کیا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار بارہ خلفاء میں ہوتا ہے؟
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو میں نے آپ کو فرماتے سنا: ’’یہ امر اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک ان میں بارہ خلفاء نہیں گزریں گے۔‘‘ پھر آپ نے ایسی بات کی جو مجھ پر مخفی رہی، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔‘‘
[صحیح مسلم شرح نووی، ص: ۱۲/۵۰۲.]
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی دوسری روایت میں ہے: ’’اسلام بارہ خلفاء تک غالب رہے گا ان سب کا تعلق قریش سے ہو گا۔‘‘
[صحیح مسلم شرح نووی، ص: ۱۲/۵۰۳.]
انہی سے مروی ایک اور روایت کے الفاظ ہیں: ’’یہ دین بارہ خلفاء تک غالب اور محفوظ رہے گا، وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔‘‘
[صحیح مسلم شرح نووی، ص: ۱۲/۲۰۳.]
سنن ابو داود میں جابر سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر واپس تشریف لائے تو قریش آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے: پھر قتل و قتال اور فتنہ کا دور دورہ ہو گا۔‘‘
[صحیح سنن الالبانی: ۳/۸۰۷.]
ابن کثیر اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس حدیث میں بارہ نیک خلفاء کی بشارت دی گئی ہے جن کے زمانے میں حق قائم رہے گا اور عدل ہوا کرے گا، اس سے ان کا پے در پے آنا لازم نہیں آتا، بلکہ ان میں سے چار تو یکے بعد دیگرے آئے اور وہ ہیں خلفاء اربعہ: ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم۔ ائمہ کرام کے نزدیک حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا شمار بھی ان خلفاء میں ہوتا ہے، بعض عباسی خلفاء بھی اس زمرے میں آتے ہیں، ظاہر یہ ہے کہ امام مہدی کا شمار بھی ان بارہ خلفاء میں ہوتا ہے جن کی احادیث میں بشارت دی گئی ہے۔ یقینا یہ وہ مہدی نہیں ہیں جن کا رافضی انتظار کر رہے ہیں اور جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ اس وقت موجود ہیں اور سامراء کے تہہ خانہ سے ظاہر ہوں گے۔
[سامراء: دریائے دجلہ کے مشرق میں بغداد اور تکریت کے درمیان ایک شہر.]
اس لیے کہ اس بات کی نہ تو کوئی حقیقت ہے اور نہ اس کا کوئی وجودہی۔ یہ محض کم عقلی کا شاخسانہ اور محض توہم و خیال ہے۔ اسی طرح ان بارہ خلفاء سے مراد شیعہ کے بارہ امام بھی نہیں ہیں۔
[تفسیر ابن کثیر: ۲/۳۴.]
نص کا بنظر غائر مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بارہ خلفاء خلافت سنبھالیں گے، ان کے ادوار میں اسلام غالب اور محفوظ رہے گا، لوگوں کا ان پر اجتماع ہو گا اور لوگوں کے معاملات کامیاب اور درست رہیں گے۔ مگر ان اوصاف کا شیعہ کے بارہ اماموں پر انطباق نہیں ہوتا۔ ان میں امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی بھی خلیفہ نہیں بنا۔
[منہاج السنۃ: ۴/۲۱۰.]
پھر اس حدیث میں ائمہ کی اس تعداد کا حصر نہیں ہے بلکہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کے زمانوں میں اسلام غالب، قوی اور محفوظ رہے گا اور اسلام کی ہر حالت خلفائے راشدین اور خلفائے بنو امیہ میں رہی۔
[اصول الشیعۃ: ۲/۸۱۶.]
اسی لیے ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اموی دور حکومت میں اسلام مابعد کے ادوار کے مقابلہ میں زیادہ غالب اور وسعت پذیر رہا۔
[منہاج السنۃ: ۴/۲۰۶.]
امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار بھی ان بارہ خلفاء میں ہوتا ہے۔
[منہاج السنۃ: ۴/۲۰۶ .]
سیدنا معاویہ بن سفیان شخصیت اور کارنامے
مصنف: ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی
ناشر: الفرقان ٹرسٹ
مترجم: پروفیسر جار اللہ ضیاء