عمر عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی نو یا انیس سال ؟ تحقیقی…

عمر عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی نو یا انیس سال ؟ تحقیقی مقالہ

  ابوعمر غلام مجتبی مدنی

صفحہ 3 از 4

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال کی تھی ، پھر ہم مدینہ (ہجرت کر کے) آئے اور بنی حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا۔ یہاں آکر مجھے بخار چڑھا اوراس کی وجہ سے میرے بال گرنے لگے ۔ پھر مونڈھوں تک خوب بال ہوگئے پھر ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں ، اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی انہوں نے مجھے پکارا تو میں حاضر ہو گئی۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے۔آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ کے پاس کھڑا کر دیا اور میرا سانس پھولا جارہا تھا۔ تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا۔ پھر گھر کے اندر مجھے لے گئیں۔ وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں ، جنہوں نے مجھے دیکھ کر دعا دی کہ خیر و برکت اور اچھا نصیب لے کر آئی ہو ، میری ماں نے مجھے انہیں کے حوالہ کر دیا اور انہوں نے میری آرائش کی۔اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے آپ کے سپرد کر دیا میری عمر اس وقت نو سال تھی۔

صحیح بخاری حدیث نمبر: 3894
صحیح مسلم حدیث نمبر 3479
سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4933
سنن نسائی حدیث نمبر 3380
ابن ماجہ حدیث نمبر 1876

صحاح ستہ کی پانچ کتب میں یہی حدیث مبارکہ آئی ہے کہ رخصتی کے وقت عمر مبارک 9 سال ہی ہے، اور یہی درست بھی ہے لیکن اس پر کم عمری کا اعتراض کرنا در حقیقت اس وقت کے عرف و رواج، بلوغت و صغر پن سے لاعلمی کی وجہ سے ہی کیا جاسکتا ہے کیونکہ تاریخ اسلامی کی کتب میں ایسے بہت واقعات نقل کیے گئے ہیں ، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عرب کے معاشرے میں دس سال کی عمر میں ماں بننا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی اور اس عمر میں نکاح کر نارواج کے مطابق ہی تھا ان لوگوں کے لئے یہ کوئی نئی اور حیرت کی بات نہیں تھی۔

کم سنی میں نکاح کے چند واقعات

ابوعاصم النبیل کہتے ہیں کہ میری والدہ ایک سو دس (110) ہجری میں پیدا ہوئیں اور میں ایک سو بائیس( 122) ہجری میں پیدا ہوا۔

(سیر اعلاالنبلاء جلد 7 رقم 1627) 

یعنی بارہ سال کی عمر میں ان کا بیٹا پیدا ہوا تو ظاہر ہے کہ ان کی والدہ کی شادی دس سے گیارہ سال کی عمر میں ہوئی ہوگی۔
عبداللہ بن عمر و اپنے باپ حجرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے صرف گیارہ سال چھوٹے تھے۔

تذكرة الحفاظ جلد 1ص93

وہی ہشام بن عروہ جنہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کی روایت کی ہے انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے شادی کی اور بوقت زواج فاطمہ کی عمر نو سال تھی۔

الضعفاء للعقيلى جلد 4رقم 1583، تاریخ بغداد 1/222

(4) عبداللہ بن صالح کہتے ہیں کہ ان کے پڑوس میں ایک عورت نو سال کی عمر میں حاملہ ہوئی اور اس روایت میں یہ بھی درج ہے کہ ایک آدمی نے ان کو بتایا کہ اس کی بیٹی دس سال کی عمر میں حاملہ ہوئی۔

(کامل لابن عدی جلد 5ر تم 1015)

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کی شادی نو سال کی عمر میں عبداللہ بن عامر سے سے کرائی۔

(تاریخ ابن عساکر جلد 70)۔

امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ایک واقعہ نقل فرمایا ہے کہ عباد بن عباد المهلبی فرماتے ہیں میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی نو سال کی عمر میں اس نے بیٹی کو جنم دیا اور اس کی بیٹی نے بھی نو سال کی عمر میں بچہ جنم دیا۔

(سنن دار قطنی جلد 3 کتاب النکاح رقم 3836 )

نو سال کی عمر میں ماں بننا یہی بتارہا ہے کہ ان کی رخصتی 8 سال کی عمر میں کی گئی تھی۔
اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں
میں نے صنعا میں 21 سالہ عورت کو نانی بنے دیکھا ہے، کہ ایک عورت کو 9 سال کی عمر میں حیض آیا اور 10 سال کی عمر میں اس نے ایک بچی کو جنم دیا، پھر یہ بچی بھی 9 سال کی عمر میں جوان ہوئی اور اس نے بھی 10 سالہ عمر میں ایک بچی کو جنم دیا۔

("السنن الکبری" از بیہقی (1 / 319 )

بلکہ خود حضرت عائشہ کی ترمذی شریف میں قول موجود ہے کہ

عائشة أن النبي صلى اللہ علیہ وسلم بنى بها وهي بنت تسع سنين وقد قالت عائشة إذا بلغت الجارية تسع سنين فهي امرأة

جب لڑکی 9 سال کو پہنچ جائے تو وہ عورت ہی ہے

ترمذی حدیث نمبر 1109

اس سے صاف ظاہر ہے کہ عرب میں اس وقت 9 سال کی عمر میں شادی معمول اور عرف کے مطابق تھا ، پھر یہ کہ خود عرب کی گرم آب و ہوا میں عورتوں کے غیر معمولی نشوونما کی صلاحیت ہے لہذا موجودہ دور پر اور وہ بھی عرب کے علاوہ دیگر ملکوں پر اس وقت اور اس علاقے کو قیاس کرنا کسی طور درست نہیں ہے ۔ دوسری بات کہ عام طور پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جس طرح ممتاز اشخاص کے دماغی اور ذہنی قوی میں ترقی کی غیر معمولی استعداد ہوتی ہے، اسی طرح قد و قامت میں بھی بالیدگی کی خاص صلاحیت ہوتی ہے۔اس لیے بہت تھوڑی عمر میں وہ قوت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں پیدا ہوگئی تھی جو شوہر کے پاس جانے کے لیے ایک عورت میں ضروری ہوتی ہے۔ بلکہ خود حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میری والدہ میرے جسمانی نشوونما کا خاص اسی غرض کی بنا پر خاص خیال کرتی تھیں بلکہ ٹوٹکے استعمال کرتی تھی تاکہ جلد از جلد میری رخصتی کی جائے۔
ابن ماجہ میں مروی ہے کہ

عن عائشة، قالت: كانت أمي تعالجني يدشنتة، تُريد أن تدخلني على رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:
«فما استقام لها ذلك، حتى أكلت القثاء، بالرطب، فسمنت، كأحسن سمنة«

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: میری والدہ (ام رومان زینب ) مجھے موٹا کرنے کی تدبیر کیا کرتی تھیں تاکہ میری رخصتی کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں روانہ کریں۔لیکن (کسی تدبیر سے ) یہ مقصد حاصل نہ ہوا حتی کہ میں نے تازہ کھجوروں کے ساتھ ککڑی کھائی تو انتہائی متناسب انداز کی فربہ ہو گئی۔

ابن ماجہ کتاب الاطعمه حدیث نمبر 3324
صفحہ 3 از 4