Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تقویٰ اور خشیتِ الہٰی کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

تقویٰ اور خشیتِ الہٰی کا اہتمام

تقویٰ اور ظاہر و باطن میں قول و فعل کے اندر خشیتِ الہٰی پر حرصِ شدید کی وصیت:

کیوں کہ جو اللہ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ اس کو بچاتا ہے، اور جو اس کی خشیت اختیار کرتا ہے وہ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔ اس لیے بار بار اس وصیت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تقویٰ اور خشیتِ الہٰی کی تاکید فرمائی۔

اوصیک بتقوی الله وحدہ لاشریک لہ۔

ترجمہ: ’’میں تمہیں اللہ وحدہ لا شریک لہ سے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں۔‘‘

و اوصیک بتقوی الله والحذر منہ۔

ترجمہ: ’’اور میں تمہیں اللہ سے تقویٰ اختیار کرنے اور اس کے عذاب سے بچنے کی وصیت کرتا ہوں۔‘‘

و اوصیک ان تخشی الله۔

ترجمہ: ’’اور میں تمہیں اللہ کی خشیت اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔‘‘ 

اقامت حدود: قریب و بعید سب پر حدودِ الہٰی کو قائم کرنے کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا: 

لا تبال علی من وجب الحق

ترجمہ: ’’جس پر حق واجب ہو جائے اس کی پروا نہ کرنا۔‘‘

ولا تأخذک فی الله لومۃ لائم۔

ترجمہ: ’’اللہ کے حقوق کے سلسلہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرنا۔‘‘

کیوں کہ حدود کو شریعت نے بیان کیا ہے لہٰذا یہ دین کا ایک حصہ ہے، اور شریعتِ الہٰی لوگوں پر حجت ہے اور لوگوں کے اعمال و افعال اسی کی روشنی میں تولے جائیں گے اور حدودِ الہٰی سے غفلتِ دین اور معاشرہ کی تباہی و بربادی ہے۔

استقامت: یہ دین و دنیا کی ضروریات میں سے ہے، حاکم پر قولاً و فعلاً اس سے متصف ہونا واجب ہے اور پھر رعیت پر بھی۔ فرمایا:

کن واعظا لنفسک۔

ترجمہ: ’’اپنے نفس کے لیے واعظ بنو۔‘‘

وابتغ بذلک وجہ اللہ والدار الآخرۃ۔

ترجمہ: ’’اس کے ذریعہ سے تم اللہ کی رضا اور دارِ آخرت کے طالب بنو۔‘‘