حضرت امیر معاویہ ؓ اور بت فروشی (شیعہ اعتراض کا تحقیقی رد)۔
مولانا ابوالحسن ہزارویمعاویہؓ اور بت فروشی
معزز قارئین ہمارے اھلسنت برادران نے نجانے معاویہ میں ایسا کیا دیکھا ہے کہ اسکے گیت گاتے رہتے ہیں، حالانکہ معاویہ کے کالے کارنامے تاریخ اھلسنت و کتب احادیث اھلسنت میں روز روشن کی طرح عیاں ہیں ان ہی کالے کارناموں میں معاویہ کا ایک کارنامہ بتوں کی تجارت کرنا بھی ہے، جسے اللہ و رسول ص نے حرام قرار دیا پہلے ہم اہلسنت کے قدیم عالم طبری کی کتاب تہذیب الآثار سے روایت نقل کرتے ہیں اسکے بعد ہم بتوں کی تجارت کتاب اھلسنت سے حرام ثابت کریں گے ملاحظہ کیجیے روایت:
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ , عَنِ الأَعْمَشِ , عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ بِالسِّلْسِلَةِ ، فَمَرَّتْ عَلَیْهِ سَفِینَةٌ فِیهَا أَصْنَامُ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ ، بَعَثَ بِهَا مُعَاوِیَةُ إِلَى الْهِنْدِ تُبَاعُ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: لَوْ أَعْلَمُ أَنَّهُمْ یَقْتُلُونِی لَغَرَّقْتُهَا ، وَلَکِنِّی أَخْشَى الْفِتْنَةَ
ترجمہ:
ابووائل کہتا ہے کہ میں مسروق کے ساتھ تھا ایک کشتی گذری جس میں سونے چاندی کے بنے ہوئے بت تھے، جسے معاویہ تجارت کے لئے ہندوستان بھیج رہا تھا۔ تب مسروق نے کہا اگر مجھے یقین ہوتا کہ یہ مجھے قتل کردیں گے تو میں یہ پوری کشتی کو غرق کردیتا لیکن میں آزمائش سے ڈرتا ہوں ۔
تهذیب الآثار.ج1 ص241.ط مطبعة المدنی
سند روایت
راوی اوّل:
محمد بن بشار العبدی: ثقة حافظ.
راوی دوم:
عبد الرحمن بن مهدی العنبری: ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحدیث
راوی سوم:
سفیان الثوری: ثقة حافظ فقیه إمام حجة وربما دلس
راوی چہارم:
سلیمان بن مهران الأعمش: ثقة حافظ
راوی پنجم:
شقیق بن سلمة الأسدی: أجمعوا على أنه ثقة
صحیح بخاری کے مطابق اللہ و رسول ﷺ نے بتوں کی تجارت کو حرام قرار دیا ہے۔
بخاری نے اپنی صحیح میں روایت نقل کی ہے کہ :
إن الله ورسوله حرم بيع الخمر، والميتة، والخنزير، والاصنام"
ترجمہ:
اللہ اور رسول نے شراب ، مردار، سور اور بتوں کا بیچنا حرام قرار دے دیا ہے۔
صحیح البخاری اردو جلد سوم ص ۳۰۷ ح ۲۲۳۶.


بخاری کی روایت نے تبصرہ کردیا ہے۔ اس لیے ہمارہ تبصرہ بنتا نہیں ہے۔ یعنی یہ ثابت ہوا کہ معاویہ حرام کاموں کو انجام دیتا تھا۔
والســلام
أبــوعــزرائــیل
شیعہ رافضی کا دجل و فریب ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح کمال فنکاری سے ترجمے میں خیانت کر کے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔
روایت میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ بت فروشی کرنا حضرت امیر معاویہؓ کا پیشہ تھا یا وہ بطور تجارت بتوں کی خرید و فروخت کرتے تھے۔
یہ چالاکیاں صرف شیعہ حضرات کے ہاں ملیں گی کہ وہ روایات کا غلط ترجمہ یا اس کا اصل مفہوم اس طرح بدل دیں گے کہ عام لوگ پریشان ہوکر صحابہ کرام سے بدظن ہوجائیں۔ ایسا کرنا ان کی مجبوری بھی ہے اگر وہ دین اسلام کے اولین راویوں کی شان و عظمت تسلیم کر لیں تو پھر سارے جھگڑے ہی ختم ہوجائیں۔قرآن و سنت کی ان کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے، ان کے نزدیک تو چوتھی صدی میں تصنیف کی گئی کتب ہی دین کا اصل ماخذ ہیں۔
اب آتے ہیں اصل اعتراض کی طرف۔۔ مذکورہ روایت کی سند و متن سے اعتراض کا رد
( حضرت امیر معاویہ نے تجارت کے لیے سونے، چاندی کے بت ہندوستان بھیجے تھے )
شیعہ رافضی نے طبری کی ایک روایت سے حضرت معاویہؓ کی شان میں گستاخی کی کوشش کی ہے۔
روایت یہ ہے کہ اعمش کہتے ہیں کہ ابو وائل نے کہا کہ میں مسروق کے ساتھ تھا پس ایک کشتی گذری جس میں سونے چاندی کے بت تھے جس کو حضرت امیر معاویہ نے ہندوستان فروخت کرنے کے لیے بھیجا تھا، تو مسروق نے کہا کہ اگر میں جان لیتا کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے تو میں اس کو غرق کر دیتا لیکن میں فتنہ سے ڈرتا ہوں ۔
(تهذيب الآثار للطبري ص ۲۴۱ رقم ۳۸۲)
جواب:
بلا ذری نے بھی(انساب الاشراف ۵/ ۱۳۷ )
اس کو نقل کیا ہے لیکن ان دونوں کے علاوہ کسی نے بھی اپنی کتاب میں اس کو نقل نہیں کیا حتی کہ روافض کی کتابوں میں بھی یہ روایت نہیں ملتی ۔
یہ روایت سنداً ومتناً دونوں طرح صحیح نہیں ہے ۔
(تہذیب التہذیب ۲۲۲/۴)
روایت پرسندا کلام ہے
اس روایت میں امام اعمش کا عنعنہ ہے اور امام اعمش مدلس ہیں علاوہ ازیں ان پر تشیع کا دھبہ ہے۔
" امام احمد نے فرمایا و شخص کس قدر غلیظ شیعہ ہوگا جو یہ کہتا ہو کہ حضرت معاویہ بتوں کی تجارت کرتے تھے۔
(المنتخب من علل الخلال ص۲۵)
نیز اس روایت کو مصنف ابن ابی شیبہ ( رقم 22684) نے نقل کیا ہے ، لیکن اس میں حضرت معاویہ کا ذکر نہیں ہے ۔
حضرت معاویہ کے بارے میں مسروق کا یہ قول اس لیے بھی بعید معلوم ہوتا ہے که مسروق معاویہ کے بلند مقام کو بہتر طریقے پر ملحوظ رکھتے تھے جب بعض مسائل میں معاویہ نے مسلمانوں کو کافر کا وارث قرار دیا اور کافر کو مسلمان کا وارث نہیں بنایا تو اس مسئلہ پر مسروق نے کہا
’’مـا أحـدث في الإسلام قضاء احب منہ‘‘
(اسلام کے اندر (اس مسئلہ میں اس سے زیادہ پسند یدہ فیصلہ نہیں ہے
( سنن دارمی رقم ۳۰۳)
معلوم ہوا مسروق حضرت امیر معاویہؓ کے فیصلوں کو پسند کرتے تھے ان کو کسی قسم کا عناد اور رنجیش نہیں تھی ۔ خلیفہ ابن خیاط لکھتے ہیں کہ
قاضی شریح جب کوفہ سے بصرہ گئے تو حضرت معاویہ کی طرف سے ان کے قائم مقام مسروق کو کوفہ کا قاضی بنایا گیا‘‘
تاریخ خلیفہ بن خیاط ص ۲۲۸
اگر وہ معاویہؓ کو قابل اعتراض سمجھتے تو منصب قضا قبول نہیں کرتے ۔
نیز مذکورہ روایت میں حضرت مسروق نے حضرت معاویہؓ کی طرف سے ظلم و زیادتی کے اندیشے کو ظاہر کیا جبکہ حضرت معاویہ حق گوئی کی پاداش میں ظلم و زیادتی روا نہیں رکھتے تھے مذکورہ روایت کے راوی اعمش نے خود معاویہ کے عدل وانصاف کے معاملے کو بڑی اہمیت دی ہے۔
(المنتقی ص ۳۸۸،منهاج السنة ج 6 ص۲۳۳)
جبکہ طبری کی روایت میں یہ ہے کہ ان کشتیوں میں ہدایا تھے ۔






الرد على شبهة الرافضي المحترق
اولاً السند فيه عله وهيا ان الاعمس ثقة لكن فيه تشيع وكان يدلس كما ذكر علماء الرجال فهذه عله في السند
والمتن لا يصح فقد روي باكثر من شكل متناقض
هذا نقل قول البخاري انه لا اصل له
قال البخاري في التاريخ الصغير :
قال أبو بكر بن عياش عن الأعمش أنه قال:
نستغفر الله من أشياء كنا نرويها على وجه التعجب اتخذوها دينا وقد أدرك أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم معاوية أميرا في زمان عمر وبعد ذلك عشر سنين فلم يقم إليه أحد فيقتله
وهذا مما يدل على هذه الأحاديث أن ليس لها أصول
ولا يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم خبره على هذا النحو في أحد من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إنما يقوله أهل الضعف بعضهم في بعض إلا ما يذكر أنهم ذكروا في الجاهلية ثم أسلموا فمحا الإسلام ما كان قبله . أهـ
التاريخ الصغير للبخاري ج1 ص 163
وفي المنتخب من العلل قال الخلال (227) :
« قال مهنا سألت أحمد ، عن حديث الأعمش ، عن أبي وائل ، أن معاوية لعب بالأصنام فقال : ما أغلظ أهل الكوفة على أصحاب رسول الله
ولم يصح الحديث
. وقال تكلم به رجل من الشيعة » .
وهذا قاله الإمام أحمد في حق من قال :
« أن معاوية لعب بالأصنام » .
فكيف بمن قال إن معاوية يبيعها !!
وهذه العلة كافية لرد هذا الحديث
انظر ( سل السِّنان في الذب عن معاوية بن أبي سفيان ) ص 156
شبهتك المتهالكه تم نسفها يا رافضي
مدلس کی عن والی روایت اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں۔۔۔

مسئلہ یہ ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو بدنام کرنے والے پہلے درجے کے بت پرست ہیں، قبریں، چٹانیں، تصویریں، مجسمے اور زندہ انسان کچھ بھی نہیں چھوڑا! شیعہ حضرات پہلے جا کر اپنا گھر صاف کریں، پھر دوسروں کے گھروں پر پتھر پھینکیں!