صلح کے بعد حسن رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلقات
مولانا ابوالحسن ہزارویصلح کے بعد حسن رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلقات
حضرت حسن رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران ان کے پاس جایا کرتے تھے، جب وہ ایک باران کے پاس گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں ایسا انعام دینا چاہتا ہوں جو میں نے آپ سے پہلے کسی کو دیا اور نہ بعد میں دوں گا، چنانچہ انہوں نے انہیں چار لاکھ درہم دئیے جنہیں حسن رضی اللہ عنہ نے قبول کر لیا۔
[سیر اعلام النبلاء: ۳/۲۶۹.]
دوسری روایت میں ہے: حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہر سال معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے جاتے اور وہ انہیں ایک لاکھ درہم دیا کرتے، ایک سال وہ نہ جا سکے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس کوئی چیز نہ بھیجی، حسن رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھنے کے لیے دوات منگوائی تو انہیں خط لکھنے سے پہلے نیند آ گئی، انہوں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو یوں لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہوں: ’’حسن! کیا تو اپنی ضرورت کے لیے مخلوق کو خط لکھتا ہے اور اپنے رب سے سوال نہیں کرتا؟ حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا کروں جبکہ میرا قرضہ بہت زیادہ ہو چکا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کیا کر: ’’یا اللہ! میں تجھ سے ہر اس چیز کا سوال کرتا ہوں جس سے میری قوت اور حیلہ کمزور ہے اور جس تک میری رغبت نہیں پہنچی، اس کا میرے دل میں خیال نہیں آیا، اس تک میری امید نہیں پہنچی اور میری زبان پر وہ یقین جاری نہیں ہوا جسے تو نے پہلی مخلوق میں سے کسی کو دیا، مہاجرین اور دوسروں کو دیا مگر تو مجھ کو اس سے نواز دے، یا ارحم الراحمین۔‘‘حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بیدار ہوا تو یہ دعا مجھے یاد ہو چکی تھی، میں یہ دعا کرتا رہا، تھوڑی ہی دیر بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے میرا تذکرہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ اس سال نہیں آئے۔ جس پر انہوں نے میرے لیے دو لاکھ درہم کا حکم دے دیا۔
[تاریخ دمشق: ۱۴/۸.]
دوسری روایت میں وارد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کو خواب میں یہ دعا سکھائی تھی: ’’میرے اللہ! میرے دل میں اپنی امید پیدا کر دے اور اپنے سے علاوہ لوگوں سے میری امید منقطع کر دے کہ میں تیرے علاوہ کسی سے امید نہ رکھوں، یا اللہ! جس چیز سے میری قوت کمزور پڑ گئی، میرا عمل اس سے قاصر رہا۔ اس تک میری رغبت نہ پہنچی، اس تک میرا سوال نہ پہنچا اور میری زبان پر وہ جاری ہوا جو یقین تو نے اگلوں اور پچھلوں میں سے کسی ایک کو دیا، تو یا رب العالمین مجھے وہ بھی عطا فرما۔‘‘ حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم، میں نے یہ دعا ہفتہ بھر بھی نہیں کی ہو گی کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈیڑھ لاکھ درہم بھجوا دئیے۔ میں نے کہا: سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اپنا ذکر کرنے والوں کو نہیں بھولتا اور اپنے سے دعا کرنے والوں کو ناکام نہیں لوٹاتا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسن تم کیسے ہو؟‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں خیریت سے ہوں، اور میں نے آپ کو اپنا واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے بیٹے! جو لوگ خالق سے امید رکھتے اور مخلوق سے نہیں رکھتے ان کی امیدیں اسی طرح پوری ہوتی ہیں۔‘‘
[تاریخ دمشق: ۱۴/۸.]
زہری روایت کرتے ہیں: … جب علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اگر تمہیں یزید پر بجز اس کے اور کوئی فضیلت حاصل نہ ہوتی کہ تمہاری ماں قریشی خاتون ہے جبکہ اس کی ماں بنو کلب سے ہے تو تمہیں پھر بھی اس پر فضیلت ہوتی، مگر اس پر تمہاری فضیلت کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں ہے اس لیے کہ تمہاری ماں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
[الشریعۃ للآجری: ۵/۲۴۷۰
اس کی سند حسن ہے.]
معاویہ رضی اللہ عنہ کے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تعلقات
جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما معاویہ رضی اللہ عنہ سے عطیات قبول کیا کرتے تھے۔
[الشریعۃ للآجری ص:۲۴۷۰
اس کی سند حسن ہے.]
ایک دفعہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے ایک لاکھ درہم بھیجے تو وہ اپنے پاس موجود لوگوں سے کہنے لگے: اس میں سے جو شخص کچھ لے لے وہ اس کا ہوا۔ انہوں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے ایک لاکھ درہم بھجوائے تو ان کے پاس دس لوگ بیٹھے تھے انہوں نے وہ درہم دس دس ہزار کر کے ان میں تقسیم کر دئیے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک لاکھ درہم دینے کا حکم دیا۔
[تاریخ دمشق: ۶۲/۱۳۳.]
معاویہ رضی اللہ عنہ کی حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوتی تو فرماتے: نواسہ رسول! اہلا و سہلا مرحبا۔ پھر ان کے لیے تین لاکھ درہم کا حکم دیتے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ملاقات کرتے تو فرماتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی اور ان کے حواری کے بیٹے! میں تمہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور پھر انہیں ایک لاکھ درہم دینے کا حکم دیتے۔
[تاریخ دمشق: ۶۲/۱۳۳.]
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد انہیں اچھے الفاظ سے یاد کیا کرتے تھے۔ ہشام بن عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ایک دن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نماز پڑھی اور پھر نماز ادا کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموش رہے اور پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: ابن ہند دور نہ ہو ان میں کچھ ایسی گنجائش موجود ہیں جو ہمیں ان کے بعد کسی میں نظر نہیں آتیں۔ اللہ کی قسم! ہم انہیں خوفزدہ کرتے تھے مگر وہ تو شیر سے بھی زیادہ دلیر تھے۔ وہ ہم سے کیسے خوفزدہ ہو سکتے تھے، ہم انہیں دھوکہ دینا چاہتے مگر وہ بڑے دانا اور بارعب تھے وہ ہمارے دھوکے میں آنے والے نہیں تھے۔ و اللہ! میں چاہتا ہوں کہ جب تک اس (جبل ابو قبیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) میں ایک پتھر بھی موجود رہے ہم ان سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔