کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی…

کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 7

ابن اسحاق نے اسے السیرتہ(ج 3 ص36) میں روایت کیا ہے ۔ اول تو ابن اسحاق خود شدید مجروح ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ صالح بن کیسان سے روایت کر رھے ہیں کہ جو اپنی پیدائش سے ستر سال قبل کا واقع بنا کسی واسطے کے نقل کر رھے ہیں۔ لہذا اس کی سند ضعیف بھی ہے ، اور مرسل بھی۔

یہ قصہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ (ج 4 ص37) میں نقل کیا ، پھر فرمایا :

وذكر موسى بن عقبة: أن الذي بقر عن كبد حمزة وحشي فحملها إلى هند فلاكتها فلم تستطع أن تسيغها فالله أعلم.

'' موسی بن عقبہ نے ذکر کیا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ وحشی نکال کر ہند بنت عتبہ کے پاس لائے تھے ، انہوں نے اس کو چپایا ، لیکن نگل نہ سکیں‌۔

(ترجمہ:: محمد صدیق رضا / تخریج حدیث :: حافظ زبیر علی زئی )

ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی نے اپنی تاریخ میں ابن اسحاق سے بھی نقل کیا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ ھند نے عورتوں کے ساتھ ملکر مثلہ کیا ، جبکہ ابن کثیر والی روایت میں ‌ہے کہ وحشی نے کلیجہ نکال کر ہند کو دیا تھا ۔ جبکہ دونوں روایتیں ہی انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت میں سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کا کوئی کردار نہ تھا۔ نیز اس ضمن میں حضرت وحشی رضی اللہ عنہ سے سیدہ ہند رضی عنہا کی کوئی بات یا معاملہ طے نہ ہوا تھا۔ اور نہ ہی حضرت وحشی رضی اللہ عنہ حضرت ہند رضی اللہ عنہا کے غلام تھے۔

سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں طعیمہ بن عدی کو قتل کیا تھا اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ طعیمہ بن عدی کے بھتیجے تھے، جو کہ اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے۔ اور حضرت وحشی رضی اللہ عنہ بھی ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے۔ حضرت وحشیؓ، جناب جبیر بن مطعم ؓکے غلام تھے۔ سیدنا جبیر بن مطعمؓ حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان ایمان لائے اور خلافت معاویہؓ میں فوت ہوئے۔ آپؓ نے حضرت وحشیؓ سے کہا کہ حمزہؓ نے میرے چچا طعیمہ بن عدی کو قتل کیا ہے، اگر تم میرے چچا کے بدلہ میں حمزہؓ کو قتل کر دو تو تم آزاد ہو۔ یہی وجہ تھی جس نے حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کو مجبور کیا کہ وہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیں۔

اسی بات کو امام بخاریؒ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں ”کتاب المغازی“ کے عنوان

”قتل حمزة بن عبدالمطلب رضی اللّٰہ عنہ“

کے تحت بیان کیا ہے۔

اب یہ بھی دیکھیں کہ سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ جب خدمت رسالت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مشرف بہ اسلام ہونا قبول فرماتے ہوئے فرمایا کہ آپؓ اپنا چہرہ میرے سامنے نہ لایا کریں

(الاصابة فی تمییزالصحابة)

۔ لیکن اس کے برعکس جب سیدہ ہند رضی اللہ عنہا اسلام لاتی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشی کا اظہار بھی فرماتے ہیں اور اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ ہندؓ کے مابین ہونے والی فصیحانہ و بلیغانہ گفتگو کا تذکرہ بھی کتب میں موجود ہے۔ کیا وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ہند رضی اللہ عنہا سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے حوالہ سے کوئی بات نہیں فرمائی؟ جب کہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ سے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ چھپانے کے لیے فرمایا۔

حالانکہ سیدہ ہند بنت عتبہ کا جرم قتل سے بھی سنگین تر تھا۔ شہید کی لاش کا مثلہ کرنا، کلیجہ نکال کر چبانا۔۔۔ اگر ان سے یہ جرم سرزد ہوا جس پر روایتی طور پر بحث ہوچکی کہ ستر سال کے بعد ابن اسحاق نے صالح بن کیسان کے نام سے ایک منقطع روایت پیش کی تو اس مجرم سے بھی اظہار نفرت ہونا چاہئے تھا ناں؟

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ محبوب عم محترم کے مقدس جسد کا مثلہ کرنے والی کے گھر کو

”من دخل دار ابی سفیان فہو اٰمن“

دار ابی سفیان کو مثل حرم جائے پناہ قرار دیا گیا۔ چہ معنی دارد؟ مزید برآں فتح مکہ کے بعد نبی مکرم کے دست مقدس پر بیعت کرنے کے بعد سیدہ ہندہ کا عرض کرنا کہ :

”یا رسول اللہ! آج سے پہلے روئے زمین پر آپ سے زیادہ مجھے مبغوض کوئی نہ تھا اور آج آپ سے زیادہ محبوب کوئی نہیں“۔

یہ تو الفاظ تھے سیدہ ہندہ کے۔ جواب میں نبی الانبیاء علیہم السلام نے کیا فرمایا ِ؟ دیکھئے بخاری جلد اول ص:۵۳۹

”وایضاً والذی نفسی بیدہ“

” اس ذات کی قسم جن کے قبضہ میں میری جان ہے، میرا بھی یہی حال ہے“.

(یعنی سیدہ ہندہ کی عزت وحرمت محبوب ہے) عام محبت نہیں بلکہ ایسی شدید محبت کہ نبی دوعالم اقسم کھا کر اس کا ذکر فرمارہے ہیں۔ یہ نہیں فرمایا: ”تو نے میرے محبوب چچا کا کلیجہ چبایا ہے‘ میرے سامنے نہ آیا کر ۔ بس تیرا اسلام قبول ہے“ یہ نہیں فرمایا‘ بلکہ قسم کھاکر محبت کا اظہار فرمایا۔ فتح مکہ کے بعد بہت لوگ ایمان لائے مگر محبت وعقیدت سے بھر پور وہ الفاظ

”وایضا والذی نفسی بیدہ“

کسی اور ذکر وانثی کو نصیب نہ ہوسکے۔ امام بخاری نے یہاں عنوان قائم کیا ہے: ”باب فضل ہند بنت عتبہ“.


 ھند رض اور سیدنا حمزہ رض

اعتراض:

روایت ::

أخبرنا عبد الله بن الحسن الحراني قال: نا النفيلي قال: نا محمد بن سلمة عن محمد بن اسحق قال: قد وقفت هند بنت عتبة كما حدثني صالح بن كيسان والنسوة الآتون معها يمثلن بالقتلى من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يجدعن الآذان والآناف حتى اتخذت هند من آذان الرجال وأنافهم خذماً وقلائداً، وأعطت خذمها وقلائدها وقرطيها وحشياً غلام جبير بن مطعم، وبقرت عن كبد حمزة فلاكتها فلم تستطيع أن تسيغها، ثم علت على صخرة مشرفة فصرخت بأعلى صوتها وقالت، من الشعر حين ظفروا بما أصابوا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم:نحن جزيناكم بيوم بدرفأجابتها هند بنت أثاثة بن عباد بن المطلب بن عبد مناف فقالت:والحرب بعد الحرب ذات سعر ما كان لي عن عتبة من صبر ولا أخي وعمه وبكر شفيت نفسي وقضيت نذري * شفيت وحشي غليل صدري فشكر وحشي علي عمري * حتى ترم أعظمي في قبري ««سيرة ابن إسحاق (كتاب السير والمغازي)»»

صفحہ 4 از 7