سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی طبعی وفات اور جنازہ - ردِ…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی طبعی وفات اور جنازہ

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3
 طبقات ابن سعد جلد ۸ صفحہ ۱۹ تذکرہ فاطمہ طبع لیدن(یورپ)

دلیل نمبر :3

تیسری روایت امام بہیقی سے اپنی سند کیساتھ منقول ہے لکھتے ہیں کہ : 

حدثنا محمد بن عثمان ابن ابی شیبۃ حد ثناعون بن سلام حدثنا سلام بن مصعب عن مجالد عن الشعبی ان فاطمتة اماماتت دفنها علی لیلا و اخذ بضبعی ابی بکر الصديق فقدمہ یعنی فی الصلوۃ علیھا(رضوان اللہ علیہم اجمعین ) 

 ترجمہ :۔ یعنی جب حضرت فاطمہ فوت ہوئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہما نے انکو رات میں ہی دفن کر دیا اور جنازے کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر جنازہ پڑھانے کیلئے مقدم کر دیا۔

 (السنن الکبری للبیہقی موالجواهر النقی جلد ۴ صفحه ۲۹ کتاب الجنائز)

دلیل نمبر 4 :

امام محمد باقر سے مروی روایت صاحب کنز العمال نے علی امتقی الہندی نے بحوالہ خطیب ذکر کی ہے : 

عن جعفر ابن محمد عن ابیہ قال ماتت فاطمہ بنت رسول اللہ فجاء ابوبکر و عمر ليصلو افقال ابوبکر لعلی ابن ابی طالب تقدم قال ما كنت لا تقدم وانت خلیفۃ رسول اللہ قتقدم ابوبکر وصلی علیھا۔

امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے والد امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ دختر رسول اللہ فوت ہوئیں تو ابو بکر و عمر دونوں جنازہ پڑھنے کیلئے آئے تو ابو بکر نے علی المرتضی سے جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا کہ آگے تشریف لائے تو علی المرتضی نے جواب دیا کہ آپ خلیفتہ سول ہیں آپکی موجود گی میں ، میں آگے بڑھ کر جنازہ نہیں پڑھا سکتا پس ابو بکر صدیق نے آگے بڑھ کر جنازہ پڑھایا۔ 

(بحوالہ کنز العمال (خط فی رواۃ مالک) جلد ۶ صفحہ
۳۱۸(طبع قدیم روایت ۵۲۹۹ باب فضائل الصحابہ ۔ فصل الصديق مسندات علی )

حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی روایت حاضر ہے اس مسئلہ کو اس روایت نے خاصی حد تک حل کر دیا ہے :

 عن مالک عن جعفر ابن محمد عن ابیہ عن جد و علی ابن حسین قال ماتت فاطمه بین المغرب والعشاء فحضر حاابو بکر و عمر و عثمان والز بیر وعبد الرحمان ابن عوف فلما وضعت ليصلى عليها قال على تقدم یا ابا بکر قال وانت شاهد یا ابا الحسن ؟ قال نعم ! فو اللہ لا یصلی علیھا غیر ک فصلی علیھا ابو بکر (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) و دفنت لیلا
(ریاض النضرۃ فی مناقب العشره مبشر ملمحب الطبری جلد ۱ صفحه ۱۵۲ باب وفات فاطمہ ) 

دلیل نمبر 5

حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی روایت حاضر ہے اس مسئلہ کو اس روایت نے خاصی حد تک حل کر دیا ہے: 
جعفر صادق اپنے والد محمد باقر سے اور وہ اپنے والد امام زین العابدین سے روایت کرتے ہیں کہ مغرب و عشاء کے در میان حضرت فاطمۃ الزہراء کی وفات ہوئی ان کی وفات پر ابو بکر و عمر و عثمان وز بیر وعبد الرحمان بن عوف حضرات حاضر ہوئے جب نماز جنازہ پڑھنے کیلئے جنازہ سامنے رکھا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ جنازہ پڑھانے کیلئے آگے تشریف لائے اللہ کی قسم آپکے بغیر کوئی دوسرا شخص فاطمہ کا جنازہ نہیں پڑھائے گا پس ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا پر نماز جنازہ پڑھائی اور رات کو دفن کی گئیں ۔ 

(ریاض النضرۃ فی مناقب العشر و مشر محب الطبری جلد صفحه ۱۵۲ باب وفاته فاطمه ) 

دلیل نمبر 6 :

حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحفہ اثناء عشریہ کے باب مطاعن میں طعن نمبر ۱۴ کے آخر میں فصل الخطاب سے نقل کرتے ہوۓ ریاض النضرۃ کی روایت کے قریب قریب روایت ذکر کی ہے وہ بھی درج ذیل ہے 

در فصل الخطاب آورده که ابو بکر صدیق و عثمان و عبد الرحمان ابن عوف و زبیر بن عوام وقت نماز عشاء حاضر شد ند در حلت حضرت فاطمهدر میان مغرب و عشاء شب سه شنبه سوم ماه رمضان ا او بعد از ششماه از واقعه سرور جہاں بو قوع آمد ہو دوستین عمرش بست و ہشت بو د وابو بکر بموجب گفته علی المرتضی پیش امام شد و نماز بروۓ گزاشتو چہار تکبیر بر آورد۔

ترجمہ :۔ 
فصل الخطاب کے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ابو بکر صدیق و عثمان و عبد الرحمان بن عوف و زبیر بن عوام تمام حضرات عشاء کی نماز کے وقت حاضر ہوئے اور سیدہ فاطمہ کی رحلت مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی منگل کی رات تیسری رمضان شریف حضور کے چھ ماہ بعد فاطمہ کا انتقال مبارک ہوااسوقت فاطمہ کی عمر ۲۸ سال تھی علی المرتضی کے فرمان کے مطابق ابو بکر الصدیق نماز جنازہ کے لیے امام بنے اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی۔

( تحفہ اثناء عشریہ مطاعن صدیقی طعن نمبر ۱۴ صفحہ نمبر ۴۴۵( طبع نول کشور لکھنوی )

دلیل نمبر 7 :

حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں اپنی مکمل سند کیسا تھ ابن عباس سے جنازہ کی روایت کی ہے :

حضرت ابن عباس ذکر کرتے ہیں کہ نبی کریم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیر میں کہیں اور فرمایا کہ ملائکہ نے آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں تھیں اور ابن عباس مزید فرماتے ہیں کہ ابو بکر نے حضرت فاطمہ کے جنازہ کے موقع پر چار تکبیر میں کہیں اور عمر نے ابو بکر اور صہیب نے عمر پر چار تکبیریں کہیں تھیں۔

(حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصفہانہ جلد نمبر ۴ صفحه ۹۶ تذکره میمون بن مهران )

دلیل نمبر 8 :

کتاب بزل القوة في حوادث سنی النبوۃ( عربی ) مؤلفہ علامہ مخدوم باشم سندھی کے اردو ترجمہ موسومہ سیدہ سید الانبیاء متر جم (مفتی علیم الدین) کے صفحہ ۶۰۶ پر حضرت فاطمۃ الزھراء کے وصال کے ضمن میں حاشیہ میں موجود ہے کہ آپکا جنازہ حضرت صدیق اکبر نے پڑھایا۔  

(سیرت سید الانبیاء اردو ترجمہ بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ عربی صفحہ نمبر ۲۰۲ کاحاشیہ نمبر ا)

دلیل نمبر 9 :

تاریخ ابن کثیر الہدایہ والنھایه از حضرت علامہ عماد الدین ابن کثیر دمشقی اردو ترجمہ حصہ ششم صفحه ۴۴۳ پر ایک روایت مذکور ہے کہ آپکی نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیق نے پڑھائی۔ حضرت عباس اور حضرت علی کے متعلق بھی روایات موجود ہیں ۔

( تاریخ ابن کثیر اردو ترجمہ البدیہ والنھایه از امام ابن کثیر حصہ ششم صفحه ۴۴۳)

دلیل نمبر 10 :

صفحہ 2 از 3