امام ابن کثیر پر بہتان عظیم
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندامام ابن کثیرؒ پر بہتان عظیم
مرزا علی جہلمی ایسی بےباکی اور اطمینان کے ساتھ صحابہ کرامؓ، اولیاء و محدثین و مؤرخین پر بہتان باندھتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
مرزا جہلمی اپنے ایک بیان میں امام ابن کثیرؒ پر بہتان باندھتے ہوئے لکھتا ہے کہ امام ابن کثیرؒ نے جھوٹے مدعی نبوت مختار ثقفی کذاب کی بہت تعریف کی ہے۔
مرزا علی کے اس دعوے میں کتنی حقیقت ہے البدایہ والنہایہ کے جلد حوالہ جات سے واضح ہو جائے گا۔
امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ
مختار ثقفی ابتداء ناصبی تھا ۔اور حضرت علیؓ سے شدید بغض رکھتا تھا۔
(البدایہ والنہایہ جلد،8،صفحہ361 ، مترجم، نفیس اکیڈمی)
مختار ثقفی دولت و شہرت کا بھوکا انسان تھا قاتلانِ حسین سے بدلہ لینا درحقیقت اپنی حکومت کو مضبوط کرنا اور شیعانِ علی کی حمایت حاصل کرنا تھا۔یہی مختار ثقفی ہے جو اس بات پر آمادہ ہو گیا تھا امام حسنؓ کو پکڑ کر حضرت امیر معاویہؓ کے پاس بھیج دے ۔لیکن اپنے چچا کے کہنے پر اپنے مذموم ارادے کو ترک کر دیا۔
ابن کثیرؒ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
مختار نے اپنے چچا سے کہا اگر میں حضرت حسنؓ کو پکڑ کر حضرت امیر معاویہؓ کے پاس بھیج دوں تو ہمیشہ کیلئے اسکے نزدیک میرا یہ ایک کارنامہ ہوگا۔
(بحوالہ ایضاً)
اس حوالے سے میرے دعوے کی صداقت روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ مختار ثقفی دولت و حکومت کا بھوکا انسان تھا ۔جو شخص حضرت علیؓ و حضرت حسنؓ سے اتنا بغض رکھتا تھا اچانک سے اہلِ بیت کیلئے اتنی ہمدردی بیدار ہوگئی؟
گل وچ ہور اے
اسی طرح امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ
حضورﷺ نے فرمایا عنقریب ثقیف سے دو کذاب نکلیں ۔
پھر آگے فرماتے ہیں کہ ایک حجاج بن یوسف اور دوسرا مختار ثقفی۔
(البدایہ والنہایہ، جلد 8 صفحہ 364 ،مترجم، نفیس اکیڈمی)
ان حوالہ جات سے روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ امام ابن کثیرؒ مختار ثقفی کی تعریف نہیں بلکہ اسے کذاب و دولت و شہرت کا لالچی انسان سمجتے تھے۔