سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خلافت کا زیادہ مستحق ہونا -…

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خلافت کا زیادہ مستحق ہونا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

علامہ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کے اندر نبی کریمﷺ کے دور میں تفضیل کے سلسلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جو معمول تھا اس کی خبر دی گئی ہے، کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سب سے افضل مانتے تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو، اور یہ بھی مروی ہے کہ یہ باتیں رسول اللہﷺ کو پہنچتی تھیں لیکن آپﷺ اس پر نکیر نہیں فرماتے تھے۔ پس ایسی صورت میں گویا یہ تفضیل نص سے ثابت ہے، ورنہ کم از کم مہاجرین و انصار کے درمیان دورِ نبویﷺ میں بلا نکیر جو معمول و مشہور رہا اس سے ثابت ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ کے اس طرزِ عمل سے ثابت ہے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ظاہر ہوا، یعنی سب نے بغیر کسی رغبت و رہبت کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر خلافت کی بیعت کی اور ان میں سے کسی نے بھی اس تولیت کا انکار نہ کیا۔

(منہاج السنۃ النبویۃ، ابنِ تیمیۃ: جلد، 3 صفحہ، 165) 

اس سلسلہ میں مذکورہ تمام نصوص قوی دلیل ہیں، ان میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کی احقیت کی طرف اشارہ موجود ہے اور یہ شک و شبہ سے بالاتر ہے، اس سلسلہ میں عاملین کتاب و سنت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، کتاب و سنت پر عمل کرنے والے سعادت مندوں کا یہ گروہ، اہلِ سنت و الجماعت ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی احقیت خلافت کا عقیدہ رکھے اور مکمل طور پر ان نصوص کو تسلیم کرے جو اس پر دلالت کرتی ہیں۔

(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام، د۔ناصر بن علی عایض حسن الشیخ: جلد، 2 صفحہ، 664)


صفحہ 3 از 3