سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اجماع - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اجماع

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اجماع

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسی طرح ان کے بعد ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے اہلِ سنت و الجماعت کا اس بات پر اجماع ہے کہ سیدنا عثمان بن عفانؓ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافتِ نبوت کے سب سے زیادہ مستحق تھے، کسی نے بھی اس سے اختلاف نہیں کیا ہے بلکہ سب نے اس کو تسلیم کیا ہے، کیوں کہ آپؓ شیخین سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے بعد مطلقاً سب سے افضل ہیں۔ سیدنا عثمانؓ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد احقیت خلافت پر اجماع بہت سے علمائے حدیث وغیرہم نے نقل کیا ہے۔

(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ: جلد، 2 صفحہ، 665)

1: ابنِ ابی شیبہؒ نے سیدنا حارثہ بن مضربؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں حج کیا تو لوگوں کو دیکھا کہ انہیں اس سلسلہ میں کوئی شک نہیں تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد ہونے والے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔

(المصنَّف: جلد، 14 صفحہ، 588)

2: ابو نعیم اصفہانیؒ نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا تھا، میرے گھٹنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے سے لگ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے لوگ کس کو امیر بنائیں گے؟ آپؓ نے فرمایا: لوگوں نے اپنا معاملہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حوالے کر رکھا ہے۔

(کتاب الامامۃ والرد علی الرافضۃ: صفحہ، 306)

3: حافظ ذہبی رحمۃ اللہ نے سیدنا شریک بن عبداللہ القاضیؓ سے روایت نقل کی ہے، فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد مسلمانوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا، اگر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ افضل کسی کو سمجھ رہے ہوتے تو گویا انہوں نے دھوکا دیا۔ پھر سیدنا ابوبکر نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا انہوں نے عدل و حق کو لوگوں میں نافذ کیا، پھر جب وہ اس دنیا سے رخصت ہونے لگے تو چھ افراد پر مشتمل شوریٰ بنا دی، وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر جمع ہو گئے، اگر وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ افضل کسی کو سمجھتے ہوتے تو گویا انہوں نے ہم کو دھوکا دیا۔

(میزان الاعتدال فی نقد الرجال، محمد بن عثمان الذہبی: جلد، 2 صفحہ، 273 یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوا ہے بلکہ نبی کریمﷺ کے بعد سب سے افضل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو خلیفہ مقرر کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے اس لیے ان کو خلیفہ بنایا گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم امت کو دھوکا دینے والے نہ تھے۔مترجم)

مذکورہ بیانات سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی ہی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان یہ بات مشہور تھی کہ خلافت کے زیادہ مستحق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی ہیں، کیوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علم میں بعض وہ نصوص تھے جن میں اس بات کی طرف اشارہ موجود تھا کہ خلافتِ نبوت کی ترتیب میں سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نمبر ہو گا، اور وہ جانتے تھے کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے بعد لوگوں میں مطلقاً سب سے افضل سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔

(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام، د۔ ناصر بن علی عایض حسن الشیخ: جلد، 2 صفحہ، 666)

4: ابنِ سعدؒ نے سیدنا نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے لوگوں میں جو سب سے افضل بچے تھے ان کو خلیفہ بنایا ہے اور افضل کو اختیار کرنے میں ہم نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔

(الطبقات الکبریٰ: جلد، 3 صفحہ، 63)

5: حسن بن محمد الزعفرانی کا بیان ہے کہ میں نے امام شافعی رحمۃ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: لوگوں نے بالاجماع سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد چھ افراد پر مشتمل شوریٰ تشکیل دی، اور انہیں حکم دیا کہ اپنے میں سے ایک کو خلیفہ منتخب کر لیں، شوریٰ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا۔

(مناقب الشافعی، البیہقی: جلد، 1 صفحہ، 434، 435) 

ابو حامد محمد المقدسی نے امام شافعی رحمۃ اللہ کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے: جان لو امامِ حق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، کیوں کہ شوریٰ نے خلیفہ کے انتخاب کو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا، اور سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے آپؓ کو خلیفہ منتخب کر لیا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے آپؓ کی رائے کو درست قرار دیتے ہوئے اس پر اجماع کر لیا، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حق کی راہ پر قائم رکھا، عدل و انصاف کو عام کیا، یہاں تک کہ جامِ شہادت نوش کر لیا۔

(الرد علی الرافضۃ: صفحہ، 319، 320)

6: علامہ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے: لوگ جس طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت پر متفق ہوئے کسی کی بیعت پر متفق نہ ہوئے۔

(منہاج السنۃ: جلد، 3 صفحہ، 66۔ السنۃ، الخلال: صفحہ، 320)

7: ابو الحسن الاشعری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی امامت ان اصحابِ شوریٰ کی قرار داد سے ثابت ہوئی جن کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے مقرر کیا تھا، انہوں نے آپؓ کو منتخب کیا، اور آپؓ کی امامت سے راضی ہوئے، اور آپؓ کے فضل و عدل پر اجماع کیا۔

(الإبانۃ عن اصول الدیانۃ: صفحہ، 68)

صفحہ 1 از 3