سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اجماع - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اجماع

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

پھر سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ منبرِ نبویﷺ پر تشریف لائے، بڑی دیر تک کھڑے رہے طویل دعا کرتے رہے، لوگ سن نہ سکے پھر اپنی بات کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! میں نے آپ حضرات سے خفیہ و علانیہ تمہارے خلیفہ کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے پایا کہ آپ حضرات ان دونوں کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، یا سیدنا علیؓ یا سیدنا عثمانؓ۔ فرمایا: اے سیدنا علیؓ اٹھو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے پاس منبر کے نیچے جا کھڑے ہوئے۔ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ تھام کر فرمایا: کیا تم میرے ہاتھ پر اللہ کی کتاب، نبی کریمﷺ کی سنت اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے فعل کے مطابق حکومت کرنے کی بیعت کرتے ہو؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، لیکن اپنی وسعت و طاقت بھر۔ پھر سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ چھوڑ دیا، پھر فرمایا: اے سیدنا عثمانؓ اٹھو، وہ آپؓ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کیا تم میرے ہاتھ پر اللہ کی کتاب، نبی کریمﷺ کی سنت اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے فعل کے مطابق حکومت کرنے کی بیعت کرتے ہو؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ پھر آپؓ نے اپنا سر مسجد کی چھت کی طرف اٹھایا، آپؓ کے ہاتھ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھا اور فرمایا: اے اللہ سن لے اور گواہ رہ! اے اللہ سن لے اور گواہ رہ! اے اللہ میری گردن پر جو ذمہ داری ڈالی گئی تھی میں نے اس کو سیدنا عثمانؓ کی گردن پر ڈال دی۔ اس کے بعد لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو منبر کے پاس گھیر لیا، اور بیعت کے لیے لوگوں کی بھیڑ لگ گئی۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کے بیٹھنے کی جگہ منبر پر بیٹھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو منبر کے دوسرے زینہ پر بیٹھایا اور لوگ آ آ کر بیعت کرنے لگے، سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیعت کی۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوسرے نمبر پر بیعت کی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 159، 161)

اجماع سے متعلق مذکورہ بیانات سے قطعی طور سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت خلافت باجماعِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پوری ہوئی اور کسی نے بھی اس سلسلہ میں اختلاف نہ کیا۔

(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام، د۔ ناصر بن علی عایض الشیخ: جلد، 2 صفحہ، 671)


صفحہ 3 از 3