سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اجماع - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اجماع

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

8: ترتیبِ خلافت کے بارے میں سلف صالحین اور اہلِ حدیث کے عقیدہ کو بیان کرتے ہوئے عثمان صابونی رحمہ اللہ نے اولاً سیدنا ابوبکرؓ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافتِ شوریٰ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع سے وجود میں آئی، تمام نے ان کو پسند کر کے خلافت کی باگ ڈور انہیں سونپ دی۔

(عقیدۃ السلف و اصحاب الحدیث ضمن الرسائل المنیریۃ: جلد، 1 صفحہ، 139) 

9: شیخ الاسلام علامہ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: تمام مسلمانوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی، کوئی بھی پیچھے نہیں ہٹا، جب قوت و طاقت والوں نے بیعت کر لی تو آپؓ امام قرار پا گئے، ورنہ اگر سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیعت کر لیتے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دیگر قوت و طاقت والے صحابہ بیعت نہ کرتے تو امام نہ قرار پاتے، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے چھ افراد، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا سعد، سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم پر مشتمل شوریٰ تشکیل دے دی اور پھر سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم نے راضی و خوشی خود اپنا نام واپس لے لیا تو صرف سیدنا عثمان، سیدنا علی، اور سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم باقی رہے۔ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے حقِ خلافت سے دست بردار ہوتے ہوئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ و سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں میں سے ایک کو خلیفہ نامزد کرنے کی ذمہ داری سنبھالی اور تین دن تک اپنی نیند حرام کر کے سابقین اولین اور دیگر صحابہ کرام اور سپہ سالارانِ فوج رضی اللہ عنہم سے رائے و مشورہ کرتے رہے، مسلمانوں نے انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو منتخب کرنے کا مشورہ دیا، اور پھر تمام لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی، یہاں نہ ان کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کسی چیز کا لالچ تھا اور نہ ان سے کسی چیز کا خوف تھا، اسی لیے بہت سے اسلاف و ائمہ جیسے ابو ایوب سختیانی، احمد بن حنبل اور دارِ قطنی رحمہم اللہ وغیرہم نے فرمایا: جس شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر مقدم کیا اس نے مہاجرین و انصار پر اتہام باندھا اور ان پر عیب لگایا۔ یہ واضح ترین دلیل ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ افضل ہیں کیوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپؓ کو اپنی پسند و مشورہ سے مقدم رکھا۔ 

(منہاج السنۃ: جلد، 1 صفحہ، 134) 

10: حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مروی ہے کہ شوریٰ نے خلیفہ کے انتخاب کی مکمل ذمہ داری سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی تھی کہ وہ مسلمانوں میں جو افضل ہے اس کو خلیفہ منتخب کرنے کی پوری کوشش کریں، تو انہوں نے ممبرانِ شوریٰ اور دیگر حضرات جن تک پہنچ سکتے تھے ان سے اس سلسلہ میں گفتگو کر کے رائے معلوم کی تو سب ہی نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حق میں رائے دی، یہاں تک کہ آپؓ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں آپ کو والی نہ بناؤں تو آپؓ اس منصب کے لیے کس کا نام پیش فرماتے ہیں؟ جواب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا۔ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں آپ کو والی نہ بناؤں تو آپؓ اس منصب کے لیے کس کا نام پیش فرماتے ہیں؟ فرمایا: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا۔

بظاہر یہ اس وقت کا معاملہ ہے جب مسئلہ خلافت تین دن کے اندر محصور نہیں ہوا تھا اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے افضل ترین کو منتخب کرنے کے لیے اپنے آپ کو اس حق سے الگ نہیں کیا تھا۔

پھر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان دونوں یعنی حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ عنہما کے سلسلہ میں لوگوں سے صلاح و مشورہ شروع کیا، خاص و عام سب کی رائے معلوم کرنے لگے، الگ الگ، ایک ساتھ، دو دو، تنہا تنہا، خلوت و جلوت میں سب سے ملے، یہاں تک کہ پردہ نشین خواتین کے پاس پہنچے، ان کی رائے بھی معلوم کی، مکاتب میں بچوں سے ملے ان سے بھی پوچھا، حتیٰ کہ ان تین دنوں کے دوران میں جو مسافر اور دیہات کے رہنے والے مدینہ پہنچے ان سے بھی رائے معلوم کی، تو کسی کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں اختلاف کرتے ہوئے نہیں پایا۔

اس طرح حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے تین دن اور تین رات پوری محنت کی، نیند بھر نہ سوئے، اپنا سارا وقت نماز، دعا، استخارہ اور لوگوں سے صلاح و مشورہ میں گزار دیا، اور کسی کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر کسی کو مقدم کرتے ہوئے نہیں پایا، یہاں تک کہ وہ رات آئی جس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کا چوتھا دن طلوع ہونے والا تھا، آپؓ اس رات اپنے بھانجے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے اور ان سے کہا: سیدنا علیؓ و سیدنا عثمانؓ کو بلا لاؤ، وہ بلا لائے۔ وہ دونوں سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؓ نے ان دونوں حضرات کو خبر دی کہ میں نے لوگوں سے دریافت کیا تو لوگ آپ دونوں کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ہیں، پھر آپؓ نے ان دونوں حضرات سے عہد لیا کہ اگر ان کو والی بنایا جائے تو وہ عدل و انصاف کو قائم کریں گے اور اگر ان پر دوسرے کو والی بنایا گیا تو اس کی اطاعت کریں گے، پھر سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے وہ عمامہ زیب تن کیا جو انہیں رسول اللہﷺ نے عطا کیا تھا، اور تلوار لٹکائی، اور مسجد تشریف لائے۔ مہاجرین و انصار کے سربرآوردہ لوگوں کو بلا بھیجا اور ’’الصلاۃ جامعۃ‘‘ کے اعلان سے مسجد لوگوں سے بھر گئی اور تنگ ہو گئی، لوگ سمٹ سمٹ کر بیٹھے یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے بیٹھنے کی جگہ نہ ملی، لوگوں کے آخر میں جگہ ملی وہ بڑے شرمیلے تھے۔

صفحہ 2 از 3