عمر عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی نو یا انیس سال ؟ تحقیقی…

عمر عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی نو یا انیس سال ؟ تحقیقی مقالہ

  ابوعمر غلام مجتبی مدنی

صفحہ 4 از 4

ایک نکتہ
اس کے ساتھ اس نکتہ کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خود ان کی والدہ نے بغیر اس کے کہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے رخصتی کا تقاضا کیا گیا ہو، خدمت نبوی ﷺ میں بھیجا تھا اور دنیا جانتی ہے کہ کوئی ماں اپنی بیٹی کی دشمن نہیں ہوتی؛ بلکہ لڑکی زیادہ اپنی ماں ہی کی عزیز اور محبوب ہوتی ہے۔اس لیے ناممکن اور محال ہے کہ انھوں نے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت واہلیت سے ان کی رخصتی کر دی ہو اور اگر تھوڑی دیر کے لیے مان لیا جائے کہ عرب میں عموماً لڑکیاں ۹/ برس میں بالغ نہ ہوتی ہوں تو اس میں حیرت اور تعجب کی کیا بات ہے کہ استثنائی شکل میں طبی اعتبار سے اپنی ٹھوس صحت کے پس منظر میں کوئی لڑکی خلاف عادت ۹/برس ہی میں بالغ ہو جائے، جو ذہن و دماغ منفی سوچ کا عادی بن گئے ہوں اور وہ صرف شکوک و شبہات کے جال بننے کے خوگر ہوں انھیں تو یہ واقعہ جہالت یا تجاہل عارفانہ کے طور پر حیرت انگیز بناکر پیش کرے گا لیکن جو ہر طرح کی ذہنی عصبیت و جانبداری کے خول سے باہر نکل کر عدل و انصاف کے تناظر میں تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہتے ہوں وہ جان لیں کہ نہایت مستند طریقہ سے ثابت ہے کہ عرب میں بعض لڑکیاں ۹/ برس میں ماں اور اٹھارہ برس کی عمر میں
نانی بن گئی ہیں۔ جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔

چھوٹی عمر میں رخصتی کی حکمت

قرآن پاک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کو بہترین نمونه قرار دیا نا صرف مسلمانوں کیلیے بلکہ تمام انسانیت کیلیے حیات مبارک کا ہر ہر پہلو مشعل راہ ہے اور تا قیامت رہنمائی کرتا رہے گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیرونی اقوال و افعال تو صحابہ کرام ہر وقت دیکھتے اور سنتے تھے، پھر دوسروں تک وہ احادیث پہنچاتے تھے، لیکن اندرون خانہ کا معاملہ مکمل طور پر اس انداز
سے محفوظ کرنے کیلیے کہ رہتی دنیا کیلیے ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ بنے کسی ایسے فرد کا ہونا ضروری تھا جو ان اعمال و اقوال کو محفوظ کرے، تجربہ اور مشاہدہ گواہ ہے کہ ذہنی استعداد کی قوت سیکھنے اور حاصل کرنے کیلیے جو سب سے بہترین عمر ہے وہ یہی 9، 10 سال کی عمر سے لیکر 18 ،20 سال کی عمر ہے اس عمر کے حصے میں انسان کا دماغ خالی لوح کی مانند ہوتا ہے عام طور پر جو چیز اس عمر میں نقش ہو جائے ساری عمر حافظے میں محفوظ رہتی ہے، اس کا مشاہدہ آپ قرآن پاک کے حفظ کرنے کیلیے بچوں کی بہترین عمر یہی ہے اس سے کر سکتے ہیں اور یہی عمر کا حصہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں گزارا جبکہ دیگر ازواج مطہرات کی عمر میں استفاده و تحصیل سے زیادہ تھی کوئی اور ایسا فرد گھر کے اندر ہونا ضروری تھا جو یہ علوم دینیہ کے خزانے کو محفوظ کر کے دوسروں تک پہنچائے، اور یقینا یہ کام ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بخوبی کیا جس کے نتائج و اثرات واضح طور پر سامنے آۓ چنانچہ

كانت عائشة أفقه الناس وأعلم الناس وأحسن الناس رأيا في العامة» 
(استيعاب على الاصابة: جلد ۴/ ص۲۵۸ ) "

حضرت عائشہ تمام لوگوں میں زیادہ سمجھدار اور سب سے زیادہ علم والی اور عام طور پر نہایت پختہ رائے رکھنے والی تھیں۔

اسی کتاب میں امام ابوالضحی سے مروی ہے کہ حضرت مسروق فرماتے تھے کہ

» رأيت مشيخة من أصحاب رسول الله من الأكابريسئلونها عن الفرائض«

"میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے جلیل القدر اصحاب کو دیکھا کہ وہ حضرت عائشہ سے فرائض کے مسائل دریافت کیا کرتے تھے"
ہشام بن عروہ کا بیان ہے کہ میرے والد مکرم فرمایا کرتے تھے

» ما رأيت أحدا أعلم بفقه ولا بطب ولا بشعر من عائشة رضي الله عنها«

" میں نے کسی کو حضرت عائشہ سے زیادہ عالم نہیں پایا۔ فقہ، طب، شعر ان میں سے کسی ایک میں بھی کوئی ان کا ہم پلہ عالم نہ تھا۔"
امام زہری جو صحابہ کرام کے حالات سے بہترین واقفیت رکھنے والے اور علم حدیث اور فقہ کے مسلمہ امام ہیں، ان کا بیان ہے کہ  

لو جمع علم عائشة إلى علم جميع أزواج النبی وعلم جميع النساء لكان علم عائشة أفضل«

"اگر حضرت عائشہ کا علم ایک پلہ میں رکھا جائے اور تمام ازواج مطہرات اور دیگر تمام عورتوں کا دوسرے پلہ میں اور یہ تمام علم سے آراستہ ہو کر آئیں تو پھر بھی حضرت عائشہ ہی کے علم کا پلہ بھاری رہے گا۔"
۔ابو بردہ اپنے والد ابوموسی روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتے تھے

» ما أشكل علينا أمرفسألناعنہ عائشۃإلا وجدناعندھافیہ علما«

"مشکل سے مشکل مسئلہ بھی حضرت عائشہ سے دریافت کیا جاتا تو اس کے متعلق بھی علم کا خزانہ ان کے پاس موجود نظر آتا تھا۔"
حاصل کلام
یہ نکاح مشیت الہی سے ہی ہوا۔
اس وقت عام طور پر اس عمر میں لڑکی بالغ ہو جاتی تھی۔
اس عمر میں نکاح عرب کے عرف و رواج کے مطابق تھا۔
یہ رخصتی نبی کریم ﷺ کے تقاضہ کے بغیر والدین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرضی کے مطابق ہوا۔
اصل حکمت دین کی ترویج تھی جس کا فائدہ تا صبح قیامت جاری رہے گا۔


سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا نبی کریمﷺ سے بابرکت نکاح (بوقت نکاح سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی عمر کتنی تھی؟ تحقیق)


صفحہ 4 از 4