عمر عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی نو یا انیس سال ؟ تحقیقی…

عمر عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی نو یا انیس سال ؟ تحقیقی مقالہ

  ابوعمر غلام مجتبی مدنی

صفحہ 2 از 4
الاصابة في تميز الصحابة 4 ص 230 م 773ھ، سيرة ابن هشام م 1 ص 271 طبع بیروت،،
الكامل في التاريخ 4، ص 358 طبع بيروت، علامه ابوعمر یوسف ابن عبدالله بن محمد بن عبد القرطبی 363ھ، الاستيعاب في اسماء الاصحاب على هامش الاصابة 463ھ ج 4 ص 232 طبع بیروت

اسی تحقیق کی تائید متفق علیہ وہ احادیث بھی کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جنگ بدر اور احد میں شریک تھیں ۔ جنگ احد کے موقع پر آپ ام سلیم کے ہمراہ پانی کے مشکیزے اٹھائے مسلمانوں کو پانی پلاتی پھر رہی تھیں

 (بخاری کتاب الجہاد و السیر، باب غزوالنساء وقتالصن مع الرجال)

یہ تائید اس طرح ہو گی کہ اگر ہجرت کے وقت بیبی پاک کی عمر 9 سال تھی تو جنگ بدر اور احد میں 10 اور 11 سال کی عمر ہونی چاہیے، اور اتنی کمسن لڑکی کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ میں آنے کی اجازت ہر گز نا دیتے جبکہ 15 سال سے چھوٹے لڑکوں کو جنگ میں آنے سے منع فرما چکے تھے، تو ایک کمسن لڑکی کو کیسے اجازت عطا فرما سکتے ہیں۔
اس تحقیق سے معترضین کو جواب تو کافی اور وافی مل جائےگا لیکن دو اعتبار سے یہ جواب نا قابل قبول ہے۔ 
 اولا
دراصل حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھما کی عمر کا فرق تاریخی کتب کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ دس سال کا فرق ہے اور عبارت 

وكانت هي اكبر من اختها عائشة بعشر سنين

حالانکہ اصل عبارت میں عشر کی جگہ عشرین ہے جس کا مطلب کہ دونوں بہنوں کی عمر میں بیس سال کا فرق ہے اور جب بیس سال کا فرق ہوگا تو نکاح کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی عمر 9 سال ہی بنتی ہے ، جو کہ کتب احادیث سے صحیحہ اسناد سے ثابت ہے تو جو توجیہ موجود بھی اور احادیث صحیحہ کے موافق بھی ہے یہی توجیہ قبول کی جائے گی ورنہ منکرین حدیث ہر اس حدیث کو ماننے سے انکار کر دیں گے جو ان کے مزاج و عقل کے خلاف ہو اور اپنی من چاہی تاویلات و توجیہات کر یں گے اور اس طرح انکار حدیث کا دروازہ کھولنا اسلام کی بنیادوں کیلیے انتہائی خطرناک ثابت ہو گا اور کئی نئے فتنوں کیلیئے دروازہ کھولنا ثابت ہوگا اس کی ایک مثال اس کے تحقیق کا اگر تقابل احادیث مبارکہ سے کیا جائے تو یہ جواب نا صرف کمزور بنتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دین کی بنیادوں پر بھی ضرب پڑتی ہے وہ کیسے؟
حال ہی میں ایک اہلسنت کے بہت بڑے نام نے اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرمایا کہ بخاری شریف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے دو سو سال بعد لکھی گئی ابھی میں کچھ بات کہوں آپ سنیں اور کچھ دنوں بعد وہ آگے کسی سے کہیں لازمی کچھ نا کچھ بیان میں تبدیلی ہوگی اور جب وہ آگے کہے گا تو لازمی کچھ اور تبدیلی ہوگی۔
مجھے یہ سن کر بہت زیادہ حیرت ہوئی کہ شاید ان حضرت نے تدوین حدیث کے مراحل و مراتب اور اصول حدیث کے تحت جو رواۃ اور مرویات کی شرائط ، احتیاط موجود ہیں وہ پڑھی بھی ہیں یا نہیں ؟ کیا یہ جواب دینے کے بعد آپ بجز بخاری شریف کہ کسی بھی حدیث کی کتاب کو دلیل کے طور پر پیش کر سکتے ہیں ؟ یقینا نہیں کر سکتے اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ خود کو اہل
قرآن کہہ کر حدیث کا انکار کرتے ہیں آپ ان ہی کی زبان بول رہے ہیں خدارا ہوش میں رہتے۔ ہوئے بولیے۔
ثانيا
یہ رائے مؤرخین کی تو کہی جا سکتی ہے محدثین کی رائے اس کے خلاف ہے اور ظاہر ہے جب بھی حدیث و تاریخ میں تقابل ہو تو رجحان ہمیشہ حدیث ہی کو دی جائے گی اتنی موٹی بات تو تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے والا بھی جانتا ہی ہے۔

محدثین کی رائے

جبکہ محدثین کی تحقیق اور روایات کے مطابق رخصتی کے وقت عمر مبارک 9 سال ہی تھی جیسا کہ بخاری شریف میں ہے

  حَدَّثَنِي  فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا  عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ  هِشَامٍ ، عَنْ  أَبِيهِ ، عَنْ  عَائِشَةَ  رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ خَزْرَجٍ فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِي، فَوَفَى  جُمَيْمَةً ، فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ، وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي، فَصَرَخَتْ بِي، فَأَتَيْتُهَا لَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي، فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى أَوْقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ وَإِنِّي لَأُنْهِجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ، فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي، ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ، فَقُلْنَ : عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ. فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي، فَلَمْ  يَرُعْنِي  إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ

مرفوع | حدیث رقم : 3894 | مجلد رقم: 5 | صفحة رقم: 55
كتاب : مناقب الأنصار - باب : تزويج النّبي عائشة
صفحہ 2 از 4