کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی…

کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 7

♦️  باقی رہی یہ بات  کہ شہدائے احد کا مثلہ تو ہوا تھا تو ہم بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں  یقینا ان کا مثلہ  ہوا تھا لیکن یہ سارا کام صرف ہند بنت عتبہ قرشیہ نے سر انجام نہ دیا تھا اس کے ساتھ دیگر خواتین یا مشرکین بھی شریک تھے جو اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرتے رہے لیکن یہاں تک پیٹ چاک کرکے کلیجہ یا جگر چبانے یا شہداء کرام کے ناک کان کاٹ کر ہار بنانے اور اسے گلے میں لٹکانے اور پھر اس وحشی بن حرب کو ہدیہ دینے جیسی یہ روایات منقول ہیں ایک طرف تو وہ سنداً صحیح نہیں دوسری طرف فطرت انسانی بھی انہیں قبول کرنے سے ابا کرتی ہے اور عقل سلیم بھی اسے تسلیم نہیں کرتی کیونکہ وحشی بن حرب کی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے دشمنی نہ تھی۔ وہ تو جبیر بن مطعم کا غلام تھا اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے جبیر بن مطعم کے چچا طعیمہ بن عدی کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا اس لئے جبیر نے اپنے چچا کا انتقام لینے کے لیے وحشی کو آزادی کا لالچ دے کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل پر آمادہ کیا تھا۔ اور اس نے محض اپنی آزادی کی خاطر یہ بزدلانہ اور گھناؤنا جرم کیا تھا لہذا اسے کٹے ہوئے اعضاء انسانی اپنے گلے میں پہننے کی ضرورت ہی نہ تھی اسے تو آزادی کی ضرورت تھی جو اسے مل گئی۔ نہ وہ ہند بنت عتبہ کا غلام تھا اور نہ ہی ہندنے اسے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل پر آمادہ کیا تھا اسے تو جبیر بن مطعم کا منصوبہ کام دے گیا۔

بعد ازاں حضرت جبیر بن مطعم اور ہند بنت عتبہ اور وحشی بن حرب نے اسلام قبول کرلیا اور اسلام کی خاطر شاندار خدمات سرانجام دیں۔ فتح الباری اور  الاصابہ وغیرہ میں شرح و بسط سے ان کے قبول اسلام کا واقعہ مرقوم ہے۔ اگر ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسد اطہر سے ایسا سلوک کیا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول اسلام کے وقت ایسا تو کہہ دینا تھا کہ ہند تیرا اسلام تو قبول ہے لیکن آٹھ کر چلی جا ۔آئندہ میرے سامنے نہ آنا۔ کیونکہ مجھے شہید چچا کی المناک شہادت یاد آجایا کرے گی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا بلکہ اس کے بجائے طبقات ابن سعد171/8 میں منقول ہے کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا:

"یارسول اللہ الحمدللہ الذی اظھر الدین الذی اختار  لنفسی لتسفعنی رحمک یا محمد انی امراء مومنہ باللہ ومصدقۃ برسولہ۔"

    " اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام طرح کی حمد و ثناء اللہ کے لیے جس نے اس دین کو غالب کر دکھایا جسے اس نے اپنے لئے پسند کیا۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عفو و در گزر کی صورت میں آپ سے قرابت داری کا نفع ملنا چاہیے۔ میں اللہ پر ایمان رکھنے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والی عورت ہوں"۔

بعد ازاں اس نے کہا:

" میں ہند بنت عتبہ ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرحبا بک  خوش آمدید"۔

پھر وہ یوں گویا ہوئیں:

  " اللہ کی قسم! روئے زمین پر مجھے آپ کے گھرانے سے بڑھ کر کسی گھرانے کا ذلیل ہونا محبوب نہ تھا اور آج میری کیفیت یہ ہے کہ روئے زمین پر مجھے آپ کے گھرانے سے بڑھ کر کسی گھرانے کا عزت دار ہونا محبوب نہیں"۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-وزیادۃ

اور بخاری کی روایت میں

ایضا والذی نفسی بیدہ۔

پھر اس نے جہاد یرموک میں جو بے مثال خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔

حوالہ کتاب المراسیل 6/591

البدایہ والنہایہ 4/40.41


 

*کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا؟*

ہمارے ہاں ایک قصہ بےحد مشہور ھے کہ جی سیدہ ہند نے سیدنا حبشی بن حرب کے ذریعے سیدنا حمزہ کو شہید کروایا اور پھر سیدنا حمزہ کا مثلہ کیا اور کلیجہ چبایا۔۔ سچ یہ ھے کہ اس قصے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ روایت چند کتب احادیث تاریخ و تفاسیر میں وارد ہوئی ھے مگر اسکی سند منقطع ھے۔ یعنی یہ روایت مرسل ضعیف ھے۔ دوسرا حقائق کے برعکس ہونے کے باعث اسکا متن منکر ھے۔ سب سے پہلے ہم مذکورہ روایت کو دیکھتے ہیں:

روایت:

أخبرنا عبد الله بن الحسن الحراني قال: نا النفيلي قال: نا محمد بن سلمة عن محمد بن اسحق قال: قد وقفت هند بنت عتبة كما حدثني صالح بن كيسان والنسوة الآتون معها يمثلن بالقتلى من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يجدعن الآذان والآناف حتى اتخذت هند من آذان الرجال وأنافهم خذماً وقلائداً، وأعطت خذمها وقلائدها وقرطيها وحشياً غلام جبير بن مطعم، وبقرت عن كبد حمزة فلاكتها فلم تستطيع أن تسيغها، ثم علت على صخرة مشرفة فصرخت بأعلى صوتها وقالت، من الشعر حين ظفروا بما أصابوا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم:نحن جزيناكم بيوم بدرفأجابتها هند بنت أثاثة بن عباد بن المطلب بن عبد مناف فقالت:والحرب بعد الحرب ذات سعر ما كان لي عن عتبة من صبر ولا أخي وعمه وبكر شفيت نفسي وقضيت نذري * شفيت وحشي غليل صدري فشكر وحشي علي عمري * حتى ترم أعظمي في قبري

««سيرة ابن إسحاق (كتاب السير والمغازي)»»

ابن اسحاق سے مروی ہے کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ شریک خواتین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہدا ساتھیوں کا مثلہ کرنے لگیں ، وہ ان کے ناک اور کان کاٹ رہی تھیں‌، یہاں‌تک کہ ہند رضی اللہ عنہا نے جو اپنے ہار ، پازیب اور بالیاں وغیرہ وحشی کو دے چکی تھیں ، ان شہدا کے کٹے ہوئے ناکوں اور کانوں کے پازیب بنائے ہوئی تھیں اور انہوں نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہا کا کلیجہ چیر کر نکالا اور چبانے لگیں‌، لیکن اسے بآسانی حلق میں اتار نہ سکیں تو تھوک دیا ۔ پھر ایک اونچی چٹان پر چڑھ گئیں اور بلند آواز سے چیختے ہوئے کہا :

'' ہم نے تمہیں یومِ بدر کا بدلہ دے دیا ، جنگ کے بعد جنگ جنون والی ہوتی ہے ، عتبہ کے معاملے میں مجھ میں صبر کی سکت نہ تھی ، اور نہ ہی اپنے بھائی اور اس کے چچا ابوبکر پر میں نے اپنی جان کو شفا دی اور انتقام کو پور کیا ، وحشی تو نے میرے غصہ کی آگ بجھا دی ، پس وحشی کا مجھ پر عمر بھر ،احسان رہے گا ، یہاں‌تک کہ قبر میں میری ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں‌''۔

تخریج :

صفحہ 3 از 7