کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی…

کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 6 از 7

ترجمہ:قریش بڑی شان وشوکت سے جنگ کےلئے نکلے اور قریش کے مختلف قبیلے اور وہ لوگ جو بنو کنانہ اور تہامہ میں سے تھے ، ان کے ساتھ تھے اور یہ لوگ اپنی پردہ نشین عورتوں کو بھی ساتھ لے گئے تھے تاکہ وہ عورتوں کی نگہبانی کے احساس سے جنگ سے منہ نہ موڑیں۔ پس ابوسفیان بن حرب بھی نکلےاور وہ لوگوں کےقائد تھے ،ا ن کے ساتھ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بھی تھیں اور عکرمہ بن ابی جہل بن ہشام بن المغیرہ بھی نکلے ۔ ان کے ساتھ ام حکیم بنت الحارث بن الہشام بن المغیرہ بھی تھیں۔ حارث بن الہشا م بھی تھے ، ان کے ساتھ فاطمہ بنت الولید بن المغیرہ، (حضرت خالد بن الولید کی بہن)، صفوان بن امیہ بن خلف بھی نکلے اور ان کے ساتھ برزہ تھیں اور ایک روایت میں ہے کہ برّہ بنت مسعود بن عمرو بن عمیر الثقفیہ بھی نکلیں اور یہ عبداللہ بن صفوان کی والدہ ہیں، عمرو بن عاص بن وائل بھی نکلے اور ان کے ساتھ بریطہ بنت منبہ بنت الحجا ج بھی تھی اور یہ حضر ت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی والدہ تھیں اور طلحہ بن ابی طلحہ اور ابو طلحہ عبداللہ بن عبدالعزی بن عثمان بن عبدالدار بھی نکلے اور ان کےساتھ سلافہ بنت سعد تھیں اوروہ طلحہ کےبیٹے سلافہ، الجلاس اور کلاب کی والدہ ہیں اور اس دن یہ تینوں اور ان کے والد قتل ہوئے ۔ خناس بنت مالک بن المغرب نکلی، یہ بنو مالک بن حسل کی عورتوں میں سے ایک ہے ۔ اس کے ساتھ اس کا بیٹا ابو عزیز بن عمیر تھا اور یہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی ماں ہے اور عمرہ بنت علقمہ نکلی، یہ بنی حارث بن عبدمناف بن کنانہ کی عورتوں میں سے ایک ہے۔

اس کہانی کو ابن اسحاق اور ابن جریر طبری جو کہ ابن اسحاق ہی کی روایت ہے، اور اسی کو علامہ شبلی نعمانی نے بھی سیرۃ النبیؐ میں نقل کیا ہے، کو بڑھاتے ہوئے لکھتےہیں:

’’حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے ہندرضی اللہ عنہا کے باپ عتبہ کو بدر میں قتل کیا تھا اور جبیر بن مطعم کے چچا بھی حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے ۔ اس بناء پر ہندرضی اللہ عنہا نے وحشی رضی اللہ عنہ کو ، جو جبیر بن مطعم کا غلام تھا اور حربہ اندازی میں کمال رکھتا تھا ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل پر آمادہ کیا اور یہ اقرار ہوا کہ اس کارگزاری کے صلہ میں اُس کو آزاد کردیا جائے گا۔ قریش کی عورتوں نے انتقام بدر کے جوش میں مسلمانوں کے لاشوں کا مثلہ کیا اور ان کے ناک، کان کاٹے۔ ہند نے ان کا ہار بنایا اور اپنے گلے میں ڈالا۔ حمزہ رضی اللہ کے لاش پر گئی اور ان کا پیٹ چاک کرکے کلیجہ نکالا اور چبا گئی لیکن گلے سے نہ اتر سکا اس لئے اگل دینا پڑا اور ہند نے اپنا ہار حبشی رضی اللہ عنہ کے گلے میں ڈالا۔ تاریخوں میں ہند کا جو لقب جگر خوارہ لکھا جاتا ہے وہ اسی بناء پر لکھا جاتا ہے ‘‘۔[3]

اس روایت پر تبصرہ:

اس روایت پر غور کرنے سے مندرجہ ذیل باتیں سامنے آتی ہیں۔

1:حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل وحشی رضی اللہ عنہ تھے۔

2:حبشی رضی اللہ عنہ جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ کے غلام تھے۔

3:حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے پر ان کی آزادی موقوف تھی۔

4:اس قتل پر بعض مؤرخین کے مطابق ان کو جبیر بن مطعم نے آمادہ کیا اور بعض کے بقول ہندرضی اللہ عنہا نے۔

5:بعض مؤرخین کے نزدیک ہند رضی اللہ عنہا نے ان کو آزاد کرنے کا وعدہ کیا تھا جب کہ وہ اس کا غلام بھی نہ تھا اور بعض کے نزدیک جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے آزاد کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب حبشی رضی اللہ عنہ ہند رضی اللہ عنہا کے غلام بھی نہ تھے تو اس کو آزاد کرنے کا اخیتار کہاں سے اس کے پاس آیا؟

6: اس جنگ میں قریش کی متعدد عورتیں شریک تھیں۔

7: ان تمام عورتوں نے مسلمانوں کے لاشوں کا مثلہ کیا اور ان کے کان وناک کاٹ ڈالے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان عورتوں میں مؤرخین کو صرف ایک ہند رضی اللہ عنہا کا نام نظر آیا باقی کسی بھی عورت کا ذکر نہیں ہے جس نے مثلہ کیا ہو ؟ آخر باقی عورتوں کا حال کیوں نہیں بیان کیا گیا؟ جن کے اسماء طبری کی روایت میں اوپر مذکور ہوئے۔

8: علامہ شبلیؒ نے اس کو جگر خوارہ کا لقب دیا اور یہ کہا کہ تاریخ کی کتابوں میں اس کا نام جگر خوارہ نام اس وجہ سے لکھا جاتا ہے لیکن کسی بھی عربی لغت کی کتاب کو اٹھا یا جائے تو جگر خوارہ کا لفظ نہیں ملے گا بلکہ جگرخوارہ کا لفظ فارسی کا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ بنو امیۃ خاندان کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے فارسی زبان لوگوں نے رکھ دیا ہو۔

9: اس روایت کو ابن اسحاق کے علاوہ کوئی اور روایت ہی نہیں کرتا ۔

10: ایک اہم اور سوال کہ جب حبشی رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے بعد نبی کریم ﷺ کے پاس گئے تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تو مجھ سے اپنا چہرہ نہیں چھپا سکتا؟ اور اس کی وجہ صرف حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا قتل تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ قتل جس کے ایماء پر ہوا ہے اور کس نے حبشی کے ساتھ آزادی اور انعام کا وعدہ کیا ہے ان کے ساتھ نبی کریم ﷺ نے یہ برتاؤ کیوں نہیں کیا؟ یعنی جبیربن مطعم اور ہند رضی اللہ عنہما کےساتھ۔ ان دونوں کے ساتھ تو حبشی رضی اللہ عنہ سے بھی سخت برتاؤ کرنا چاہیے تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں کے ساتھ بہت ہی اچھا رویہ تھا۔

11: اس جنگ میں جتنے بھی صحابہ شریک تھے کسی سے بھی اس طرح کی کوئی روایت نہیں نقل کی گئی اور کفار کی طرف سے اس جنگ میں جتنے مرد اور عورتیں شریک تھیں (جن کے نام اوپر کی روایت میں مذکور ہیں)جو کہ اس جنگ کے چشم دید گواہ تھے، ان میں سے کسی نے بھی حضرت ہند رضی اللہ عنہا کا یہ قصہ بیان نہیں کیا کہ اُس نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا۔ہاں البتہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ جنگ کے اختتام پر ایک اعلان خود کرتے ہیں:’’ہمارے کچھ افراد نے لاشوں کا مثلہ کیا ہے لیکن میں نے نہ تو اس کا حکم دیا تھا اور نہ مجھے یہ بات بری معلوم ہوئی‘‘[4]۔

صفحہ 6 از 7