کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی…

کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 7

ابن اسحاق سے مروی ہے کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ شریک خواتین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہدا ساتھیوں کا مثلہ کرنے لگیں ، وہ ان کے ناک اور کان کاٹ رہی تھیں‌، یہاں‌تک کہ ہند رضی اللہ عنہا نے جو اپنے ہار ، پازیب اور بالیاں وغیرہ وحشی کو دے چکی تھیں ، ان شہدا کے کٹے ہوئے ناکوں اور کانوں کے پازیب بنائے ہوئی تھیں اور انہوں نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہا کا کلیجہ چیر کر نکالا اور چبانے لگیں‌، لیکن اسے بآسانی حلق میں اتار نہ سکیں تو تھوک دیا ۔ پھر ایک اونچی چٹان پر چڑھ گئیں اور بلند آواز سے چیختے ہوئے کہا :

'' ہم نے تمہیں یومِ بدر کا بدلہ دے دیا ، جنگ کے بعد جنگ جنون والی ہوتی ہے ، عتبہ کے معاملے میں مجھ میں صبر کی سکت نہ تھی ، اور نہ ہی اپنے بھائی اور اس کے چچا ابوبکر پر میں نے اپنی جان کو شفا دی اور انتقام کو پور کیا ، وحشی تو نے میرے غصہ کی آگ بجھا دی ، پس وحشی کا مجھ پر عمربھراحسان رہے گا ، یہاں‌تک کہ قبر میں میری ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں‌''

تخریج :

ابن اسحاق نے اسے السیرتہ(ج 3 ص36) میں روایت کیا ہے ۔ اس کی سند ضعیف ہے ، مرسل ہے (انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے )

یہ قصہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ (ج 4 ص37)میں نقل کیا ،

پھر فرمایا :

وذكر موسى بن عقبة: أن الذي بقر عن كبد حمزة وحشي فحملها إلى هند فلاكتها فلم تستطع أن تسيغها فالله أعلم.

'' موسی بن عقبہ نے ذکر کیا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ وحشی نکال کر ہند بنت عتبہ کے پاس لائے تھے ، انہوں نے اس کو چپایا ، لیکن نگل نہ سکیں‌۔

(ترجمہ:: محمد صدیق رضا / تخریج حدیث :: حافظ زبیر علی زئی )

ابن کثیررحمہ اللہ تعالی نے اپنی تاریخ میں ابن اسحاق سےبھی نقل کیا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ ھند نے عورتوں کے ساتھ ملکر مثلہ کیا ، جبکہ ابن کثیر والی روایت میں‌ہے کہ وحشی نے کلیجہ نکال کر ہند کو دیا تھا ۔ جبکہ دونوں روایتیں ہی انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہیں

جواب :

دفاع ھند رض

نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے آخری پیغمبر بنا کر بھیجا اور اس بات کو قرآن میں یوں بیان فرمایا:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا۔

[1]

ترجمہ:محمدﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز پر عالم ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی شریعت کو بھی اللہ نے آخری بنا دیا اور آپ ﷺ کو دی ہوئی کتاب کو بھی آخری کتاب بنا دیا اور آپﷺ کے ساتھیوں کو

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْه

والا ایسا سند دیا جو اس سے پہلے کسی پیغمبر کے ساتھیوں کو نہیں ملا ۔مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تاریخ اسلام کے مؤرخین نے سہواً یا عمداً ان صحابہ سے متعلق اپنی کتب میں ایسی روایات کو جگہ دے دی جن سے یہ لوگ کوسوں دور تھے۔ یہ روایات یا تو غلو فی المحبۃ کی وجہ سے فضائل کے باب میں سے ہیں یا غلو فی البغض کی وجہ تنقیص کے باب میں سے ہیں، اور اس قسم کے روایات کافی تعداد میں موجود ہیں لیکن یہاں پر اس مختصر مقالہ میں حضرت ہند بنت عتبۃ رضی اللہ عنہا سے متعلق تاریخ کی روایات کو موضوع تحقیق بنایا جارہا ہے جو کہ زبان زد عام ہیں۔روایت کچھ یوں ہے:

قال أبو جعفر وكان الذي هاج غزوة أحد بين رسول الله ﷺ ومشركي قريش وقعة بدر وقتل من قتل ببدر من أشراف قريش ورؤسائهم فحدثنا ابن حميد قال حدثنا سلمة عن محمد بن إسحاق قال وحدثني محمد بن مسلم بن عبيدالله بن شهاب الزهري ومحمد بن يحيى بن حبان وعاصم بن عمر بن قتادة والحصين بن عبدالرحمن بن عمرو بن سعد بن معاذ وغيرهم من علمائنا كلهم قد حدث ببعض هذا الحديث عن يوم أحد وقد اجتمع حديثهم كلهم فيما سقت من الحديث عن يوم أحد قالوا لما اصيبت قريش أومن قاله منهم يوم بدر من كفار قريش من أصحاب القليب فرجع فلهم إلى مكة ورجع ابو سفيان بن حرب بعيره مشى عبدالله بن أبي ربيعة وعكرمة بن أبي جهل وصفوان بن أمية في رجال من قريش ممن أصيب آباؤهم وأبناؤهم وإخوانهم ببدر فكلموا ابا سفيان بن حرب ومن كانت له في تلك العير من قريش تجارة فقالوا يا معشر قريش إن محمدا قد وتركم وقتل خياركم فأعينونا بهذا المال على حربه لعلنا أن ندرك منه ثأرا بمن أصيب منا ففعلوا فاجتمعت قريش لحرب رسول اللهﷺ حين فعل ذلك أبو سفيان وأصحاب العير بأحابيشها ومن أطاعها من قبائل كنانة وأهل تهامة وكل أولئك قد استعووا على حرب رسول اللهﷺ۔

[2]الخ

صفحہ 5 از 7