سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی طبعی وفات اور جنازہ - ردِ…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی طبعی وفات اور جنازہ

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3

مدارج النبوت اردو ترجمہ از حضرت شیخ عبد الحق محدث دهلوی(مترجم الحاج مفتی غلام معین الدین) کے صفحہ ۵۴۴ پر موجود ہے کہ روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حضرت فاطمہ کی جنازہ پڑھائی اور حضرت عثمان بن عفان و عبدالرحمان ابن عوف اور زبیر بن العوام (رضی اللہ عنہم) بھی آئے۔

(مدارج النبوت از شیخ عبد الحق محدث دہلوی جلد دوم صفحہ ۵۴۴ مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور )

حاصل کلام:

ان دس کتابوں کی ان روایات کے بعد یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ حضرت فاطمۃ الزھرا رضی اللہ عنھا کا جنازہ خلیفہ وقت خلیفۃ المسلمین خلیفۃ الرسول جانشین سرور عالم ﷺ امام المسلمين والمومنین حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خود پڑھائی اور خود جناب حیدر کرار شیر خد احضرت مولا علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے آپکو مصلی امامت پر کھڑا کیا اور خود انکی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی۔ اس نماز جنازہ سے فقہ کے اس مسئلہ کی طرف بھی راہنمائی ملتی ہے کہ امامت کا سب سے زیادہ حقدار حاکم وقت ہے اگر وہ حاضر نہ ہو تو قاضی اور وہ بھی حاضر نہ ہو تو محلے کا امام امامت کرانے کا زیادہ حقدار ہے۔
 یہاں جن روایات میں حضرت علی و عباس کی روایات میں حضرت صدیق اکبر کو بھی شامل کیا گیا ہے اس کی تطبیق یہ ہے کہ کہ حاکم وقت کی موجودگی میں باقی افراد امامت کے اہل نہیں اور اسوقت کیونکہ صدیق اکبر موجود تھے اس لیے صدیق اکبر والی روایات کو ترجیح دی جائے گی (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) 
اے اللہ اپنے پاک محبوب ﷺ اور ان کے صحابہ واہلبیت رضی اللہ عنہم اجمعین کے صدقے اس کاوش کو قبول فرما آمین بجاہ نبی الکریم الامین سلام۔


صفحہ 3 از 3