کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی…

کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 7 از 7

اب ابو سفیان کے یہ الفاظ اس بات کی شہادت ہے کہ یہ کام صرف عورتوں نے نہیں کیا تھا بلکہ اس میں مرد بھی شامل تھے۔ اب یہ کام کس کس نے کیا تھا اور کون سے مرد نے کیاتھا اور کون سی عورت نے کیا تھا؟ اس جنگ کے چشم دید گواہوں میں سے کوئی بھی بیان نہیں کرتا لیکن ابن اسحاق کو حضرت ہند کی ذات ضرور نظر آئی کہ یہ کا م صرف اسی نے کیا ہے۔ ضروری ہے کہ تاریخ کی کتابوں پر کسی فیصلہ سے پہلے حدیث کی کتابوں کا ایک بار ضرور ورق گردانی کرنی چاہئے تاکہ ان قصہ گو تاریخ دانوں کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ حضرت حمزہ کی شہادت خود اس کے قاتل حضرت حبشیکے زبانی اگر دیکھ لیا جائے تو صحابہ رضی اللہ عنہم کی ذات پر کبھی بھی کوئی کیچڑ نہیں اُچال سکے گا۔ صحیح بخاری میں حبشی کی زبانی واقعہ وہاں تفصیل کےساتھ بیان ہوا ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے:

قَالَ لِى عُبَيْدُ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِى وَحْشِىٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ قُلْتُ نَعَمْ . وَكَانَ وَحْشِىٌّ يَسْكُنُ حِمْصَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَقِيلَ لَنَا هُوَ ذَاكَ فِى ظِلِّ قَصْرِهِ ، كَأَنَّهُ حَمِيتٌ۔۔۔۔۔الخ۔

[5]

ترجمہ:عبیداللہ بن عدی نے (حضرت حبشی )سے کہا کہ تم ہمیں حضرت حمزہکی شہادت کا واقعہ بتا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! بات یہ ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں حضرت حمزہ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔ میرے آقا جبیر بن مطعم  نے مجھ سے کہا کہ اگر تم نے حمزہ کو میرے چچا (طعیمہ) کے بدلے میں قتل کردیا تو تم آزاد ہوجاؤگے۔ انہوں نے پھر بتا یا کہ جب قریش عینین کی جنگ کیلئے نکلے( عینین احد کی ایک پہاڑی ہے اس کے اور احد کے درمیان ایک وادی حائل ہے)تو میں بھی ان کے ساتھ جنگ کے ارادے سے ہولیا۔ جب (دونوں فوجیں آمنے سامنے)لڑنے کیلئے صف آراء ہوگئیں تو( قریش کے صف میں) سباع بن عبدالعزی نکلا اور اس نے آواز دی: ہے کوئی لڑنے والا؟ (اس کی دعوت مبارزت پر )حمزہ بن عبدالمطلب نکل کر آئے اور فرمایا: اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! جو عورتوں کے ختنے کیا کرتی تھی۔ تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑنے آیا ہے؟پھر حمزہ نے اس پر حملہ کیا اور اس کو گزرے ہوئے کل کی طرح بنا دیا۔ ادھر میں ایک چٹان کے نیچے حمزہ کی تاک میں تھااور جوں ہی وہ مجھ سے قریب ہوئے ، میں نے ان پر اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا۔ نیزہ ان کی ناف کے نیچے جا کرلگااور ان کی سرین کے پار ہوگیا اور یہی ان کی شہادت کا سبب بنا، پھر جب قریش واپس ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس ہوگیا اور مکہ میں مقیم رہا لیکن جب مکہ بھی اسلامی سلطنت کے تحت آگیا تو میں طائف چلا گیا ۔ طائف والوں نے بھی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک خادم بھیجاتو مجھ سے وہاں کے لوگوں نے کہا کہ انبیاء کسی پر زیادتی نہیں کرتے۔ چنانچہ میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا: کیا تمہارا ہی نام وحشی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ پھر فرمایا کہ تم ہی نے حمزہ کو شہید کیا تھا؟ میں نے عرض کیا جو آپ ﷺ کو اس معاملے میں معلوم ہے، وہی صحیح ہے۔نبیﷺ نے فرمایا: کیا تم ایسا کرسکتے ہو کہ اپنی صورت کبھی مجھے نہ دکھاؤ؟ اور پھر میں وہاں سے نکل گیا۔(اس سے آگے مسلمہ کذاب کے قتل کا واقعہ بیان کرتے ہیں جو اختصار کی وجہ سے چھوڑا جارہا ہے۔تفصیل کیلئے حوالہ بالا دیکھے)۔


صفحہ 7 از 7