سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھاکا جنازہ کس نےپڑھایا، کیاسیدہ…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھاکا جنازہ کس نےپڑھایا، کیاسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا ابوبکررضی اللہ عنہ سےناراض رہیں؟؟

  علامہ عنایت اللہ حصیر

صفحہ 1 از 2

سیدہ فاطمہ کا جنازہ کس نےپڑھایا؟؟

کیاسیدہ فاطمہ ابوبکرسےناراض رہیں؟؟

سوال:

شیعہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ بخاری مسلم میں ہے کہ سیدہ کا جنازہ سیدنا علی نے پڑھایا اور ابوبکر کو خبر تک نہ ہونے دی ، راتوں رات دفن کر دیا۔

جواب:

بخاری حدیث نمبر 4240 اور مسلم حدیث نمبر1759 کے تحت امام زہری کا قول ہے ناکہ حدیث کہ سیدہ فاطمہ کی وفات کی خبر ابوبکر کو نہ دی گئ اور راتوں رات دفن کیا گیا حضرت علی نے جنازہ پڑھایا

یہ امام زہری کا تفرد اضافہ و ادراج ہے امام زہری کے علاوہ گیارہ راویوں نے یہی حدیث بیان کی مگر زہری والا اضافہ نہ کیا لیھذا زہری کا اضافہ بلاسند و بلادلیل ہے جوکہ مدرج و مرجوح ہے راجح اور صحیح یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق نے جنازہ پڑھایا…علماء کا اتفاق ہے کہ بخاری مسلم میں موجود اقوال ، تفردات و تعلیقات صحیح ہوں یہ لازم نہیں..(دیکھیے نعمۃ الباری شرح بخاری7/615وغیرہ)

حوالہ نمبر 1…2 …3:

سیدنا امام مالک، سیدنا امام جعفر سیدنا امام زین العابدین جیسے عظیم الشان آئمہ سے روایت ہے کہ

عن مالك عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده علي بن الحسين ماتت فاطمة بين المغرب والعشاء فحضرها أبو بكر وعمر وعثمان والزبير وعبد الرحمن بن عوف فلما وضعت ليصلى عليها قال على تقدم يا أبا بكر قال وأنت شاهد يا أبا الحسن قال نعم تقدم فو الله لا يصلى عليها غيرك فصلى عليها أبو بكر رضى الله عنهم أجمعين ودفنت ليلا

ترجمہ:

سیدہ فاطمہ کی وفات مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی تو فورا ابوبکر عمر عثمان زبیر عبدالرحمن(وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین) پہنچ گئے، سیدنا علی نے فرمایا اے ابو بکر آگے بڑھیے جنازہ کی امامت کیجیے، حضرت ابوبکر نے فرمایا آپ کے ہوتے آگے بڑھوں؟ حضرت علی نے فرمایا جی بالکل اللہ کی قسم آپ کے علاوہ کوئی جنازہ کی امامت نہیں کرا سکتا تو سیدنا ابوبکر نے سیدہ فاطمہ کے جنازے کی امامت کرائی اور رات کو ہی دفنایا گیا

(تاریخ الخمیس1/278 الریاض النضرۃ1/176 سمط النجوم1/536)

حوالہ نمبر4،5:

ثنا محمد بن هارون بن حسان البرقي بمصر ثنا محمد بن الوليد بن أبان ثنا محمد بن عبد الله القدامي كذا قال وإنما هو عبد الله بن محمد القدامي قال مالك بن أنس أخبرنا عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده قال توفيت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلا فجاء أبو بكر وعمر وعثمان وطلحة والزبير وسعيد وجماعة كثير سماهم مالك فقال أبو بكر لعلي تقدم فصل عليها قال لا والله لا تقدمت وأنت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فتقدم أبو بكر فصلى عليها فكبر عليها أربعا ودفنها ليلا…

ترجمہ:

سیدہ فاطمہ رات کےوقت وفات پاگئیں تو فورا ابوبکر عمر عثمان طلحۃ زیر سعید اور دیگر کئ صحابہ جن کےنام امام مالک نے گنوائے سب آئے،حضرت ابوبکر نے علی سے کہا آگے بڑھیے جنازہ پڑھیے،سیدنا علی نے جواب دیا اللہ کی قسم آپ خلیفہ رسول کے ہوتے ہوئے میں آگے نہیں بڑھ سکتا پس ابوبکر آگے بڑھے اور جنازہ پڑھایا چار تکبیریں کہیں اور اسی رات دفنایا گیا

(الكامل في ضعفاء الرجال5/422,423، ذخیرۃ الحفاظ روایت نمبر2492)

حوالہ نمبر6:

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ … كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى فَاطِمَةَ أَرْبَعًا …

ترجمہ:

سیدنا صدیق اکبر نے سیدہ فاطمہ کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں

(بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث1/381)

حوالہ نمبر7:

حدثنا عبدالله بن محمد بن جعفر ثنا محمد بن عبدالله رشتة ثنا شيبان ابن فروخ ثنا محمد بن زياد عن ميمون بن مهران عن ابن عباس … كبر أبو بكر على فاطمہ اربعا

ترجمہ:

سیدنا صدیق اکبر نے سیدہ فاطمہ کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں

(حلیۃ الاولیاء4/96,)

حوالہ نمبر8:

عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده قال توفيت فاطمة ليلا فجاء أبو بكر وعمر وجماعة كثيرة فقال أبو بكر لعلي تقدم فصل قال والله لا تقدمت وأنت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم فتقدم أبو بكر وكبر أربعا

ترجمہ:

سیدہ فاطمہ رات کےوقت وفات پاگئیں تو فورا ابوبکر عمر اور دیگر کئ صحابہ کرام آئے،حضرت ابوبکر نے علی سے کہا آگے بڑھیے جنازہ پڑھیے،سیدنا علی نے جواب دیا اللہ کی قسم آپ خلیفہ رسول کے ہوتے ہوئے میں آگے نہیں بڑھ سکتا پس ابوبکر آگے بڑھے اور جنازہ پڑھایا چار تکبیریں کہیں

(ميزان الاعتدال2/488)

حوالہ نمبر9:

أخبرنا محمد بن عمر حدثنا قيس بن الربيع عن مجالد عن الشعبي قال صلى عليها أبو بكر رضي الله عنه

ترجمہ:

سیدنا صدیق اکبر نے سیدہ فاطمہ کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں

(الطبقات الكبرى8/24)

حوالہ نمبر10:

أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا.

ترجمہ:

سیدنا صدیق اکبر نے بنت رسول سیدہ فاطمہ کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں

(الطبقات الكبرى8/24)

حوالہ نمبر11 12 13 14:

وكبر أبو بكر على فاطمة أربعا

ترجمہ:

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں

البدایہ و النہایۃ1/98

اتحاف الخیرۃ2/460

حلیۃ الاولیاء4/96

کنزالعمال15/718

حوالہ نمبر15

امام شعبی فرماتے ہیں

فأخبرنا أبو عبد الله الحافظ، ثنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف بن شجرة القاضي، ثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة، ثنا عون بن سلام، ثنا سوار بن مصعب، عن مجالد، عن الشعبي أن فاطمة، رضي الله عنها لما ماتت دفنها علي رضي الله عنه ليلا، وأخذ بضبعي أبي بكر الصديق رضي الله عنه فقدمه يعني في الصلاة عليها

ترجمہ:

بےشک سیدہ فاطمہ کی جب وفات ہوئی تو حضرت علی نے حضرت ابوبکر کے کندھوں سے پکڑ کر جنازہ پڑھانے کے لیے آگے کیا اور رات ہی میں سیدہ فاطمہ کو دفنایا

(سنن کبری بیھقی روایت نمبر6896)

مذکورہ حوالہ جات میں سے کچھ یا اکثر ضعیف ہیں مگر تمام سنی شیعہ علماء کے مطابق تعدد طرق ، کثرت طرق کی وجہ سے ضعف ختم ہوجاتا ہے

صفحہ 1 از 2