سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خلافت کا زیادہ مستحق ہونا -…

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خلافت کا زیادہ مستحق ہونا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

5: مستدرک حاکم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

انھا ستکون فتنۃ و اختلاف او اختلاف و فتنۃ۔

ترجمہ: ’’عنقریب فتنہ اور اختلاف ہو گا، یا اختلاف اور فتنہ ہو گا۔‘‘

ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! ان حالات میں آپﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

علیکم بالامین واصحابہ۔

(المستدرک: جلد، 3 صفحہ، 99 صححہ و وافقہ الذہبی)

ترجمہ: ’’تم امین اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا۔‘‘

یہ حدیث رسول اللہﷺ کا واضح معجزہ ہے جو آپﷺ کی نبوت کی صداقت کی واضح دلیل ہے۔ آپﷺ نے اس فتنہ کی خبر دی جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں رونما ہوا، اور ویسا ہی ہوا جیسا آپﷺ نے خبر دی تھی۔

اسی طرح یہ حدیث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی احقیتِ خلافت پر دلالت کرتی ہے کیوں کہ آپﷺ نے لوگوں کو انہیں لازم پکڑنے اور ان کے ساتھ رہنے کی طرف رہنمائی فرمائی، اور یہ خبر دی کہ فتنہ و اختلاف برپا ہو گا، اور اس صورت میں حق امیر المومنین کے ساتھ ہو گا اور آپﷺ نے انہیں ان کا ساتھ تھامے رہنے کا حکم فرمایا، کیوں کہ وہ حق پر ہوں گے اور جن لوگوں نے ان کے خلاف خروج کیا وہ باطل پر ہوں گے، اور وہ اہلِ بدعت و ضلالت ہوں گے۔ رسول اللہﷺ نے آپؓ کے سلسلہ میں یہ شہادت دی کہ آپؓ برابر ہدایت پر گامزن ہوں گے، اس سے علیحدگی اختیار نہیں کریں گے۔

(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ: جلد، 2 صفحہ، 660)

6: ترمذی نے اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

یا عثمان إنہ لعل الله یُقَمِّصُک قمیصا فإن ارادوک علی خلعہ فلا تخلعہ لھم۔

(فضائل الصحابۃ: جلد، 1 صفحہ، 614 اسنادہ صحیح)

ترجمہ: ’’اے سیدنا عثمانؓ امید ہے اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا پس اگر لوگ تم سے اس قمیص کو اتروانا چاہیں تو اس قمیص کو ان کی وجہ سے مت اتارنا۔‘‘

یہ حدیث خلافت کی طرف اشارہ ہے، اور قمیص کو بطور استعارہ خلافت کے لیے استعمال کیا گیا ہے، اور قمیص کو اتروانے میں خلافت کے لیے آپؓ کی نامزدگی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپؓ کو خلیفہ بنائے گا، اگر لوگ اس منصب سے تمہیں معزول کرنا چاہیں تو ان کی وجہ سے اپنے آپ کو معزول نہ کرنا، کیوں کہ تم حق پر ہو گے اور لوگ باطل پر۔

(الدین الخالص، محمد صدیق حسن القنوجی صحیح البخاری: جلد، 3 صفحہ، 446)

7: ترمذی نے سیدنا ابو سہلہؓ سے روایت کیا ہے کہ محاصرہ کے روز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: رسول اللہﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا میں اس پر ڈٹا رہوں گا۔

(سنن الترمذی: جلد، 5 صفحہ، 295۔ فضائل الصحابۃ: جلد، 1 صفحہ، 605)

یہاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ ’’رسول اللہﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا ہے‘‘ سے آپﷺ کا یہ فرمان مراد ہے کہ: 

وإن ارادوک علی خلعہ فلا تخلعہ لھم۔

ترجمہ: ’’اگر لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں تو ان کی وجہ سے مت اتارنا۔‘‘ 

یعنی آپﷺ نے وصیت فرمائی ہے کہ میں خلافت سے دست بردار نہ ہوں۔ اور فانا صابر علیہ۔ یعنی میں اس عہد پر ڈٹا رہوں گا، خلافت سے دست بردار نہیں ہوں گا۔

(تحفۃ الاحوذی، محمد عبدالرحمٰن المبارکفوری: جلد، 20 صفحہ، 209)

8: مستدرک حاکم میں اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

ادعوا لی۔ او لیت عندی رجلا من اصحابی۔

ترجمہ: ’’میرے لیے میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو بلاؤ، یا کاش میرے پاس میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی ہوتا۔‘‘

میں نے عرض کیا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو؟ فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو؟ فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: آپﷺ کے برادرِ چچا زاد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو؟ فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو؟ فرمایا: ہاں۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آ گئے تو مجھ سے کہا یہاں سے جاؤ، پھر آپﷺ ان سے چپکے چپکے باتیں کرنے لگے اور ادھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ بدلنے لگا۔

(فضائل الصحابۃ: جلد، 1 صفحہ، 605 اسنادہ صحیح، المستدرک: جلد، 3 صفحہ، 99 و صححہ و وافقہ الذہبی۔)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابوسہلہ فرماتے ہیں کہ محاصرہ کے دن ہم نے عرض کیا: کیا ہم ان لوگوں سے قتال نہ کریں؟ فرمایا: نہیں، رسول اللہﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا ہے میں اس پر ڈٹا رہوں گا۔

اس حدیث اور اس سے ماقبل کی حدیث میں آپؓ کی خلافت کی صحت کی واضح دلیل ہے۔ جس نے آپؓ کی خلافت کا انکار کیا اور آپؓ کو جنتی اور شہید نہ مانا، زبان یا دل سے آپؓ کی شان میں گستاخی کی تو وہ دائرۀ ایمان و اسلام سے خارج ہے۔

(الدین الخالص: جلد، 3 صفحہ، 446)

آپؓ کی خلافت و امامت کی صحت پر وہ روایت دلیل ہے جسے بخاری و مسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے:

کنا فی زمن النبیﷺ لا نعدل بابی بکر احدا ثم عمر ثم عثمان ثم نترک اصحاب النبی لا نفاضل بینھم

 (صحیح البخاری: فضائل اصحاب النبیﷺ: صفحہ، 3578)

ترجمہ: ’’ہم نبی کریمﷺ کے دور میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو درجہ نہیں دیتے تھے، پھر سیدنا عمرؓ ، پھر سیدنا عثمانؓ، پھر ان کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کسی کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔‘‘

اس روایت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ترتیبِ خلافت کے سلسلہ میں جو کرنے والا تھا وہ پہلے ہی ڈال دیا تھا۔

(عقیدۃ اہل السنۃ: جلد، 2 صفحہ، 664) 

صفحہ 2 از 3