سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت پر اتفاق
علی محمد الصلابیسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت پر اتفاق
بیعت کے دن (4 محرم 24ہجری) فجر کی نماز کے بعد جب کہ وصیت کے مطابق سیدنا صہیب رومی رضی اللہ عنہ ہی امامت کرتے تھے، سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کا عطا کردہ عمامہ باندھے ہوئے آگے بڑھے، ممبرانِ شوریٰ منبرِ نبوی کے پاس تشریف فرما تھے، آپؓ نے مہاجرین و انصار اور فوجی قائدین اور جرنیلوں کو بلوایا ان میں شام کے سیدنا امیرِ معاویہ بن ابی سفیان، حمص کے امیر سدنا عمیر بن سعد اور مصر کے امیر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم اس وقت موجود تھے، جنہوں نے حج میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرکت کی تھی اور آپؓ کی معیت میں مدینہ پہنچے تھے۔
(شہید الدار عثمان بن عفان، احمد الخروف: صفحہ، 37)
صحیح بخاری میں یہ واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے:
’’جب لوگ صبح کی نماز سے فارغ ہوئے اور ممبرانِ شوریٰ منبر کے پاس جمع ہو گئے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار میں سے جو حاضر تھے ان کو بلا بھیجا، اور اسی طرح سپہ سالاروں کو بلوایا جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج میں شرکت کی تھی جب سب لوگ جمع ہو گئے تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خطبہ مسنونہ پڑھا، اور پھر فرمایا: حمد و صلوٰۃ کے بعد، اے سیدنا علیؓ میں نے لوگوں کے خیالات معلوم کیے، اور میں نے دیکھا وہ سیدنا عثمانؓ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، اس لیے آپؓ اپنے دل میں کوئی میل نہ پیدا کریں، پھر فرمایا: میں آپ (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) سے بیعت کرتا ہوں اللہ کی سنت اور اس کے رسولﷺ اور آپﷺ کے دو خلفاء (سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ) کی سنت کے مطابق۔ چنانچہ پہلے آپؓ سے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیعت کی پھر سب لوگوں نے، مہاجرین، انصار، سپہ سالار اور تمام مسلمانوں نے۔
(البخاری، کتاب الاحکام: صفحہ، 70، 72)
اور صاحبِ تمہید کی روایت کے مطابق سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیعت کے بعد سب سے پہلے جس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کی وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
(التمہید والبیان: صفحہ، 26)