حضرت عمرؓ جنگ احد میں پہاڑی بکری کی طرح بھاگ کھڑے ہوئے۔ (درمنثور)
زینب بخاریحضرت عمرؓ جنگ احد میں پہاڑی بکری کی طرح بھاگ کھڑے ہوئے۔ (درمنثور)
(الجواب اہلسنّت)
شیعہ لوگوں کا دجل اور اندر کی غلاظت کے سوا اس عنوان میں کچھ نہیں رکھا۔ حقیقت حال یہ ہے کہ حضرت عمرؓ احد میں استقامت کے ساتھ جمے رہے۔ محقق العصر حضرت مولانا محمد نافع ؒ فرماتے ہیں علماء مفسرین و محدثین نے اس مقام میں تشریح کی ہے کہ اس موقع پر جناب نبی کریمﷺ کے ساتھ تقریباً چودہ آدمی ثابت قدم رہے ھے جن میں سات عدد مہاجرین اور سات عدد انصار میں سے تھے اور مہاجرین میں سے جو حضرات ثابت قدم رہے ان کے اسماء ذکر کیے ہیں وہ حضرات جناب ابوبکر ، عمر، علی، طلحہ، عبید الله، عبد الرحمن بن عوف، الزبیر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم اجمعین تھے، پھر تفسیر خازن اور فتح الباری سے حوالا نقل فرما کر وضاحت فرمائی کہ شیخین حضرات مع دیگر اکابر کے آپﷺ کی رفاقت میں ثابت قدم رہنے والوں میں شامل رہے۔
(فوائد نافع حصہ تحت باب محاذ جنگ سے فرار کا جواب، صفحہ 108)
صاحب سیرۃ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ اور مہاجرین کی ایک جماعت نے کفار کے دستہ سے جنگ کی یہاں تک کہ ان کو پہاڑ سے اتار دیا. (سیرت ابن ہشام، جلد 3 صفحہ 91)
سيرة المصطفی جلد 1 صفحہ 557 پر بھی مذکور ہے کہ حضرت عمرؓ سمیت سات مہاجرین استقامت کے ساتھ میدان احد میں کفار کے مقابلے پر جمے رہے، اب ذرا درمنثور کی روایت ملاحظہ فرمائیں ۔ حضرت عمرؓ نے جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا اور
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِۙن (آل عمران آیت 155)
(بے شک وہ جو تم میں سے پھر گئے جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں )
کی تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ میں احد والے دن تیزی کے ساتھ احد پہاڑ پر چڑھ گیا تھا۔
( شیعہ تحقیقی دستاویز عکسی صفحہ) محترم حضرات یہی وہ الفاظ ہیں جس کو شیعہ لوگوں نے طوفان بنا کر پیش کیا ہے اگر دشمن سے لڑنے کے لئے محفوظ جگہ اور لڑائی کے مناسب مقام پر چڑھنا بھاگ کھڑا ہونا ہے تو اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھ لینا چاہے کہ اپنے پلے میں کوئی رتی ایمان کی بچتی بھی ہے یا نہیں کیونکہ احد کی اسی لڑائی میں خود رحمت عالمﷺ پہاڑ پر چڑھ گئے تھے اور دوبارہ مسلمانوں کا اکٹھا ہونا اور کفار سے ٹکرانا بھی اسی احد کے میدان میں واقع ہوا تھا!
علامہ ندوی ؒ نے اپنی تاریخ اسلام میں احد کے احوال نقل کیے ہیں ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جب آپﷺ کی شہادت کی خبر پھیل گئی تو ابو سفیان نے پہاڑ پر چڑھ کر اس کی تصدیق کے لیے آواز لگائی کہ محمدﷺ یہاں ہیں؟ آپﷺ نے مسلمانوں کو جواب دینے سے منع فرما دیا۔ جب ابوسفیانؓ کو کوئی جواب نہ ملا تو اس نے پھر کہا کیا تم میں ابوبکرؓ و عمرؓ ہیں مگر جواب نہ ملا تو وہ کہنے لگا سب مارے گئے اسلام کا خاتمہ ہو گیا ۔ اس پر حضرت عمرؓ آپﷺ کی اجازت سے بولے کہ اے دشمن خدا ہم تینوں زندہ ہیں! یہ سن کر اس نے هبل کا نعرہ لگایا اور مسلمانوں نے اللہ اعلى و اجل کا نعرہ بلند کیا۔ الخ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب مشرکین مکہ اپنے کو فاتح قرار دے رہے تھے۔ اس وقت ابوسفیانؓ کو حضرت عمرؓ ہی جواب دے رہے تھے اگر حضرت عمرؓ بھاگ گئے تھے تو پھر یہاں جواب کون دے رہا تھا؟