Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعوں کے ساتھ اختلاط رکھنا، اور شیعہ کا نکاح اور اس کا جنازہ پڑھنے والے کی امامت


سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص نے سنی لڑکی کا نکاح شیعہ مرد سے پڑھایا تھا یا شیعہ کا جنازہ پڑھاتا ہے، تو کیا اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟

جواب: شیعہ اپنے عقائد باطلہ کی وجہ سے کافر ہیں۔ ان سے کسی قسم کا غیر ضروری اختلاط رکھنا جائز نہیں۔ اسی طرح سنی لڑکی کا نکاح شیعہ مرد سے شرعاً درست نہیں۔ لہٰذا مذکورہ شخص اگر ان سے اپنے تعلقات ختم نہیں کرتا اور توبہ نہیں کرتا تو ایسا شخص شرعاً فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔

ولا يصلى على الكافر(التاتار خانية: جلد، 2 صفحہ، 122)

وفى الدر: ويكره امامة عبد  و فاسق  و مبتدع اى صاحب بدعة

(الدر المختار على رد المحتار: جلد، 1 صفحہ، 414)

قال في التقرير: وجعل الرملي في حاشية المنح المعتزلي والرافضي بمنزلةاهل الكتاب حيث قال قوله وصح نكاح كتابية اقول يدخل في هذا الرافضة بانواعها والمعتزلة فلا يجوزان تتزوج المسلمة السنية من الروافض لانها مسلمة وهو كافر فدخل تحت قولهم لا يصح تزوج مسلمة بكافر وقال الرستغفنى لا تصح المناكحة بين اهل السنة والاعتزال اه فالرافضة مثلهم او اقبح الرملي جعلهم من قبيل اهل الكتاب . فيجوز نكاح نسائهم ولا يزوجون ولعله اعدل الاقوال لانه لا يشك في كفر الرافضة

(تقرير المختار: جلد، 2 صفحہ، 183)

(ارشاد المفتين: جلد، 3 صفحہ، 353)