں اس میں کئ باتیں اور بھی ہیں جو اس روایت کے شاذ ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

♦️ اس لئے باہر کا متن بھی منکر ہے وہ اس طرح کہ اس روایت میں ذکر ہے کہ آپ نے پوچھا:

ااکلت منھا شیئا؟ قالوا:لا ،قال ماکان اللہ لیدخل شیئا من حمزۃالنار۔

اس روایت کا مدعاہے کہ ہندبنت عتبہ اسلام قبول نہیں کرے گی اور جہنم میں داخل ہوں گی کیونکہ اللہ نے حمزہ بن عبدالمطلب کے بدن کے کسی  جزو کو ایسے بدن میں داخل نہیں ہونے دیا جو آگ میں جلنا ہے۔ جبکہ صحیح بخاری میں کتب صحاح میں صحیح الاسناد روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہند نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا اور ساری زندگی اسلام و ایمان پر قائم رہیں بلکہ فتح الباری میں امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ وکانت من عقلاءالنساء اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے وقت اس کی گفتگو سے اس کی دانش مندی پر کئی پہلؤوں سے استدلال کیا۔

♦️  اگرچہ مذکورہ بالا حدیث روایت کے بعد مندرجات کی دیگر شواہد حادیث میں تائید موجود ہے لیکن ہند کے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پیٹ چاک اور ان کا جگر چبانے کی بات کسی طرح بھی صحیح طور سے ثابت نہیں ہوتی، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب جیسے اسد اللہ واسد رسولہ کی شہادت نہایت المناک ہے لیکن اس میں مرکزی کردار حضرت جبیر بن مطعم کا ہے جس نے اپنے چچا طعیمہ بن عدی کا بدلہ لینے کے لئے وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کو خصوصی طور پر مشن سونپا تھا اور اس نے محض اپنی آزادی کی خاطر بزدلانہ حملہ کرکے آپ کو شہید کردیا تھا۔

صفحہ 2 از 7